تازہ ترین : 1
Hameed Gul Islam Or Pakistan Ka Sacha Aashiq

”حمید گل“ اسلام اور پاکستان کا سچا عاشق

قعی جس مقام پذیرائی پر جنرل حمید گل فائز تھے اس تک پہنچنے کے لئے بہت وقت اور بہت محنت درکار ہے‘ جنرل صاحب کی اصل شہرت کے گلاب سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے بعد کھلے

محمد ریاض اختر:
”مرشد و محبوب ڈاکٹر مجید نظامی کی وفات کا بہت صدمہ ہوا ان کے بعد جس عظیم شخص کے مرنے کا دکھ بہت گہرا ہے وہ جنرل حمید گل ہیں“ یہ جملہ ڈاکٹر اجمل نیازی کے کالم سے لیا گیا ہے کالم نگار کا کہنا درست ہے کہ جنرل صاحب کی جدائی کو ہر کسی نے محسوس کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل ر یٹائرڈ حمید گل ہفتہ پندرہ اگست کو برین ہیمبرج کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے۔
ریس کورس راولپنڈی میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں سپہ سالار جنرل راحیل شریف‘ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ سمیت ممتاز دانش ور سیاسی زعماء اور عوامی سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی سانحہ بہاولپور کی برسی کے دن سترہ اگست سوموار کی صبح یہاں چکلالہ سکیم نمبر تھری راولپنڈی کینٹ میں ختم قل کا اجتماع ہوا جس میں مرحوم جنرل حمید گل کے دونوں بیٹے عبداللہ گل اور عمر گل نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا دونوں صاحبزادے حسن اتفاق سے بیرون ملک آسٹریلیا اور ترکی میں تھے جنرل صاحب کی جدائی پر الیکٹرانک میڈیا میں ان کے انٹرویو نشر مکرر کے طورپر پیش کئے جا رہے ہیں قومی اخبارات میں حمید گل کی عسکری اورسماجی زندگی کے مختلف پہلووٴں پر اظہار خیال ہو رہا ہے… واقعی جس مقام پذیرائی پر جنرل حمید گل فائز تھے اس تک پہنچنے کے لئے بہت وقت اور بہت محنت درکار ہے‘ جنرل صاحب کی اصل شہرت کے گلاب سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے بعد کھلے مرحوم کی تقریروں و تحریروں میں اسلام اور پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل تھی وہ عالم اسلام کے اتحاد کے حامی تھے وہ سامراج کی ریشہ دوانیوں کے خلاف ہمیشہ برہنہ تلوار رھے۔
حمید گل کھلے عام عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف بیرونی سازشوں پر اظہار خیال کرتے وہ خالصتاً پاکستانی تھے۔ نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت میدان عمل میں سرگرم رہے۔ حمید گل جب بھی نوجوانوں سے مخاطب ہوتے تو انہیں پاکستان کی امید قراردیتے وہ مستقبل کے پاکستان کی خوبصورت اور قابل رشک شکل پیش کرتے۔ بچوں کو بتاتے کہ وہ مایوس نہ ہوں روشن کل آپ کا منتظر ہے۔
اور آپ روشن کل کی دلکش تعبیر ہیں۔ حمید گل مرتے دم تک پاکستان‘ پاکستان اور صرف پاکستان کی بات کرتے رہے۔ مرحوم قائداعظم محمدعلی جناح اور حضرت اقبال کے شیدائی تھے وہ کہتے تھے کہ ان شاء اللہ قائداعظم کا پاکستان ایک دن حضرت اقبال کے خوابوں کی تعبیر پیش کرے گا۔ جس طرح دنیا نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر محترم مجید نظامی کی پاکستان دوستی سے آگاہ تھے اسی طرح جنرل صاحب کی پاکستانیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
وہ اپنی گفتگو میں سی آئی اے‘ ”را“ موساد اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے پس پردہ کردار کو ضرور اجاگر کرتے۔ یقیناً ان کے جانے کے بعد پاکستان کی ایک موثر آواز خاموش ہو گئی مگر پاکستان کی ترجمانی کرنے کی جو شمع محترم مجید نظامی اور حمید گل جیسی شخصیات روشن کر گئی ہیں اس کی روشنی پھیلتی رہے گی۔ رسم قل کے موقع پر ان کے جانشین اور صاحبزادے عمر گل‘ عبداللہ گل کا کہنا درست تھا ان کے والد قوم کی اسلام‘ پاکستان‘ کشمیر اور افغانستان سے کمٹمنٹ مسلمہ تھی انشاء اللہ ان کے مشن کو جاری وساری رکھیں گے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کچھ عرصہ سے سردرد کی شکایت کررہے تھے جنرل حمید گل کے داماد یوسف گل نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل(ر) حمید گل تھوڑی دیر قبل واک کرکے گھر آئے تو ٹی وی دیکھا اور کچھ دیر بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ مری پہنچایاگیا موت سے قبل ہشاش بشاش تھے اور نارمل لگ رہے تھے حمید گل مری کے علاقے علیوٹ میں اپنا گھر جو انہوں نے تقریباً 20 سال قبل تعمیر کیا تھا وہ گرمیوں میں اکثر اس پہاڑی علاقہ میں چلے جاتے تھے جنرل حمید گل پاک فوج میں قابل احترام نظر سے دیکھے جاتے تھے اوروہ اسلامی سوچ اور فکر رکھنے والے تھے 1988ء میں جنرل حمید گل کو ڈی جی آئی ایس آئی بنایا گیا اس سے قبل وہ کور کمانڈر ملتان تھے ان کی عمر 79 سال تھی۔
حمید گل 20نومبر 1936ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے وہ یوسفزئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے 1956ء_ میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور 1992ء میں ریٹائر ہوگئے تھے۔ حمید گل کے پرویز مشرف کے ساتھ اچھے تعلقات رہے تاہم ان کی امریکہ کے حوالے سے پالیسیوں کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوگئے اور وہ مشرف سے ناراض تھے … گزشتہ برس 2014ء میں سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے نوائے وقت نے خصوصی انٹرویو کیا اس کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے یہ خیالات اور تجزیہ آج کے حالات پر بھی منطبق ہے جنرل صاحب کا کہنا تھا کہِ” ہمیشہ سانحہ سے بچنے کے لیے دانش ولیاقت کی ضرورت پڑتی ہے دوسری بات وطن کی محبت سے ہے سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ان بنگالی بھائیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جو پاکستان کی محبت میں سرشار تھے بنگالی مسلمان آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام اور ترویج میں سرگرم رہے انہوں نے قیام پاکستان میں قربانیاں دیں‘ ہم انہیں وہ محبت نہ لوٹا سکے جس کاوقت اور حالات تقاضا کرتا رہا بالآخر سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوگیا پھر ہم نے اس المیہ سے سبق سیکھانہ سیکھنے کی پوزیشن میں ہیں۔
آج پاکستان سے محبت کرنے والوں کو بنگلہ دیش میں پھانسیاں دی جارہی ہیں ہماری ریاست‘ حکومت‘ سیاسی جماعتیں اور پولیٹیکل لیڈر خاموش ہیں۔ ہم کیوں محبت سے خالی ہوتے جارہے ہیں حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے حکمرانوں اور علماء کرام سے محبت وقربانی کا مطالبہ کیا تھا ہمارے حکمران اپنی پارٹی اپنے خاندان اور اپنی ذات تک خود کومحدود کررہے ہیں اسی طرح علماء کرام نے خود کو اپنی ذات مسجد اور اپنے مسلک تک محدو د کیا ہے اب بتائیں قربانی کہاں ہے؟ مقام شکر ہے کہ آج حالات ہمارے حق میں ہیں چین کا پاکستان کی طرف جھکاوہے امریکہ ہماری اہمیت جان چکا ہے مودی حکومت ہمارے ایٹمی پروگرام سے خوف زدہ ہے حالات ہمارے حق میں ہیں ضرورت صرف مخلص لیڈرشپ کی ہے اللہ کرے ملک وقوم کو قائداعظم کی طرح کا بے مثال لیڈر دستیاب ہو جائے آمین“۔
وقت اشاعت : 2015-08-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں