بند کریں
جمعرات مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قصور جنسی سکینڈل
سکول جانے والے بچوں کا مذاق اُڑایا جاتا ہے
حاجی محمد شریف مہر:
قصور حسین خانوالہ وڈیو اسکینڈل کا اجاگرکرنے والا احمدمبین غزنوی بلدیاتی انتخابات میں ن لیگ کے ایم پی اے کی بھر پور مخالفت کرنے کے باوجود بھاری اکثریت سے یونین کونسل حسین خاں والا کا چیر مین منتخب ہو گیا۔ احمدمبین غزنوی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور حسین خانوالہ وڈیو اسکینڈل کے متاثرین کا تعلق بھی بہت غریب گھرانوں سے ہے جبکہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعلق با اثر گھرانے سے تھا اسی لیے کوئی بھی ملزمان کے خلاف آواز بلند نہیں کر رہا تھا بعد ازاں ایک کے بعد ایک متاثرین نے جرات وہمت کامظاہرہ کرتے ہوئے سامنے آنے لگے جس پر احمد مبین، سلطان احمد اور دیگر افراد نے ساتھ دیا تو ان مظلوموں کے نہ صرف مقدمات درج ہونا شروع ہوگئے بلکہ ملزمان کی پکڑدھکڑ شروع ہو گئی تاہم مسلم لیگ ن کے مقامی ایم پی اے ملک احمد سعید خاں نے معاملہ میں مداخلت شروع کر کے ملزمان کو تھانوں سے چھڑوانا شروع کر دیا تو یہ کیس پولیس کے لیے ایک کٹھن امتحان ثابت ہوا کہ وہ مظلوموں کا ساتھ دین یا ایم پی اے کا مگر میڈیا کی غیر جانب دارانہ کوریج سے یہ کیس خاصی اہمیت اختیار کرگیا اور اس میں ملک کے وزیراعظم سے لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے بل واسطہ دلچسپی لینا شروع کر دی تو کسی کی بھی دال گل نہ سکی اور وڈیو اسکینڈل پر قائم جے آئی ٹی نے تمام کیس کے گواہوں ،مدعیوں اور ملزمان کے بیانات کو میرٹ پر قلم بند کیا اور اپنی سفارشات کو عدالت میں پیش کر دیا اور اب تمام ملزمان کاکیس لاہور میں دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا ہے اور جب انتخابات کا مرحلہ آیا تو متاثرین نے اپنے مدگار مبین احمد کو یونین کونسل حسین خان والا میں چیرمین کی سیٹ کے لیے کھڑا کر دیا۔
مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت اس حلقہ کی ٹکٹ ماسٹر ظفر اقبال کو دینا چاہتی تھی مگر حالات کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ ن نے ماسٹر ظفر اقبال کو آزاد کھڑا کیا اور اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ 31 اکتوبر کو ہنے والے انتخابات میں مبین احمد نے 3400 سے زائد ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ آزاد امیدوار محمد اعظم نے 2300 جبکہ ن لیگ کے حمایت ماسٹر ظفر اقبال نے صرف 1500 کے قریب ووٹ حاصل کر کے شکست کھائی ہے ۔
یہاں پر یہ بات قبل ذکر ہے کہ مسلم لیگ کی ساری مقامی قیادت مبین کے خلاف تھی۔ جبکہ مقامی ایم پی اے کو موقف دینے کا کہا تو اس نے کہہ دیا کہ میرا اس معاملے میں کوئی تعلق نہ تھا۔ اور اس نے کہا میں نے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ اس یونین کونسل میں کسی بھی امیدوار کو نہیں دیا اور نہ ہی میں نے کسی کی اس بلدیاتی الیکشن میں حمایت کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مدعیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہے یہاں تک کہ مدعی خوف کے عالم میں مجبور ہو کر گواہی دینے کے لیے بھی نہیں جا رہے ملزمان کے چچا زاد بھائی اور دیگر رشتے داروں کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ملزمان کے رشتہ داروں کا مدعیوں سے کہنا ہے ہمارے آدمی تین یا چار ماہ میں رہا ہو جائیں گے آپ لوگ ہمارا کچھ نہیں کر سکتے مدعیوں کو عدالت میں جانے سے روکا جا رہا ہے اور مدعیوں کو راستے میں روک لیا جاتا ہے ملزمان کے رشتہ داروں کا نشتر کالونی لاہور میں گھر ہے اور مدعیوں کو راستے میں روک کر دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔
اور ان کوعدالت نہیں جانے دیا جاتا۔ جب کہ متاثرین کے بچوں کا مستقبل مکمل طور پر تباہ ہو چکاہے جب متاثرین کے بچے سکول جاتے ہیں تو ملزمان کے عزیز واقارب ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں جبکہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ بچوں کو بہتر سے بہتر سہولیات اور ان کو تحفظ فراہم کیا جائے گا لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہے ۔ متاثرہ بچوں کے والدین نے وزیراعظم نواز شریف سے التجا کی ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے ہمیں انصاف نہیں مل سکا ، ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوچا جاے اور بچوں کے مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بہتر سے بہتر اقدامات کیے جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-22

(1) ووٹ وصول ہوئے