تازہ ترین : 1
GCU Tadreesi Safar Kay 152 Baras Mukammal

جی سی یو تدریسی سفر کے 152 برس مکمل

گورنمنٹ کالج کے 5طالبعلم پاکستان کے وزیراعظم بنے پاکستان کے سب سے قدیم اور قابل فخر تعلیمی ادارے ” گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور“ نے اپنے تدریسی سفر کے 152 شاندار برس مکمل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیا ہے اس بڑے تعلیمی ادارے نے یکم جنوری 1864 کو اندرونِ لاہور میں دھیان سنگھ کی حویلی میں آنکھ کھولی ،پہلی کلاس 9پر طلبا پر مشتمل تھی

عنبرین فاطمہ:
پاکستان کے سب سے قدیم اور قابل فخر تعلیمی ادارے ” گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور“ نے اپنے تدریسی سفر کے 152 شاندار برس مکمل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیا ہے اس بڑے تعلیمی ادارے نے یکم جنوری 1864 کو اندرونِ لاہور میں دھیان سنگھ کی حویلی میں آنکھ کھولی ،پہلی کلاس 9پر طلبا پر مشتمل تھی۔
اس تعلیمی ادارے سے زیور تعلیم سے آراستہ ہونے والے طلبہ وطالبات نے وطن عزیز کے تمام بڑے سر کردہ شعبوں اور اداروں کی سر پرستی و رہنمائی کی اور ملکی سیاسی ،سماجی، معاشرتی تاریخ پر انمنٹ اور یادگار نقوش ثبت کئے ہیں۔ عربی کے ممتاز استاد پروفیسر ڈاکٹر لائٹنر سے ماہرِ طبعیات پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ تک 28 علم دان اس عظیم دانش گاہ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
یہاں تربیت پانے والے شاعر، سائنسدان، فلسفی، کھلاڑی، موسیقار، اداکار، اپنی مادرِ علمی اور مادرِ وطن کے لیے باعثِ افتخار ہوئے۔ پاکستان کیا پورے ایشیاء میں کوئی ایک ایسا ادارہ ڈھونڈ نکالنا مشکل ہے جس نے ادب ،سائنس، سماجی علوم اور فنون لطیفہ میں علامہ محمد اقبال، پروفیسر عبدالسلام، فیض احمد فیض، ہرگوبند کھرانہ، خواجہ خورشید انور اور ن۔
م راشد جیسے نابغہ روزگار افراد پروان چڑھائے۔ برصغیر اور بالخصوص لاہور میں تھیٹر کی روایت کو گورنمنٹ کالج کے طلبا اور اساتذہ نے تقویت بخشی۔ سید امتیاز علی تاج ،پطرس بخاری ،حکیم احمد شجاع، رفیع پیر، دیوآنند، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، نعیم طاہر، روجی بانو،مدیحہ گوہر اور عثمان پیرزادہ جیسے نامور فنکاروں نے گورنمنٹ کالج میں قیام کے دوران اپنے فنی رجحانات کو دریافت کیا اور اس کے رموز سے آشنا ہوئے۔
موسیقی کے میدان میں خواجہ خورشید انور اور شرافت علی خان جیسے رجحان ساز موسیقار گورنمنٹ کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ نژادِنو کے گلوکاروں میں شفقت امانت علی خان ، حدیقہ کیانی، علی ظفر، وارث بیگ، جواد احمد ودیگر اس ادارے کے سابق طالب علم ہیں۔ ادب کے میدان میں نیاز مندان لاہور سے لے کر ترقی پسند تحریک تک اور پھر جدید لسانی تشکیلات جیسی ادبی تحاریک کا اجراء اور فروغ گورنمنٹ کالج کے طلبا و اساتذہ کے توسط سے ہوا۔
اس ضمن میں پطرس بخاری ،صوفی غلام مصطفی تبسم، فیض احمد فیض، ن۔م راشد، افتخار جالب اور غالب احمد کے نام ذہن میں آتے ہیں۔ ان کی تربیت میں گورنمنٹ کالج کی مجلس اقبال اور ادبی جریدے ”راوی“ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ جی سی یو کے دو سابق طالبعلموں ہرگوبند کھرانہ اور عبدالسلام نے بالترتیب کیمیاء اور فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا۔ برصغیر بھر میں کوئی تعلیمی ادارہ ایسی متنوع جہات میں طلبا کی تربیت کا اعزاز نہیں رکھتا۔
میاں محمد نواز شریف سمیت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے 5 طلباء پاکستان کے وزراء اعظم بنے ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اولڈ راوئین ہیں۔ ہم چند ایک اولڈراووینز سے بات کی نامور ناول نگار بانو قدسیہ سے کہا کہ گورنمنٹ کالج نے ہمیشہ تدریس سے زیادہ تربیت پر توجہ دی۔ اللہ تعالیٰ اس کی عمارت اور فضاوٴں کو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سلامت رکھے۔
نامور ایٹمی سائنسدان اور اولڈ وائینز یونین کے سابق صدر ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے مطابق گورنمنٹ کالج نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، 140 ماہرین کی ٹیم نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے جس میں سے 60 اولڈروائینز تھے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے اس موقع پر نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اس ادارے کی شاندار درینہ روایات کو جاری رکھیں۔
مرشد صحافت اور امام صحافت ”جناب مجید نظامی مرحوم“ کو بھی گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہنے اعزاز حاصل ہوا، جس پر وہ تمام زندگی نازاں رہے۔ انہیں اوول گراوٴنڈ میں بیٹھ کر سرراہے لکھنا آخری دم تک نہ بھولا جس کا تذکرہ وہ ہمیشہ کرتے جبکہ جی سی کے پرانے دوستوں اور احباب کا ذکر کرتے ہوئے بھی ہو ہمیشہ زمانہ طالب علمی کی یادوں میں کھو جاتے۔
گلوکار اور سماجی کارکن ”جوا د احمد“ نے کہا کہ اس درسگاہ سے تعلیم حاصل کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے یہاں نہ صرف میں نے تعلیمی پیاس بجھائی بلکہ میری ذہنی وشخصی نشوونما اور تعمیر بھی ہوئی میں نے یہاں جہاں غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ کرکٹ کھیلنے کا آغاز بھی یہیں سے کیا۔ یہاں سے پڑھنے کے بعد میں انجینئرنگ یونیورسٹی میں بھی گیا لیکن ایک چیز جو میں یہاں کہنا چاہوں گا وہ یہ کہ گورنمنٹ کالج کی طرز کی درسگاہ میں پڑھنا ہر طبقے کے بچے کی پہنچ میں ہونا چاہیے صرف چند ایک لوگ یہ نہ کہتے رہیں کہ ہم اولڈ راوین ہیں یا ایچی سونین ہیں۔
اس طرح کے مزید کئی تعلیمی درسگاہوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے ان کو بھی پڑھائی کے ضمن میں وہ تمام سہولیات میسر آنی چاہیں جو بڑے تعلیمی اداروں میں بھاری فیسیں ادا کرنے والوں کو ملتی ہیں ۔یہ ہی میرا خواب اور وژن ہے۔ باقی گورنمنٹ کالج سے پڑھنا اور اولڈ رواین کہلانے میں ہمیشہ فخر محسوس کیا ہے۔
وقت اشاعت : 2016-01-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں