بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گدھوں کی کھالیں
تیزی انڈسٹری بھی اس کام میں ملوث ہے۔۔۔۔ پاکستان میں جانوروں کی کھالوں کو چمڑے کی شکل میں ڈھالنے کے لیے بہت بڑی تیزی انڈسٹری موجود ہے۔ کراچی، لاہور ، گوجرانوالہ اور قصور میں بہت زیادہ ٹینریز کام کر رہی ہیں۔
عثمان یوسف:
پاکستان میں کافی عرصے سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کا مکروہ اور بھیانک دھندہ انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ جار ی ہے۔اس گھناوٴنے کام میں ملوث افراد انسانیت کے درجے سے نیچے گر کر حیوان بن چکے ہیں۔ دولت کی ہوس میں اندھے ملزم شہریوں کو حرام جانوروں کا مضر صحت گوشت کھلا کر ان کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک ایسا کیا ہو گیا جس کے باعث گدھوں کا ”قتل عام“ شرو ع ہو گیا۔
؟ گدھے کی کھال دوسرے جانوروں کی کھالوں سے بہت مضبوط اور معیاری تصور کی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے تاجر پاکستان سے بڑی تعداد میں گدھے خرید رہے ہیں۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق ملک میں 2014-15 میں گدھوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ اس وقت ملک میں پچاس لاکھ کے قریب گدھے موجود ہیں۔
پاکستان میں جانوروں کی کھالوں کو چمڑے کی شکل میں ڈھالنے کے لیے بہت بڑی تیزی انڈسٹری موجود ہے۔
کراچی، لاہور ، گوجرانوالہ اور قصور میں بہت زیادہ ٹینریز کام کر رہی ہیں۔ قصور کا علاقہ دین گڑھ اس حوالے سے نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ چند روز قبل قصور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دین گڑھ کے علاقے میں قائم ایک ٹینری پر چھاپہ مار کر ایک ہزار سے زائد گدھے کی کھالیں اپنے قبضہ میں لے لیں۔ ٹینری کے مالک نے انکشاف کیا کہ اُس نے ایمان فروش قصابوں کو ساتھ ملا کر ایک منظم گروہ بنا رکھا تھا۔
جو مختلف مقامات سے گدھے چوری کر کے ان کا گوشت ہوٹلوں پر فروخت کر دیتے تھے جبکہ کھالیں چینی تاجروں کو فروخت کیاکرتے تھے۔گدھے یا گھوڑے کی کھالوں کی خریدوفروخت اگرچہ جرم نہیں ہے لیکن ان حرام جانوروں کا گوشت فروخت کرنا یقینا ایک قابلِ تعزیر جرم ہے۔ قصور سے پکڑی جانے والی گدھے کی کھالوں کو شاید چین رونہ کر دیا جائے لیکن گوشت فروخت کرنے والے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینا ضروری ہے تاکہ اس مکروہ دھندے کی بیخ کنی کی جاسکے۔
حکومت کو چاہیے کہ گھوڑوں اور گدھوں کی کھالوں کی ایکسپورٹ کے حوالے سے واضح قوانین مرتب کرے اور اس سلسلے میں ایک موئثرمیکانزم جلدازجلد وضع کیا جائے۔ اس ضمن میں حکومت علمائے کرام سے بھی رہنمائی لے سکتی ہے۔ تاکہ اس روشنی میں حرام گوشت کی خریدوفروخت کرنے والوں کوسخت سزائیں دینے کا قانون بنایا جاسکے۔ جہاں تک حرام جانوروں کی کھالوں سے چمڑہ تیار کرنے کی اجازت ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہے تو اس سلسلے میں بھی علمائے کرام حکومت کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

2013 کے بعد ایکسپورٹ اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ محض دو سانوں کے دوران لاکھوں کھالیں بیرون ملک بھیجی گئیں۔ حیران کن بات ہے کہ ملک میں ٹینری ایسوسی ایشنز بھی موجود ہیں اور انہوں نے قواعد وضوابط بھی وضع کر رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ گھناوٴنا عمل جاری ہے ۔ ٹینری ایسوسی ایشن کو اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکالنا ہوگا۔ اس کے ساتھ حکومت کو بھی ان عناصر کو شرپسند سزائیں دینا ہوں گی جو معصوم شہریوں کی جانوں کو داوٴ پر لگا کر موذی امراض میں مبتلا کر رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان