تازہ ترین : 1
israel Haram al sharif ke kareeb Trump Station Banaye Ga

اسرائیل حرم الشریف کے قریب ’ٹرمپ ٹرین سٹیشن ‘بنائے گا

نیتن یاہونے اقوام متحدہ کو جھوٹ کا گڑھ قرار دے دیا․․․․․ گوئٹے مالا کا اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان

رمضان اصغر:
اسرائیل کے وزیر ٹرانسپورٹ یروشلم کے قدیم شہر تلے زیر زمین ریلوے ٹریک بنانا چاہتے ہیں اور مغربی دیوا کے قریب سٹیشن کو ”ٹرمپ سٹیشن“ کا نام دینا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حوالے سے اعزاز دینا چاہتے ہیں۔ مغربی دیوار وہ مقدس مقام ہے جہاں یہودیوں کو عبادت کی اجازت ہے ۔
مجوزہ ٹریک اور سٹیشن تیل ابیب سے آنے والی ہائی سپیڈ ٹرین سے منسلک ہوگا اور آئندہ سال اس کا افتتاح متوقع ہے ۔ واضح رہے کہ یروشلم میں اس کمپاؤنڈ کو مسلمان حرم الشریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کمپاؤنڈ کی مغربی دیوار کے باہر اکثر یہودیوں کی عبادت میں مصروف تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں۔ ماضی میں اس کے زیرِ زمین کام کرنے فلسطینیوں نے احتجاج کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے یروشلم کے قدیم شہر اور اس کمپاؤنڈ کو عالمی ورثہ قرار دیا ہوا ہے ایک مقامی اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ تیل ابیب کی ٹرین لائن میں یہ اضافہ وزارتِ ٹرانسپورٹ کا اہم قومی پروجیکٹ ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیاتھا جس کے بعد عالمی برادری نے اس فیصلے پر منفی ردِ عمل ظاہر کیا ۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرار داد منظور کرلی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔ قرار داد کے حق میں128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرار داد کی مخالفت کی ۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ، ’باطل اور کالعدم ‘ہے اس لیے منسوخ کیا جائے۔
یہ دنیا کا واحد شہر ہے جیسے یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی۔ مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے۔ مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہر میں واقع مسجد اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کے تھی ۔
یہی وجہ ہے ہے کہ مسلمان اور مسیحی ایک ہزار برس تک اس شہر پر قبضے کے لئے آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔ فلسطینی اور اسرائیلی تنازعے کے مرکز میں قدیم یروشلم شہر ہی ہے یہاں کے حالات میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے ملک کے متعدد بڑے شہروں تبدیلی بھی کئی بار تشدد اور بڑی کشیدگی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یروشلم میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اہم ہوجاتا ہے۔
یہ شہر نہ صرف مذہبی طورپر اہم ہے بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ زیادہ تر اسرائیل یروشلم کو غیرمنقسم اور بلا شرکت غیرے اپنا پرسنہ دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل کا ایک ملک کے طور پر سنہ 1948ء میں قیام عمل میں قائم کیا گیاتھا۔ جبکہ سنہ پارلیمنٹ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر بھی قبضہ کرلیا ۔ اس کے ساتھ قدیمی شہر بھی اسرئیل کے قبضے میں آگیا لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
یروشلم پر اسرائیل کی مکمل حاکمیت کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ جس پر اسرائیلی رہنما اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ فلسطینیوں کا موقف اس بارے کے برعکس ہے ۔ وہ مشرقی یروشلم کو مستقبل کا اپنا دارالحکومت کہتے ہیں۔ اور اسرائیلی اور فلسطینی کے درمیان امن مذاکرات میں اس پر رضا مندی کی بات بھی شامل ہے۔ کوئٹے مالا کے صدر جمی موریلس نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا ہے خیال رہے کہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرار داد منظور کی تھی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے ۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کی یروشلم سے متعلق قرار داد واپس لے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی یروشلم سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے فقط ساتھ ممالک میں سے ایک گوئٹے مالا بھی تھی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے مخالفت کرنے والے ممالک کو امداد بندکرنے کی دھمکی دی تھی۔وسطی امریکہ کے غریب ملک گوئٹے مالا کا امداد دینے والے اہم ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔
اپنے بیان میں صدر مویلس نے کہا کہ انھوں نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے پہلے ضروری اور متعلقہ اقدامات کرلیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوئٹے مالا اسرائیل کا دیرینہ دوست ہے۔اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ معلّی نے یروشلم کو اسرائیل دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف جنرل اسمبلی میں قرار داد منظور ہونے کے بعد کہا تھا کہ امریکہ کو ایسا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔
سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے12ملکوں کی فہرست میں اسرائیل کے علاوہ ایک بھی ملک ایسا نہین جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف پیش ہونے والی قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا ہو۔ امریکی دفترِ خارجہ کی طرف سے کانگریس کو سال 2018 کے بجٹ کے لیے بین الاقوامی امداد کے بارے میں جو درخواست دی گئی ہے اس کے تحت اسرائیل بدستور امریکی امداد وصول کرنے والے والے ملکوں کی فہرست میں اول نمبر پر ہے۔
اسرائیل کے بعد ملکوں میں سب سے زیادہ امداد مصر کودی جاتی ہے جو اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرار داد کا محرک بھی تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے بارے میں قرار داد پیش ہونے سے قبل امریکی سفیر نکی ہیلی نے اقوام متحدہ کے 193 ملکوں میں سے ایک سو اسی ملکوں کو خطوط ارسال کیے تھے جس میں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
نکی ہیلی کی طرف سے سفارتی آداب سے ہٹ کر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ جو ملک امریکی امدادوصول کرتے ہیں ان کی طرف سے قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جانے کی صورت میں امداد پر نظر ثانی بھی کی جاسکتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کتنی کارگر ثابت ہوئی اور کون سے ایسے ممالک ہیں جن پر امریکی دھمکی کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 35 ملک جنھوں نے مذکورہ قرارداد پر ہونے والی رائے شماری میں شرکت نہیں کی ان میں صرف یوگنیڈا ایسا ملک ہے جو سب سے زیادہ امریکی امداد وصول کرنے والے ملکوں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے۔
کنیا اور زیمبیا بھی امداد وصول کرنے والے ملکوں میں ہے اور یہ دونوں ملک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ اسرائیل کو اور دنیا کے دیگر ملکوں دی جانے والی ملکوں امداد کی ترسیل کے طریقہ کار میں بہت واضح بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ کانگریس سے منظوری کے بعد اسرائیل کو دی جانے والی امداد امریکہ میں اسرئیل حکومت کے کھاتوں میں منتقل کردی جاتی ہے اور اسرائیل کی حکومت کو اس بارے میں بھی پورا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے جہاں چاہے اور جس مد میں چاہے استعمال کرے۔
امداد کی رقم ملنے والے سود بھی اسرائیل حکومت کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف دنیا کے دیگر ملکوں کو اس نوعیت کی رعایت اور سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ امدادی رقم امریکی حکومت کے اکاؤنٹس میں ہی رہتی ہے اور امداد وصول کرنے والی حکومتیں امریکی انتظامیہ کی مرضی اور منشا سے پہلے متعین کردہ مدوں میں ہی اس رقم کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی جاتی ہے جس کے بعد مصر کا نمبر آتا ہے جس کو وصول ہونے والی سالانہ امداد ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے ڈالر قریب ہے۔ یہ امداد مصر کو سنہ 1978 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے بغیر کسی تعطل کے مل رہی ہے۔
وقت اشاعت : 2018-01-09

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں