بند کریں
جمعرات مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جشن آزادی اور سوشل میڈیا
یاد ہے مجھے وہ زمانہ جب ہم اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی امی ابو سے ضد کر کے جھنڈیاں اور بیجز منگواتے اور 13اگست کی ساری رات ان جھنڈیوں کو ایک سفید دھاگے میں مالا کی صورت گلو یا آٹے کے ساتھ ترتیب وار چپکا کر چھت اور دروازے کے ساتھ باندھتے
شاذیہ سعید:
یاد ہے مجھے وہ زمانہ جب ہم اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی امی ابو سے ضد کر کے جھنڈیاں اور بیجز منگواتے اور 13اگست کی ساری رات ان جھنڈیوں کو ایک سفید دھاگے میں مالا کی صورت گلو یا آٹے کے ساتھ ترتیب وار چپکا کر چھت اور دروازے کے ساتھ باندھتے اور دیواروں کو جھنڈیوں سے بھر دیتے۔14اگست کا سورج طلوع ہوتے ہی ایک لمبے سے بانس سے بڑا سا جھنڈا لگا کر سب سے اوپر کی چھت پر لگاتے اور دوسری چھتوں کا طائرانہ جائزہ لیتے کہ کہیں ہمارے جھنڈے بڑا کسی اور جھنڈا تو نہیں اگر ہوتا تو مزید بانس لگا کر اپنے جھنڈے کو اونچا کرتے اور جاکر والدین سے شکائت کرتے کہ فلاں کا جھنڈا ہمارے سے بڑا ہے اگلی بار ہمیں اس سے بڑا جھنڈا چاہیے۔
ہمیں سختی سے تاکید کی جاتی کہ ”دیکھو طلوع آفتاب کے بعد جھنڈا چھت پر لہرانا ہے اور غروب آفتاب سے قبل اسے اتار لینا ہے نہیں تو اسکی بے ادبی ہوتی ہے۔“ یہ بات ہمارے والدین کے علاوہ ٹیچرز اور سب سے بڑھ کر پی ٹی وی پر چلنے والی نشریات سے ذہن نشین ہو جاتی تھی۔ شام ہوتے ہی جوش اور ولولہ اپنے جوبن پر ہوتا لیکن یہ کیا پہلے تیز ہوا اور پھر بارش ہماری لگائی جھنڈیاں اپنے ساتھ اڑا کر لے جاتی۔
حالانکہ صبح اٹھتے ہی اللہ سے بارش نہ ہونے کی کتنی عائیں مانگی تھیں۔ اس وقت ہمارے نذدیک جشن آزادی کا مطلب ڈھیر ساری جھنڈیوں سے گھر کو سجا نا اور اونچا جھنڈا لگانا اور کپڑوں پر دل کی جانب پاکستان کے جھنڈے نما بیج لگانا ہوتا تھا۔ جشن آزادی منا کر اگلے روز جب سکول جاتے تو سارے کلاس فیلوز اکٹھے ہو کر ٹیچر کے کلاس میں آنے سے قبل بیتی روداد سناتے اوربارش کی بات پر خوب لوٹ پوٹ ہوتے۔
یوں گزرتا تھا ہمارا یوم آزادی جس کے بابت ہم ابو سے ٹیچر ز سے قصے سنتے کہ ہمارے بزرگوں نے کتنی قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا تھا۔ اس وقت دل ملی جذبے سے بھر جاتے اور خاص طور پر جب ”دل دل پاکستان“ نغمہ ہر گھر میں سپیکرز کے کان پھاڑتا ہوا سنائی پڑتا تو مزا ہی دوبالا ہو جاتا۔اگر اس وقت اور آج کی بات کریں تو جناب آج کل ہم جشن آزادی گھروں کو سجا کر نہیں بلکہ اپنے سو شل نیٹ ورکنگ سائٹس کے والز سجا کر مناتے ہیں۔
سوشل میڈیا آج کل ہر گھر کی یوں زینت بنا ہے جیسے کوئی فیملی ممبر ہو ، جو پاس نہ ہو تو زندگی ویران سی لگنے لگتی ہے اور کچھ سجھائی ہی نہیں پڑتا۔ ہم آج کل جش آزادی بھی گھروں ، دفتروں اور کالج ز کی لابی میں بیٹھ کر اپنے پروفائل پیکچرز پر پاکستان کا جھنڈا لگا کر اور کور پر یوم آزادی سجا کر مناتے ہیں۔ جب سوشل میڈیا پر یوم آزادی منانے کی بات کر رہے ہیں تو سوچا کیوں نہ ان فعال ارکان سے ہی یوم آزادی اور سوشل میڈیا کی اہمیت اورنوجوانوں میں ملی جذبے کے حوالے سے بات چیت کی جائے تو انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا۔
۔۔! احمد حماد جو کہ معلم اور صحا فی ہیں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ قومی حوالے سے دیکھا جائے تو 14اگست آزادی جیسی بیمثال نعمت کی اہمیت اجاگر کرنے کا ہمیں ایک موقع دیتا ہے تاکہ اس روز ہم یہ جان سکیں کہ ہمارے بزرگوں نے خون اور آگ کا دریا صرف آزادی کی خاطر کیوں پار کیا۔ رہی بات سوشل میڈیا کی تو میڈیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا تک ہر اس انسان کی رسائی ہے جو سمارٹ فونز استعمال کرتا ہے۔
کہا جائے تو سوشل میڈیا اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویڑن کا امتزاج ہونے کے باعث انتہائی پر اثر ہے۔ سوشل میڈیا نوجوانوں میں ملی جذبہ اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آج کل کے نوجوان اسی میڈیم کے باعث زیادہ پر جوش نظر آتے ہیں کیونکہ وہ صرف اپنی ڈی پیز ہی تبدیل نہیں کرتے بلکہ اپنے وطن سے یکجہتی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
قومی پرچم کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں۔ خود میں بھی سوشل میڈیا پر پرچم کی ڈی پی لگا کر اپنی نظم بھی شئیر کرتا ہوں اور قائد اعظم کے پر جوش بیانات ٹیوٹ کرتا ہوں اور یوں میں اپنے ملک سے محبت کا اظہار کرتا ہوں۔گورمنٹ افسر مقتدر سید نے بتایا کہ ہم سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو آزادی کی مبارک بعد دیتے ہیں تصاویر تبدیل کرتے ہیں اور اپنا قومی پرچم نمایا کرتے ہیں۔
جہاں تک ملی جذبے کی بات ہے تو میرے خیال میں وہ کم ہو گیا ہے کیونکہ ہم صرف مسیجز کے ذریعے ہی آزادی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ اس دن کی جتنی اہمیت ہے سوشل میڈیا اسے اسقدر اجاگر نہیں کر رہا۔ اس دن کے حوالے سے ویوڈوز بنانی چاہیے ڈاکو مینٹریز بنانی چاہیے۔ مصنف علی عثمان باجوہ نے کہا کہ 14اگست ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ آج کل کے تیز رفتار دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت اور کردار بہت زیادہ ہے۔
نوجوانون کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر ہے اسی لئے 14اگست کے حوالے سے فیس بک ،ٹیوٹر اور دیگر میڈیمز بھی آزادی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ مختلف ملی نغمے سننے کو ملتے ہیں۔ ادکارہ و ماڈل نازیہ علی نے اس حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ہمارے آباو اجداد نے پاکستان بہت سی قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا اسی لئے میں چاہتی ہوں کہ ہم خواہ کسی بھی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہوں اپنے وطن سے محبت کا اظہار کھل کر کریں اور اب تو سوشل میڈیا تک ہر کسی رسائی ہے چنانچہ جہاں اسکے منفی اثرات ہیں وہیں بہت سے مثبت پہلو بھی ہیں جیسے کہ جشن آزادی منانا اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنا۔
مارکیٹنگ ہیڈ میسون ضمیر نے کہا کہ 14اگست ہماری پہچان ہے یہ دن نہ ہوتا تو ہم نہ ہوتے ۔سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہماری نوجوان نسل اپنے ملک کے بارے میں ان حقائق سے بھی واقف ہوتی ہے جو ہم انہیں نہیں بتا پاتے۔ مصنف سطوت نظامی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ہر دن کی طرح اس دن بھی ہم پروفائل پکچر پر پاکستانی پرچم کی تصویر آویزاں کرتے ہیں اگر میں کہوں تو سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے نوجوانوں میں جذبہ حب الوطنی اجاگر ہو رہا ہے توبیجا نہ ہوگا۔ صحافی عاطف محمود نے کہا کہ 4اگست کی ہماری زندگی میں بہت اہمیت ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اسکی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-12

(0) ووٹ وصول ہوئے