تازہ ترین : 1
Leadership

لیڈر شپ

اس کے تقاضوں پر پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔۔۔پاکستان میں لیڈر شپ کے جن پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی،ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ ہماراکوئی بھی لیڈر اس کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا

غلام زہرا:
لیڈر شپ یعنی قیادت یا رہنمائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ حقیقی لیڈر اپنے معاشرے اور ریاست کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ ایک جانب عالمی سطح پر قیادت کا بحران نظر آتا ہے تو دوسری جانب پاکستان میں لیڈر شپ کے جن پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ، ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہمارا کوئی بھی لیڈر اس کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر تا۔
معروف دانشور ولیم ورڈزور تھ کا کہنا ہے کہ ایک کمزور لیڈر لوگو ں کو صرف بتاتا ہے ، ایک اچھا لیڈر تشریح کرتا ہے اور ایک بہترین لیڈر کر کے دکھاتا ہے جبکہ عظیم ترین لیڈر دوسروں کو ہر لحاظ سے متاثر کرتا ہے بااثر لیڈر خراب حالات میں بھی اپنے کردار اور صلاحیتوں سے کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔ ایسے لیڈر ہر طرح کے حالات میں مسائل کا حل نکال لیتے ہیں کیونکہ وہ مسائل کے بجائے ان کے حل پر نظر رکھتے ہے۔
با اثر لیڈڑ کی خصوصیات میں شامل ہے کہ وہ جذباتی نہیں ہوتے بلکہ معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہیں، اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ وہ سچائی اور احترام کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کی چھٹی حس بہت کام کرتی ہے۔ وہ دوسروں کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مضبوط لیڈر اپنے آپ کو قوم کا خادم کہتے ہیں۔
ایسے لیڈر حقیقت میں دوسروں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور انہیں فائدہ پہنچاتے ہیں لیکن لیڈر شپ اتنی آسان بھی نہیں ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق عام لوگوں میں بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے اور تقریباََ تمام معاشروں میں عام لوگ لیڈروں پر کبھی زیادہ اعتبار نہیں کرتے۔ لیڈر شپ بہت ہی محنت طلب اور سخت جدو جہد کی متقاضی ہے۔ تب ہی مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے تو خود لیڈر کو ذمہ داریاں قبول کرنا ہوتی ہیں۔ اپنے آپ کو تمام پہلوؤں سے کامیاب انسان بنانا ہوتا ہے، اقدار کا پاس کرنا ہوتا ہے۔ ذاتی مقبولیت کی خواہش نہیں ہوتی، اصل چیز کردار ہوتا ہے جو مخلص لیڈر شپ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ لیڈری اور ریاست حکومت پ رقبضہ کرنے اور اپنے کھاتے بھرنے کا نام نہیں ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر سیاستدان لیڈر بھی ہو۔
لیڈر شپ کے تقاضوں پر پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اعلیٰ قیادت اپنے معاشرے اور ریاست کو بدترین معاشی بدحالی اور جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیرے سے نکالنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک نئی راہ اور پہچان دیتی ہے ۔ لہٰذا قوموں کے عورج و زوال کا سبب دراصل بہترین یا بدترین قائدین ہی بنتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کائنات کے سب سے بڑے لیڈر تھے۔ آپ نے جاہلیت کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں انسانیت کے وہ اعلیٰ معایر روشن کئے کہ ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگیا۔
آپ ﷺ کی قیادت میں ایک ایسا معاشرہ اور ریاست قائم ہوئی کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد خلفائے راشدین کی قیادت اور پھر قرون اولیٰ اور وسطی کے کئی رہنماؤں نے بھی گڈ گورننس کے قابل قدر نقوش مرتب کئے اور اپنے عمل و کردار سے ثابت کر دیا کہ حقیقی قیادت کیا ہوتی ہے
علم سیاسیات کے مطابق لیڈر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو پیدائشی طرف پر ایسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہی، جن کی بنا پر وہ ایک نظریہ یا اصول وضع کرتے ہیں اور پھر اس کی بنا پر لوگوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں۔
یہ نظریہ اور اصول ہی ہے جس کی بنیاد پر ایک لیڈر قوم کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کی قیادت میں وہ قوم ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوی ہے۔ ابراہیم لنکن، قائداعظم، ماوزے تنگ اور امام خمینی جیسی شخصیات کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ کس طرح معاشی اور سیاسی لحاظ سے شکست خوردہ اور ایک منتشر زدہ سماج اور ریاست کو ان رہنماؤں نے ایک نئی راہ پر گامزن کیا۔

دوسری قسم کے لیڈر وہ ہوتے ہیں جنہیں عوام آگے لاتے ہیں اور کی صلاحیتوں کی بنا پر انہیں اپنا قائد یا راہبر تصور کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں اس کی مثالیں ذوالفقار علی بھٹو اور نیلسن منڈیلا کی ہیں۔ انہیں عام نے لیڈر تو مانا مگر وہ ناکام رہے موجودہ دور میں بھی ایسے لیڈر موجود ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو معاشی ، سیاسی اور نفسیاتی دباؤ سے نکال کر امن ، اتحاد اور خودداری سے جینے اور ترقی کرنے کا حوصلہ دیا۔
ان میں روس کے صدر پیوٹن، ایران کے احمدی نژاد، ترکی کے طیب اردگان، ملائشیا کے مہا تیر محمد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں قانون کی حکمرانی معیشت اور لیڈر شپ کے معیار کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن تاریخ اس بات کی گواہ بھی ہے کہ مذکورہ بالا شعبوں میں اعلیٰ معیار حاصل کرنے کا سارا دارومدار اہل بصیرت دانشمند اور قائدین پر ہوتا ہے۔
آج دنیا کے بیشتر ممالک میں کشیدگی، تصادم اور اندرونی انتشار میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو کہ عالمی قیادت کے فقدان کا سبب ہے۔ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپا دھاپی کی سیاست غلبہ پارہی ہے۔خود غرضی،، نفسانفسی نے انسانیت کو لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق 86فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ آج دنیا کو قیادت کے بحران کا سامنا ہے رائے دہندگان نے زوال پزیر نمائندہ جمہوریت کو دنیا کے پانچ سرفہرست رجحانات میں سے ایک قرار دیا۔
عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی تنازعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ آض دنیا میں مجموعی طور پر لیڈر شپ کا بحران ہے۔ بین الاقوامی سطح پر چیلنجوں کی پیچیدگی اور بھرمار سے نمٹنے میں عالمی گڈگورننس ادارون کی ناکامی طویل عرصے سے موضوع بحث ہے اور اس کا یہی نتیجہ نکلا ہے کہ لیڈر شپ کے تقاضے پورے نہیں ہورہے۔

وطن عزیز پاکستان کو قارداعظم اور لیاقت علی خاں کے بعد صحیح معنوں میں حقیقی لیڈر نہیں مل سکا۔ آج ملکی حالات کے پیش نظرعوام خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ لوٹ کھسوٹ، عدم تحفظ، ناانصافی کا دور دورہ ہے۔ عوام کا اداروں اور سیاسی رہنماؤں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ملکی تاریخ میں چند خاندان ہی یکے بعد دیگرے آتے جاتے رہے۔ لوٹ کھسوٹ اور آپا دھاپی کی سیاست کے بعد چہرے بدلتے رہے لیکن نظام نہ بدل سکا۔
ہر سیاسی رہنما اپنے آپ کو لیڈر کہلانے کی خواہش میں عوام کے جذبات سے کھیلتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بین اقوامی طور ر بھی ہم تنہا رہ گئے ہیں کیونکہ ہماری خارجہ پالیسی اور سفارت کاری ناکام رہی۔ وزیراعظم نواز شریف کی کوششوں کے باوجود بھارتی پارلیمنٹ میں پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے۔ حکومت افغانستان بھی دل سے پاکستان سے تعاون کرنے کو تیار نہیں۔
امریکہ کا ہر جائز و ناجائز مطالبہ پورا کرنے اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود امریکہ پاکستان پر اعتماد نہیں کرتا۔ بغور جائرہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہی ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے اپنے اندرونی و بیرونی معاملات کو پیشہ وارانہ مہارت اور سیاسی سوجھ بوجھ سے نہیں چلایا۔ اس کی ذمہ دار ملکی قیادت کے کندھوں پر تھی جس کے ہاتھوں میں ملکی اقتدار کی باگ ڈور تھی ناہل اور ناخواندہ لوگوں کو اہم قومی اداروں کا سربراہ بنا کر انہیں لوٹ مار کرنے کا اختیار دینا لیڈری نہیں۔
لیڈر وہ ہوتا ہے جو متحرک کرتا ہے، ایسے فیصلے کرتا ہے جو اس کی جماعت پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔
یہ فیصلہ قارئین خود کرسکتے ہیں کہ پاکستان میں درحقیقت کوئی لیڈر ہے یا نہیں، آپ کی جو بھی رائے ہے اُس سے سب کو آگاہ ضرورکریں۔
وقت اشاعت : 2015-01-26

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں