تازہ ترین : 1
Iqwame Muthida 72 Baras me Kashmir wa Falsteen ka tanziya

اقوام متحدہ 72 برس میں کشمیروفلسطین کا تنازعہ حل کروانے میں ناکام رہی

دُنیا میں امن قائم کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے․․․․․․ بھارت اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی دھجیاں اڑا کررکھ دیں

رابعہ عظمت:
دوسری جنگ عظیم کی ہولناک بربادیوں اور لیگ آف نیشنز کی ناکامی کے بعد عالمی سطح پر ایسے ادارے کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو دنیا میں امن وامان کے قیام کو یقینی بنا سکے، اقوام عالم کے تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے میں معاون ثابت ہو اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے بچایا جاسکے۔
ایسے میں اقوام متحدہ 29 اکتوبر1945ء کو معرض وجود میں آئی۔ آج 2017ء میں اس عظیم ادارے کے قیام کو 72 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ اپنے سابقہ اداروں کی طرح ناکام تو نہیں ہوئی لیکن امریکی وصہیونی طاقتوں کی آلہ کاربن کر رہ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 72 برسوں میں یونائیٹڈ نیشنز آرگنائزیشن جیسا عظیم ادارہ موثر کردار ادا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
بلکہ دیرینہ تنازعات برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ نئے مسائل کا شکار ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ کی ناکامی کا واضح ثبوت کشمیر اور فلسطین جیسے اہم مسائل کا حل نہ ہونا ہے۔ قابض اسرائیل اور بھارت نے گزشتہ 72 برسوں میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں جس کے باعث یہ خطے بدامنی کی دلدل میں بری طرح دھنس چکے ہیں امریکہ، اسرائیل اور بھارت نے اقوام متحدہ کے سامنے قیام امن کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی کیں کہ یہ معتبر عالمی ادارہ اپنی ساکھ بحال نہ رکھ سکا۔
قیام امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں اقوام متحدہ کی ناکامی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی دنیا کے 16 خطوں میں امن نہ ہوسکا اور اقوام متحدہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تاہم 72 برسوں کے دوران اقوام متحدہ کے 3553 اہلکار اپنی جانیں دے چکے ہیں اور ابھی بھی ایک لاکھ 14 ہزار اہلکار دنیا کے دیگر علاقوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کی یہ واضح مثال ہے کہ دنیا کی ایک ارب کے قریب آبادی خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جس کے باعث82 کروڑ افراد دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ اگر ایک طرف غربت کے باعث خوراک دینا اہم مسئلہ ہے تو دوسری جانب پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی اقوام متحدہ کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔
اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی 50 فیصد آبادی خوراک کیلئے استعمال ہونے والے تیل اور گھی تک رسائی نہیں رکھتی جس کے باعث مختلف النوع بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ افسوس 21 ویں صدی کے جدید ترین دور میں عالمی آبادی کا 15 فیصد حصہ انتہائی بنیادی ضروریات سے ہنوز محروم ہے۔ جس کی بدولت یہ خطے آج بھی قدیم دور کی عکاسی کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ بچوں کی بنیادی ضرورت تعلیم کو پورا کرنے میں بھی ناکام رہا جس کی وجہ سے آج بھی عالمی سطح پر ہر 12 واں بچہ چائلڈ لیبر کا حصہ ہے۔
جب اپنے قیام کے فوری بعد اقوام متحدہ نے ” It's your world“ کا نعرہ بلند کیا تو بہت سے غریب ممالک کے نادان سربراہوں نے یہ سمجھ لیا کہ شاید ہمارا واقعی کوئی سرپرست آگیا ہے جو دنیا میں ان کا حق انہیں دلوائے گا۔ لیکن حقیقت میں نعرہ صرف طاقتور قوتوں کیلئے تھا اور اب اقوام متحدہ ان طاقتور قوتوں کا ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کی مدد سے انہوں نے مسلم ملکوں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔
شام ‘ عراق‘ لیبیا اور افغانستان کے حالات اس کی واضح عکاسی کرتے ہیں جبکہ وطن عزیر بھی ان قوتوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں، ان کے نشانہ پر ہے۔ برما کے مظلوم مسلمانوں کی ہولناک صورتحال سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کو صرف مسلمانوں کی بربادی کے لئے تشکیل دیا گیا۔ وگرنہ میانمار کے بے بس و مظلوم مسلمان اپنی سرزمین سے یوں بیدخل بے سروسامانی کی حالت میں دربدر نہ ہوتے ۔
میانمار کے لاکھوں مسلمان محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ وحشی ودرندہ صفت برمی فوجیوں اور مسلمانوں کے قاتل بودھوؤں سے اپنی زندگی بچانے کے لئے خطرناک جنگلوں ، دلدلوں کو پارکرہے ہیں اور سینکڑوں سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوچکے ہیں ۔ افسوس اقوام متحدہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ جمہوریت کی علمبردار سوچی کو مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کی کھلی چھٹی دیدی گئی ہے۔
فلسطین کے علاقوں اور خاص طور پر بیت المقدس کے گردونواح میں یہودی بستیوں کی تعمیر قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن اقوام متحدہ عالمی برادری حقوق انسانی کی پامالی پر خاموش ہیں اور جس دن سے فلسطین کے مظلوم لوگوں نے اپنی حریت اور مقدسات کے تحفظ اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنا شروع کی تو عالمی برادری کو ان سے دہشت گردی کا خطرہ لاحق ہوگیا اور ایک سازش کے تحت دہشتگردی کا لیبل امت مسلمہ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔
طاقت کے فلسفہ پر قائم اس ناجائز ریاست کے ظلم وستم کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ 1941ء میں فلسطین میں رہنے والے یہودیوں کی تعداد صرف80 ہزار تھی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو عالمی برادری نے فلسطین کی تقسیم کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد 1967ء میں پھر ایک جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجہ میں یہودی تمام فلسطین پر قابض ہوگئے اور وہاں کے مقامی فلسطینیوں کو انہی کے ملک سے بے دخل کردیا گیا۔
1967ء میں مصرسے غزہ کی پٹی چھیننے کے علاوہ یہودیوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے قبلہ اقل بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور اس کا نام یروشلم رکھ دیا ۔ تاحال فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے عالمی ادارے نے اسرائیل کو لگام ڈالنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی بلکہ اسے فلسطینیوں کو اذیتیں پہنچانے میں عالمی سرپرستی حاصل ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی فلسطین سے مختلف نہیں ۔ بھارتی قابض افواج نے کشمیر کے چپے چپے کو چھاؤنی بنا رکھا ہے ۔ کشمیری گزشتہ 70 برسوں سے اپنے حق آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں مگر اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے منظور کروائی گئی قرارداد پر عملدرآمدکروانے میں ناکام ہوچکا ہے ۔ ادھر بھارت اپنی روایتی ہٹ دھر می پر قائم ہے ۔ نہتے کشمیری ہاتھوں میں سنگ اٹھائے اسرائیلی ساختہ مہلک ہتھیاروں سے لیس درندہ صفت بھارتی افواج کے خلاف برسر پیکار ہیں۔
مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتوں نے کشمیر کے معاملے میں چُپ سادھ رکھی ہے۔ ہاں اگر بھارت نے آزادی کا حق مانگنے والے مسلمان نہ ہوتے تو شاید انہیں برہمن سے نجات دلا دی جاتی ۔لیکن کشمیریوں کو مسلمان ہونے کی سزادی جارہی ہے۔ افغانستان میں ڈرون طیاروں کے حملے، امریکی افواج کی بربریت وہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ امریکی نیٹو افواج نے مسلمان ممالک میں ظلم روا رکھا۔
کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال سے انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا اس کی تلافی ممکن نہیں۔ وہاں اقوام متحدہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام دیتی ہے معاملہ اگر مشرقی تیمور کا ہو، برطانیہ سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے سکاٹ لینڈ کا ہو۔ اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کہ اقوام متحدہ 72 برس میں کشمیر کا تنازعہ حل کرانے میں ناکام رہی۔ کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا ادارہ 1945 ء میں بین الاقوامی تنازعات کے حل اور عالمی تعاون کے فروغ کیلئے بنا تھا جس نے کشمیر کے بارے میں متعدد قراردادیں منظور کررکھی ہیں۔
تاہم 7 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ان پر عملدرآمد نہ کرواسکا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے یہ قراردادیں منظور کرکے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ انہیں خود کرنے کا موقع دے گا لیکن بعد میں وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔ بھارتی فورسز 1989 ء سے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کو شہید کر شکی ہیں جن میں ہزاروں افراد کو جعلی مقابلوں میں یاحراست میں شہید کیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران حریت رہنماؤں اور کارکنوں سمیت 18 ہزار 531 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 804 افراد پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیا۔ پندرہ سو سے زائد خواتین کی برحرمتی کی گئی۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے آخر اقوام متحدہ کیا کررہی ہے۔؟
وقت اشاعت : 2017-11-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں