بند کریں
منگل مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گلوکارہ ریشماں کی دوسری برسی
پاکستان کی لیجنڈری لوک گلوکارہ”بلبل صحرا“ ریشماں کو ہم سے بچھڑے2 برس بیت گئے۔ ریشماں 3 نومبر 2013ء کو طویل علالت کے بعد 66 برس کی عمر میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔
شاذیہ سعید:
پاکستان کی لیجنڈری لوک گلوکارہ”بلبل صحرا“ ریشماں کو ہم سے بچھڑے2 برس بیت گئے۔ ریشماں 3 نومبر 2013ء کو طویل علالت کے بعد 66 برس کی عمر میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ وفات سے قبل ایک ماہ سے کوما میں تھیں اور اس سے ایک برس پہلے انہیں گلے کے سرطان کی تشخیص کی گئی تھی۔ ریشماں کی موت کی خبر پھیلتے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔
انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے اس بیٹے کا نام ”ساون“ بتایا تھا ا ور کہا تھا کہ وہ اسے اس لئے ساون کہتی تھیں کیونکہ وہ ساون کے مہینے میں پیدا ہوا تھا۔ریشماں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کی ایک مشہور لوک گلوکارہ ہیں جو پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی مقبول ہیں۔ ان کا ایک مشہور گانا لمبی جدائی زبان زد عام ہے۔
وہ ہندوستان کی تحصیل رتن گڑھ، راجستھان کے علاقے بیکانیر کے ایک گاوٴں لوحا میں 1947ء میں پیدا ہوئیں، ان کا تعلق ایک خانہ بدوش خاندان سے تھا۔ ان کا خاندان ہندوستان کی تقسیم کے دوران پاکستان کراچی میں منتقل ہو گیا۔ریشماں نے گائیکی کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔
اس وقت انہوں نے ”لال میری“ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔ سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک سنگر بن گیئں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وڑن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشمان نے ٹی وی کے لئے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لئے بھی متعدد گیت گائے۔
ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں ان کی فلم ”ہیرو“ کے لئے ”لمبی جدائی“ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ سن 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔2004 ء میں ان کا گانا” عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا“ بھارتی چارٹ کے ٹاپ ٹین میں شامل تھا۔
ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں”سن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کوک ماہیا مینوں یاد آوٴندا“،”وے میں چوری چوریتیرے نال لا لیا اکھاں“،”دما دم مست قلندر“،”اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول“ اور”ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا“شامل ہیں۔ ریشماں نے کئی عشروں تک لوک موسیقی میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور اردو کے علاوہ پشتو، سندھی اور راجستھانی زبانوں میں گیت گائے۔
صحرائے بلبل کو ان کی میٹھی اور سریلی آواز کی وجہ سے متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ انہیں ستارامتیاز اور لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔ان کی وفات سے موسیقی کی دنیا کو کئی روز تک سوگوار رکھا۔ جہاں ٹویئٹر پر ان کے لئے دھیڑوں پیغامات موصول ہوئے وہیں فیس بک پر بھی ان کی وفات پر ان کے گائے لازوال گانے شئیر کئے جاتے رہے۔ بھارتی صحافی فرزانہ وارثی نے ان کے انتقال پر ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا تھا: ”ابھی ریشماں کی موت کا سنا۔
گزشتہ دہائیوں میں ان سے ملاقات اور ان کے گانے سننے کو یاد کر رہی ہوں۔ ان کی آواز پردرد تھی اور درد ہی گیت بن گیا۔“ ریشماں کی جدائی آج بھی بہت سے چاہنوں والوں کی آنکھیں نم کر دیتی ہے لیکن ریشماں کے مداح ان کے میٹھے گیتوں کو گاہے بہ گاہے نئی زندگی دیتے رہتے ہیں بہت سے پاکستانی گلوکاراور فنکا ر اپنے اپنے طور پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کے گائے ہوئے گانے گاتے ہیں اور انکی یاد تازہ کرتے ہیں۔ریشماں کی گائیکی میں جنون تھا، قوت تھی اور پاکیزگی تھی۔ان کے پاس ان چیزوں کے اظہار کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔ اسی لئے وہ امرتھیں اور امر ہوگئیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-03

(0) ووٹ وصول ہوئے