تازہ ترین : 1
God Father Mafia Jaise Alfaz Nahi Faisle Bolte Hain

گاڈ فادر، مافیا جیسے الفاظ نہیں فیصلے بولتے ہیں

وزیراعظم محمد نواز شریف کی فیملی پانامہ کیس اور عمران خان غیر ملکی فنڈنگ کیس اور بنی گالہ کیس کے سلسلے میں اپنے خلاف عدالتوں میں قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے کروڑوں عوام کی نگاہیں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ قوم عدل و انصاف چاہتی ہے خواہ فیصلہ کسی لیڈر کے حق میں آئے یا خلاف آئے۔ تاہم معزز جج حضرات کو بھی اب محض ریمارکس کی بجائے فیصلوں پر توجہ دینا ہو گی

فرخ سعید خواجہ:
وزیراعظم محمد نواز شریف کی فیملی پانامہ کیس اور عمران خان غیر ملکی فنڈنگ کیس اور بنی گالہ کیس کے سلسلے میں اپنے خلاف عدالتوں میں قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان کے کروڑوں عوام کی نگاہیں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ قوم عدل و انصاف چاہتی ہے خواہ فیصلہ کسی لیڈر کے حق میں آئے یا خلاف آئے۔ تاہم معزز جج حضرات کو بھی اب محض ریمارکس کی بجائے فیصلوں پر توجہ دینا ہو گی۔
گاڈ فادر اور سسلین مافیا کے الفاظ ایک فریق کے خلاف استعمال کرکے خود جج حضرات نے اپنے آپ کو تنقید کا نشانہ بنوایا۔ کاش ججوں کی بجائے ان کے فیصلے بولیں۔ اب تک جے آئی ٹی اور عدالت نے جو کچھ کیا وہ اپنی جگہ لیکن آنے والے دنوں میں فیصلوں کے معتبر ہونے کا دارومدار جے آئی ٹی اور عدالتوں کے رویوں پر ہوگا۔پاکستان کی سیاست ان کیسوں کے گردگھوم رہی ہے۔
ادھر جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق نے سوموار کو چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر افطار ڈنر میں شرکت کی اور اس دوران چوہدری صاحبان کے درمیان بیٹھ کر پریس کانفرنس کی۔ افطار ڈنرمیں تحریک انصاف کے میاں محمودالرشید، پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر سید وسیم اختر، امیرالعظیم، میاں مقصود احمد، حافظ سلمان بٹ، اظہرعباس حسن، وقاص انجم، ذکراللہ مجاہد، قیصرشریف سمیت مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیرچیمہ، چوہدری ظہیرالدین، میاں منیر، شیخ عمرحیات،اور شافع حسین موجود تھے۔
اس موقع پر ایک تو پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی کے اتحادیوں میں سے کسی جماعت کی کوئی شخصیت موجود نہیں تھی۔ دوسرے مسلم لیگ ق اور عوامی تحریک کی دو دیگراتحادی جماعتیں سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلین کی بھی کوئی نمائندگی نہ تھی۔پریس کانفرنس سے پہلے ان رہنماوٴں کی بیٹھک ہوئی جس میں کم ازکم پانامہ کیس کے فیصلے تک وزیراعظم نواز شریف سے وزارت عظمیٰ کے اختیارات استعمال نہ کرنے کی فرمائش کی گئی۔
الیکشن 2013کے بعد سے اپوزیشن جماعتیں نواز شریف سے وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہونے کا وقتاً فوقتاً مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ لیکن نواز شریف جواب میں بھرے جلسے میں کہہ چکے ہیں کہ یہ منہ اور مسورکی دال۔ میں ان کے کہنے پر استعفیٰ کیوں دوں گا۔
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سیاسی جماعتوں کے اس اجتماع کے علاوہ متعدد قابل ذکر افطار پارٹیاں ہوئیں جن میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں رائل پام کلب میں پیپلز پارٹی کی افطاری اور فیروزپور روڈ کے شادی ہال میں امیر جماعت اسلامی مولانا سراج الحق کے اعزاز میں افطاریاں شامل ہیں۔
جماعت اسلامی پنجاب کے امیر میاں مقصود احمد اور تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان کی ایجرٹن روڈ کے ایک بڑے ہوٹل میں افطاریاں بھی قابل ذکر ہیں۔ رائل پام میں پیپلز پارٹی کی افطار پارٹی میں بلندوبالا سٹیج بنایا گیا تھا جس پر قائدین اور جیالوں سمیت مہمان سامنے تشریف فرما تھے۔ سٹیج پر چڑھنے کی خواہش میں ایک جیالا سکیورٹی پر مامور افراد کے ہاتھوں اس بری طرح پٹا کہ اس کی قمیض تار تار ہوگئی۔
بلاول بھٹو زرداری تو چلتے بنے لیکن بہت دیر تک وہاں تماشا لگا رہا اور اب نوید چوہدری اور اسرار بٹ پر مشتمل پیپلز پارٹی کی دو رکنی کمیٹی اس نا خوشگوار واقعہ کی تحقیقات کے لئے قائم کر دی گئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی افطار پارٹی میں امیر جماعت نے دو حصوں میں گفتگوکی ایک صحافیوں کے ساتھ میز کے گرد بیٹھے اور دوسری روسٹرم پر کھڑے ہوکر۔
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے عالم اسلام کاجو نقشہ کھینچا اور پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی جو تصویر پیش کی اس پر برادر محترم روٴف طاہر نے بجا طور پر امیر جماعت سے پوچھا کہ آپ کے بتائے ہوئے حالات کے مطابق ہمیں کیسا پاکستان چاہیے، مستحکم پاکستان یا انتشار زدہ ؟ مولانا سراج الحق چند لمحوں کے لئے خاموش ہوگئے گویا انہیں اس سوال کی توقع نہیں تھی اور پھر فرمایا کہ میں بلاسوچے سمجھے اس سوال کا جواب دے سکتا ہوں کہ کون بے وقوف کہے گا کہ ان حالات میں مستحکم پاکستان نہیں چاہیے۔
کرپشن کے خلاف عوامی رائے کے حوالے سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف سمیت ہرکسی کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے البتہ کسی سے آغاز تو ہونا تھا، سو نواز شریف فیملی سے ابتداء اچھی بات ہے۔ اس سے پہلے کہ مزید سوال و جواب ہوتے برادرعزیز امیرالعظیم نے مائیک سنبھالا اور امیر جماعت اسلامی کو روسٹرم پر آنے کی دعوت دے دی۔ مولانا سراج الحق ظاہر ہے زوردار مقرر ہیں اور رمضان المبارک کے فضائل پر ان کے خیالات قابل داد تھے۔

تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ہوگئے ہیں اور عمران خان کا پورا پینل بھاری اکثریت سے جیت گیا ہے جو حسب توقع ہے البتہ ان کے خلاف الیکشن لڑنے والے نیک خان کے پینل کو 45 ہزار سے زائد ووٹ پڑنا بھی بڑی بات ہے۔ اس کی غالباً کسی کو توقع نہیں تھی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پینل میں سنٹرل پنجاب کے صدر کے لئے عبدالعلیم خان شامل تھے۔
عبدالعلیم خان کی جیت نے پارٹی میں اس کے مخالفین کے منہ بندکر دئیے ہیں۔ عبدالعلیم خان نے ایجرٹن روڈ کے ایک بڑے ہوٹل میں دی گئی افطار پارٹی میں بہت حقیقت پسندانہ باتیں کیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مستقبل میں پاکستان کی سیاست پر روشنی ڈالی۔ عبدالعلیم خان کا شمار وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے کٹر مخالفین میں ہوتا ہے لیکن ان کا تجزیہ حقیقت پسندانہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس کے پاکستان کی آئندہ سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ جے آٹی ٹی اور سپریم کورٹ فیصلے کو کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں منی ٹریل ثابت کرنا خاصا دشوار ہوتا ہے بالخصوص میاں نواز شریف فیملی کے لئے بہت مشکل ہے ۔ ان کے اندازے کے مطابق میاں نواز شریف نااہل ہوجائیں گے جبکہ عمران خان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن والوں کی خواہش ہے کہ عمران خان بھی نااہل ہو جائیں لیکن ایسا ہوگا نہیں۔ ان کی رائے اپنی جگہ ہے لیکن ہماری رائے میں آنے والا وقت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے گا۔
وقت اشاعت : 2017-06-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں