تازہ ترین : 1
IT Ki Dunya K Choroon KO Pakarne Waloon Ki Mang Bharne Lagi

آئی ٹی کی دنیا کے چوروں کو پکڑنے والوں کی مانگ بڑھنے لگی

انٹرنیٹ کی دنیا پر ہر شے نرالی پائی جاتی ہے، جہاں اس دنیا کے رنگ ڈھنگ مختلف ہیں وہیں یہاں چور بھی نرالے پائے جاتے ہیں اور ان چوروں سے اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے کیلئے ادارے وائٹ ہیٹ ہیکرز جنہیں دوسری زبان میں Ethical Hackers بھی کہا جاتا ہے انہیں تربیت دیتے ہیں

سدرہ کوثری
انٹرنیٹ کی دنیا پر ہر شے نرالی پائی جاتی ہے، جہاں اس دنیا کے رنگ ڈھنگ مختلف ہیں وہیں یہاں چور بھی نرالے پائے جاتے ہیں اور ان چوروں سے اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے کیلئے ادارے وائٹ ہیٹ ہیکرز جنہیں دوسری زبان میں Ethical Hackers بھی کہا جاتا ہے انہیں تربیت دیتے ہیں۔ اب آپ سوچیں گے کہ چور کو چوری سے چور ہی روکتے ہیں ، یہ کیا منطق ہوئی۔
تو جناب انٹرنیٹ کی دنیا ہے ہی ایسی منفرد اور عجوبوں سے بھرپور۔ جہاں ایک کلک پر ساری دنیا کی معلومات آپ کے سامنے ہوتی ہیں وہیں آپ کی معلومات بھی محفوظ نہیں۔ایتھیکل ہیکرز کو دنیا کی سب سے زیادہ مانگ والی نوکریوں میں شمار کیا جا تا ہے اور حال ہی میں عالمی شہرت یافتہ میگزین Fortune نے بھی ایک سروے شائع کیا جس میں ایتھیکل ہیکرز کی نوکری کی دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ مانگ تھی۔
جدید دور کے تقاضے ہیں کہ آئی ٹی کا دنیا بھر میں بول بالا ہے اور اس شعبے سے متعلقہ پیشوں میں بھی دن بدن انواع و اقسام کی تبدیلیاں آتی جا رہی ہیں۔ ان ہی تبدیلیوں کے پیشِ نظر اس شعبے کے سربراہان نے جان لیا ہے کہ انہیں اپنا قیمتی ڈیٹا چوری سے بچانے کیلئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس کے تحت وہ ان شاطر چوروں (ہیکرز) سے نمٹ سکیں۔ ناجائز طور پر کسی کے کمپیوٹر سے ڈیٹا چرانے والے کو بلیک ہیٹ ہیکرز جبکہ جائز اور اجازت لے کر کسی کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرنے والوں کو وائٹ ہیٹ ہیکرز کہتے ہیں۔
وائٹ ہیٹ ہیکرز جنہیں ایتھیکل ہیکرز بھی کہا جاتا ہے دو طریقوں سے بنا جا سکتا ہے۔ ایک کسی ادارے سے باقاعدہ سرٹیفائیڈ کورس کر کے یا پھر خود ہی اس کورس کی تیاری کر کے جس کیلئے آئی ٹی سکیورٹی سے متعلق تجربہ ہونا لازمی ہے۔ ان ایتھیکل ہیکرز کو چار گھنٹے کا ایک امتحان دینا ہوتا ہے جسے پاس کرنے کے بعد وہ سرٹیفائیڈ ایتھیکل ہیکرز بن جاتے ہیں اور انہیں فوج سے لیکر قومی اہمیت کے حامل سرکاری و نیم سرکاری ادارے اپنے ڈیٹابیس کی حفاظت کیلئے مامور کرتے ہیں۔
ایک ایتھیکل ہیکر سالانہ پچاس ہزار ڈالر سے لیکر ایک لاکھ ڈالر تک کما سکتا ہے اور اگر وہ فری لانس کنسلٹنسی فراہم کرے تو یہ رقم ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ بنکوں ، سرکاری اداروں، سکیورٹی اداروں سمیت دیگر اہم اداروں کو اپنا ڈیٹا محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ یہ ایتھیکل ہیکرز اس سسٹم کی کمزوریوں اور خامیوں کو سیکھتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں کہ اس سسٹم سے ڈیٹا چوری ہونا آسان ہے یا نہیں۔
اس کیلئے ان کے پاس باقاعدہ اجازت نامہ ہوتا ہے اور اگر وہ اس سسٹم کو ہیک کر پائیں تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور بھی اسے ہیک کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ان سسٹمز کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جاتا ہے تاکہ ڈیٹا کو محفوظ بنایا جا سکے۔موجودہ زمانے میں ہونے والی بنکوں کی چوریوں میں ہیکنگ کا بہت بڑ اہاتھ ہے اور اس مقصد کیلئے ایتھیکل ہیکرز کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے جو ان سسٹمز کو محفوظ بنا سکیں۔
پاکستان جہاں اس وقت کئی اندرونی و بیرونی مسائل کا شکار ہے وہیں ہم پاکستانیوں کے ٹیلنٹ کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں اب تک ایسے کئی کم عمر آئی ٹی پروفیشنلز سامنے آئے جن کے ٹیلنٹ کو دیکھ کر دنیا حیران ہو گئی۔ ایسا ہی ایک کارنامہ گذشتہ دنوں لاہور کے دو بہن بھائیوں نے کر دکھایا ہے۔چودہ سالہ مسفیرا اعجاز اور ان کے نوسالہ بھائی محمد احمد نے کر دکھایا ہے۔
اس مشکل ترین ٹیسٹ کو کم عمری میں ہی پاس کر کے مسفیرا دنیا کی سب سے کم عمر ترین سرٹیفائیڈ ایتھیکل ہیکر بچی اور ان کا بھائی جس کی عمر نو سال ہے سب سے کم عمر ترین سرٹیفائیڈ ایتھیکل ہیکر بن گئے ہیں۔اگر کم عمری سے ہی بچوں کو آئی ٹی کی تعلیم دی جائے اور ان کے والدین کو ان نئے پیشوں کے متعلق معلومات دی جائیں تو پاکستانیوں کی بڑی تعداد ملک میں اور ملک سے باہر اپنے ٹیلنٹ کی بدولت باعزت روزی بھی کما سکتی ہے اور ملک کا نام بھی روشن کر سکتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-04-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں