تازہ ترین : 1
Hub Ul Watni Ka Taqaza Bhoke Rahoo

حب الوطنی کا تقاضہ ۔۔ بھوکے رہو

حکومت تمام بھوکوں کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔۔۔۔۔ اگر کوئی جمہوری حکومت عوام کوبھوکوں ماردیتی ہے تو یہ کوئی جرم نہیں ہوتا کیونکہ پیشہ ور سیاستدانوں کو ایک خاص قسم کا استثنیٰ حاصل ہوتا ہے

محمد نعیم :
عوام کے پیٹ اُسی صورت میں بھر سکتے ہیں جب حکمرانوں کے پیٹ مزید بھرنے کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ حکمرانوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اُنہیں ملک چلانا ہوتا ہے اسلئے ضروری ہے کہ اُن کی توانائی بحال رہے اور وہ خو اسلوبی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں ۔ یہ ”کارخیر“ عوام سے قربانی کا مطالبہ کرتا ہے وہ حُب الوطن ہونے کا ثبوت دیں خود بھوکوں مریں تاکہ حکمران زندہ رہیں۔

اگر کوئی جمہوری حکومت عوام کوبھوکوں ماردیتی ہے تو یہ کوئی جرم نہیں ہوتا کیونکہ پیشہ ور سیاستدانوں کو ایک خاص قسم کا استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اور یہی استثٰنی اُسے عوام کو بھوکا مارنے کا اختیار عطا کرتا ہے ہے ۔ ملازمتوں پر پابندی کی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے والے اسے کسی غریب ملک کی معیشت کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ چونکہ حکومت تمام بھوکے پاکستانیوں کے پیٹ نہیں بھرسکتی اسی لیے زیادہ ترکوجذبہ قربانی وحب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھوکا رہنا ہی پڑتا ہے تاکہ باقی چند لوگوں کا پیٹ پھٹنے کی حد تک بھرا رہے ۔
لیکن کبھی کبھار یہ بھوکے ناہنجار چلا اُٹھتے ہیں کہ ”کیا دوسرے لوگ محب وطن نہیں ہیں اُنہیں بھی تو ہمارے ساتھ بھوکا رہنا چاہیے۔ “ ان معترض ہونے والے عاقبت نا اندیشوں کو خبر ہونی چاہیے کہ بھوکا رہنا یا مرنا صرف اور صرف عوام کا فرض ہے حکمرانوں یا سیاستدانوں کا نہیں۔
پاکستان میں ہر پابندی بیروزگاروں کو متاثر کرتی ہے۔ پابندی عائد کرنے والے تو بس تماشا دیکھتے اور محفوظ ہوتے ہیں۔

حکومت جب بھی بچت کرنے کا سوچتی ہے تو اسکے سامنے ایک ہی طریقہ ہوتا ہے کہ نچلے درجے کی ملازمتوں کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت پر کبھی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ہمارے قومی خزانے کو ویسے ہی جہازی سائز کا بینہ بہت اچھی لگتی ہے لیکن نچلے درجے کی ملازمتوں کی فراہمی کے ذکر سے بھی قومی خزانے کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں اور اس کی ”میں لٹ گیا“میں بر باد ہوگیا“ ۔
’ ’ میں دیوالیہ ہو گیا۔“ کی دل دھلا دینے والی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ قومی خزانہ کیا ہوا کوئی بے مثل اداکار ہو گیا!
بیروزگار کیلئے ملازمت کے حصول کا مطلب ہے کہ اب روٹی ملے گی۔ یعنی ملازمت نہیں تو روٹی بھی نہیں اور روٹی میسر نہ ہو تو زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ ویسے قتل کرنے کا سب سے محفوظ اور موثر طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس وقت تک بیروزگار رکھا جائے جب تک کہ وہ نفسیاتی طور پر ڈھے نہیں جاتے۔
دنیا کے زیادہ تر جمہوری ممالک میں اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے آبادی کو کنٹرول کیا جات ہے اور دنیا بھر میں دسیوں ہزاروں بیروزگار اپنے مسائل کے موثر اور پائیدار بلکہ مستقل حل کیلئے خودکشیاں کر چکے ہیں اور اس سے بھی کہیں زیادہ تعداد میں تیار کھڑے ہیں۔ واقعی موت ہر مسئلے کا حل اور قبر ہر بلاسے تحفظ کا نام ہے۔
کارل مارکس نے کہا تھا کہ ”انسان پیدائشی طور پر آزاد ہے “لیکن صاحب نہیں۔
۔۔۔ کار ل مارکس کی معلومات میں اضافے کی غرض سے بتائے دیتے ہیں کہ صرف جانور ہی آزاد پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جنگ میں سیاستدان نہیں ہوتے کسی بھی ریاست میں جنم لینے والا انسان آزاد کیونکر ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ ہر ریاست میں سیاستدان موجود ہوتے ہیں۔ گویا ہر شخص کسی نہ کسی ریاست کا قیدی ہوتا ہے۔ پیدائشی قید ی اور یہ جیل یا ریاست کہہ لیجئے کہ مرضی ہے کہ وہ قیدیوں کو انواع واقسام کے کھانے کھلائے یا بھوکا رکھے۔
مثال کے طور برطانیہ نامی جیل اپنے ہر قیدی کو کھان فراہم کرنے کی ضمانت دیتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نامی جیل سمجھتی ہے کہ مفت کھانا کھلا کر قیدیوں کو بگاڑ نا کسی طور درست نہیں۔ پاکستانیوں کو اپنی ذمہ داری پر زندہ رہنا پڑتا ہے اور اگر وہ یہاں زندہ نہیں رہ سکتے تو اُنہیں کسی بھی جنگل کا رخ رکرنے سے کس نے روکا ہے۔؟
حکمران جانتے ہیں کہ ملک بیروزگاروں سے کھچا کھچ بھر چکا ہے گویا پورے ملک میں بھوک اور پیاس کی کھیتی فراواں ہے۔
دراصل حکمرانون کوبھی اس آتش فشاں کی مہیب اور خوفناک گڑگڑاہٹ سننے کا اتفاق نہیں ہوا ہوگا۔ غرباء جسے ” خالی پیٹ“ کے نام سے جانتے ہیں بلکہ بھگتتے ہیں کسے بھوکے فاقہ زدہ شخص کو دور سے دیکھنے اور خود فاقہ زدہ ہونے میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ ازل سے بھرے پرے پیٹ کیا جانیں فاقہ کشوں کی حال زار کیا ہوتی ہے۔ اگر قومی سطح پر فاقہ کشی کے مسئلے کا حل تلاش کرنا درکار ہے تو اس کیلئے حکمرانوں کو فاقہ کشی کے کورسز کرانے ہونگے۔
کچھ کھائے پیئے بغیر گزارنے جانے والے چند روز حکمرانوں کو وہ کچھ سکھا دیں جو دنیا کے قابل ترین اساتذہ بھی نہیں سکھا سکتے۔ اسلئے ہم سمجھتے ہیں کہ فاقہ کشی کے کورسز ہر درجے کے حکمرانوں کیلئے لازمی قرار دیئے جانے چاہیں۔
”فطرت کسی مقام کو خالی نہیں چھوڑتی“ یہ خیال جس کسی عالی دماغ کے ذہین میں آیاتھا وہ یقینا کسی فلاحی ریاست میں رہتا ہوگا کیونکہ فلاحی ریاست اپنے شہریوں کو خالی پیٹ نہیں رہنے دیتی۔
بدقسمتی سے زیادہ تر ممالک فلاحی ریاست کے زمرے میں نہیں آتے جس کی وجہ سے وہاں فاقہ کش وافر ہیں۔ ان ممالک میں شاید فطرت خالی مقامات کو گوارا کر لیتی ہے۔
ایک طویل عرصے سے ہمارے ہاں پایا جانے والا معاشی تفادت ہزاروں غیرب لوگوں کو انتہائی بے رحمی سے اس جہان سے اُس جہان کو روانہ کر چکا ہے۔ جو ملک اپنے لوگوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا اس کے قائم رہنے کا جواز ختم ہو جاتا ہے کیونکہ بھوکوں مرنے کیلئے کوئی وطن درکار نہیں ہوتا۔
یہ کام تو دنیا کے کسی بھی حصے میں سرانجام دیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کو قائم رکھنا ہے اور اس کیلئے بھوک غربت اور افلاس کو موت کے گھاٹ اُتارنا ہوگا۔ ہمیں اس غیر مرتب شدہ قوانین کو اٹھا کر باہر پھینکنا ہو گاجو حکمرانوں کو اندھا دھند پیٹ بھرنے اور غریبوں کو بھوکوں مرنے کی بات کرتا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-02-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں