تازہ ترین : 1
Hafiz Saeed Ki Nazar Bandi

حافظ سعید کی نظر بندی

گزشتہ سال سات جولائی کو مظفراویس وانی اور ساتھیوں کو بھارتی فوج نے بہیمانہ تشدد سے شہید کر دیا تو مقبوضہ کشمیر میں شدید احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ بھارت نے ان کو بھی بربریت سے کچلنے کی کوشش کی۔ یہ کشمیریوں کیلئے آزادی کی تڑپ کی نئی لہر تھی جوہنوز جاری اور اسکے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جارہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس پر شدید احتجاج ہوا۔ حکومت نے سفارتکاری تیز کی۔ عالمی برادری تک کشمیریوں کی آواز پہنچانے کیلئے ممکنہ حد تک اقدامات کئے

فضل حسین اعوان:
گزشتہ سال سات جولائی کو مظفراویس وانی اور ساتھیوں کو بھارتی فوج نے بہیمانہ تشدد سے شہید کر دیا تو مقبوضہ کشمیر میں شدید احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ بھارت نے ان کو بھی بربریت سے کچلنے کی کوشش کی۔ یہ کشمیریوں کیلئے آزادی کی تڑپ کی نئی لہر تھی جوہنوز جاری اور اسکے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جارہے ہیں۔
پاکستان میں بھی اس پر شدید احتجاج ہوا۔ حکومت نے سفارتکاری تیز کی۔ عالمی برادری تک کشمیریوں کی آواز پہنچانے کیلئے ممکنہ حد تک اقدامات کئے۔ اپنے سفیروں کو بریفنگ کیلئے بلایا۔ دوسرے ممالک کے سفیروں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ کیا۔ اس پر بھارت کا آگ بگولہ ہونا فطری امر تھا۔ بھارت نے بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بدلہ لینے کی دھمکیاں دیں۔
بارڈر پر کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا تو ہمیشہ سے اس کا وطیرہ رہا ہے۔
مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی صحیح صورتحال اور وہاں ہونیوالی انسانی حقوق کی پامالی سے دنیاکو آگاہ کرنے کیلئے وزیراعظم نواز شریف نے اگست2016ء کے آخر میں 22 پارلیمانی ممبران کی کمیٹی تشکیل دی۔ ان ممبران نے بیلجیم، چین، روس، سعودی عرب، برطانیہ، امریکہ، اقوام متحدہ نیویارک، اقوام متحدہ جنیوا اور جنوبی افریقہ میں جا کر کشمیریوں کے حقوق کی آواز اٹھانا تھی۔
کسی ملک کیلئے تین ارکان تھے اور کسی کیلئے صرف ایک بندے ہی کو قومی دانش کا سمجھ لیاگیا۔ سید مشاہد حسین اور مولانا فضل الرحمن ہی دو وہ ارکان تھے جو حکومتی پارٹی کے باہر سے لئے گئے۔ مولانا فضل الرحمن کو سعودی عرب بھجوایا گیا۔ آج پاکستان کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری اور ان ممالک کی بھارت کے ساتھ گرم جوشی کی”جڑ“ حضرت مولانا ہی ہیں۔
سعودی عرب یمن تنازع میں وزیراعظم نواز شریف نے شاہ سلمان کو فون کر کے افواج پاکستان کی خدمات پیش کیں تو مولانا نے اس تالاب میں پہلا پتھر پھینک کر ارتعاش پیدا کیا جو طلاطلم بنا اور پھر طوفان بن گیا۔ مولانا نے فرمایا تھا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ آصف زرداری نے اس پر اے پی سی بلا لی جسکے دباوٴ پر معاملہ پارلیمنٹ میں گیا۔
اسکے بعد جو ہوا وہ قوم کے سامنے ہے۔ سعودی عرب ناراض ہوا۔ امارات اسکے ساتھ تھا۔ دونوں نے مودی کو اپنے اپنے ہاں بلا کر پذیرائی کی، سعودی عرب نے مودی کے نام اپنا سب سے بڑاسول اعزازکیا اور امارات نے اپنے ہاں مندر بنانے کی پیشکش کی ۔اب بھارت کے یوم جمہوریہ پر امارات کے ساتھ چشم کشا دفاعی معاہدے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف کی کمیٹی کے ارکان خسرو بختیار اور علمدار لالیکا نے چین کو بھی کشمیر کے حوالے سے جا کر سمجھایا جو کشمیر ایشو پر پاکستان سے بھی زیادہ سخت موٴقف رکھتا ہے۔
چین کشمیریوں کیلئے بھارتی پاسپورٹ قبول نہیں کرتا، ایک سادہ کاغذ پر ویزہ لگا دیتا ہے۔ حکومت نے فرانس پر مسئلہ کشمیر کے حالات واضح کرنے کیلئے رانا محمد افضل خان اور عائشہ رضا فاروق کو بھجوایا تھا۔ اس دورے کے بعد رانا محمد افضل نے پارلیمان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے روبرو جو کہا وہ حیران کن تھا۔ جسکے اثرات آج حافظ محمد سعید اور انکے ساتھیوں کی نظر بندی جماعت الدعوة و فلاح انسانیت فاوٴنڈیشن کے فنڈز منجمد کر کے واچ لسٹ میں رکھنے کی صورت میں نظر آرہے ہیں۔
وزارت داخلہ نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997ء سیکشن 11 کے ای کے تحت فلاح انسانیت فاوٴنڈیشن اور جماعت الدعوة کو واچ لسٹ اور سیکنڈ شیڈول میں شامل کردیا ، اس حکم نامے کی روشنی میں حکومت نے ان تنظیموں کے متحرک کردار ادا کرنیوالے تنظیمی عہدیداروں بمشول حافظ محمد سعید لاہور، عبید اللہ عبید فیصل آباد، ظفر اقبال، عبدالرحمان عابد مرکز طیبہ مریدکے اور ملتان کے کاشف نیاز کو نظر بند کردیا۔
بھارت نے 2008 میں ممبئی میں ہونیوالے حملے کا ذمہ دار حافظ سعید کو ٹھہرا تے ہوئے پاکستان سے ان حملوں کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کی توثیق امریکا نے بھی کی۔امریکا نے حافظ سعید پر ممبئی حملوں میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انکے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی، ممبئی حملوں میں 6 امریکی شہریوں سمیت 166 افراد مارے گئے تھے۔
حافظ سعیدمعاملہ عالمی عدالت میں لے جانے کا مطالبہ کرچکے ہیں جبکہ پاکستان میں انکو عدالتوں نے بری کردیا تھا۔ لاہورہائیکورٹ میں ان پر کیس چلا جس میں حکومت نے بھارتی ڈوزیئر پیش کئے جو انڈین میڈیا کی رپورٹس پر مشتمل تھے جن کو قبول نہیں کیا گیا،جس پر حافظ سعید کے حق میں فیصلہ آیا۔وزیرداخلہ رحمٰن ملک معاملہ سپریم کورٹ لے گئے مگر فیصلہ وہی رہا۔

رانا افضل نے کمیٹی کے سامنے فرمایا تھا۔”ملک کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ ہم آج تک حافظ سعید جیسے لوگوں کو ختم نہیں کرسکے۔بھارت نے جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید سے متعلق ایسا تاثر قائم کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستانی وفد کسی ملک جائے تو وہاں کے حکام یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات حافظ سعید کی وجہ سے خراب ہیں، جبکہ ہمیں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدت پسند ملک قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حافظ سعید کے باعث بھارت کو، پاکستان کو عالمی سطح پر بلیک میل کرنے کا موقع ملا، اگر ان سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں تو ہم انہیں یہ اجازت کیوں دے رہے ہیں کہ وہ اپنی موجودگی سے پاکستان کو نقصان پہنچائیں؟“حکومتی سطح پر میڈیا کو دی جانیوالی بریفنگز میں کہا جاتا ہے کہ دنیا حافظ سعید کو دہشتگرد سمجھتی ہے۔
حافظ سعید واقعی دہشتگردی کی بھارتی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔
بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشتگردی اپنی فوج کے ساتھ برسر پیکار کشمیریوں کو دہشتگرد قرار دیتا ہے۔ پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت پر دہشتگردوں کا پشت پناہ باور کراتا ہے۔ لشکر طیبہ جسکے سربراہ کبھی حافظ محمد سعید تھے۔ آج اسکی سرگرمیاں مقبوضہ کشمیر تک محدود ہیں۔ حافظ محمد سعید پاک فوج کی طرح کبھی کشمیریوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے۔
انکی سربراہی میں کام کرنیوالی تنظیموں پر ان دہشتگردوں کے ساتھ رابطوں کا کوئی الزام نہیں جو ضرب عضب کے نشانے پر ہیں۔ فلاح انسانیت زلزلے، سیلاب یا کسی بھی ناگہانی آفت اور حادثے کی صورت میں سب سے آگے ہوتی ہے۔دنیا حافظ سعید کیخلاف پابندیوں کی بات بھارت کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر کر رہی ہے۔ جس کا واضح اظہار رانا افضل کے بیان اور حکومتی بریفنگز سے بھی ہوتا ہے۔ ضرورت بھارت کے بے بنیاد، لغو اور جھوٹے پراپیگنڈے کا توڑ کرنے کی ہے۔حکومت کی اپنی مجبوریاں ہونگی بہرحال حافظ سعید اور انکی تنظیموں کیلئے عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں،انہوں نے ایک بار پھر ان دروازوں پر دستک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وقت اشاعت : 2017-02-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں