تازہ ترین : 1
Fata Se Pata Tak Ka Safar

فاٹاسے پاٹاتک کاسفر

قبائلی علاقوں کوان کے حقوق دینے سے ہی پاکستان مستحکم ہوگا

شیخ عثمان یوسف قصوری:
فاٹاپاکستان اورافغانستان کے درمیان موجود سرحدی قبائلی علاقوں کوکہاجاتاہے،ان کاجغرافیائی وقوع ان کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔یہ علاقے گزشتہ برسوں سے دہشتگردوں کی محوط پناہ گاہوں میں تبدیل ہوچکے تھے یہاں بیٹھ کرپورے ملک میں دہشتگردی کی کارروائیاں کیاکرتے تھے۔اپنے گمراہ کن نظر یات کے ساتھ یہاں اپنا راج قائم کرنے والے شدت پسندوں نے مقامی آبادی کاجینامشکل کر رکھاتھا۔
کس قدرحیران کن بات ہے کہ پاکستان میں شامل وہ قبائلی علاقے جو ریاست کااہم اور لازمی حصہ ہیں‘وہاں پاکستانی آئین وقانون نافذالعمل نہیں ہے۔یہ علاقے براہ راست کس صوبائی یاوفاتی حکومت کے زیرانتظام نہیں ہیں بلکہ یہاں ہائیکورٹ‘سپریم کورٹ سمیت ماتحت عدلیہ بھی نہیں ہے۔یہ علاقے براہ راست صدارتی احکامات کے پابندی ہیں اور صدرمملکت ہی ان کیلئے فیصلے کرسکتے ہیں۔
حکومت برطانیہ نے برصغیرپاک وہندپراپنے راج کے دوران قبائلی علاقوں کواپنے زیرنگیں کرتے ہوئے یہاں فرنٹیئرکرائمزریگولیشن (FCR) کورائج کیاجس کا مقصد پختونوں کے اثرورسوخ کوکم کرتے ہوئے اپنے مفادات کاتحفظ کرناتھا۔برطانیہ قبائلی سرداروں اور اپنے نمائندوں کے ذریعے فاٹا میں اپنے مفادات حاصل کرتارہا۔1947ء میں قیام پاکستان کے وقت یہ علاقے ملک کاحصہ بنے تو حکومت نے قبائلی علاقوں میں آئین وقانون کانفاذکرنے کی بجائے یہاں ایف سی آرکوہی رائج رہنے دیا۔
اس قانون کی روسے فاٹا کے کسی بھی شہری کوبغیرجرم بتائے گرفتارکیاجاسکتاہے اوروہ اسکے خلاف وکیل‘دلیل اوراپیل کاحق بھی استعمال نہیں کر سکتا۔ اس کالے قانون کے ذریعے فاٹاکے شہریوں کوملک کے سیاسی نظام سے الگ تھلگ کرکے رکھ دیاگیا۔شہری بنیادی حقوق سے محروم ہوکرسیاسی اور معاشرتی تنہائی کاشکارہوگئے۔قبائلی سرداروفاتی نمائندے پولیٹیکل ایجنٹ کے ساتھ مل کراپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے تھے کیونکہ پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس لامحدوداختیارات ہوتے ہیں۔
اُس کا فیصلہ بادشاہوں کی طرح حرف آخرہواکرتاتھا۔اسکے متنازعہ فیصلے کے خلاف عوام یاستاثرہ شہریوں کے پاس عدلیہ یاکسی دوسرے سرکاری فورم پراپیل کااختیارنہیں تھا۔پولیٹیکل ایجنٹ کسی بھی مجرم کوسزا دینے کیساتھ ساتھ اُس کے بوڑھے والدین اہل خانہ اور بچوں کوبھی پابندسلاسل کردیاجاتاہے۔فاٹامیں عوام کی ترقی وخوشحالی کیلئے اقدامات کئے گئے اورنہ ہی یہاں شہریوں کو بنیادی سہولیات مہیاکی گئیں۔
حکومت کی رٹ کمزورہونے کے باعث یہاں جرائم پیشہ سرگرمیاں عروج پرپہنچ چکی تھیں۔یہاں اسلحہ‘منشیات فروشی اور دیگر برائیاں عام تھیں۔بہرحال آپریشن ضرب عضب کی کاری ضرب سے دہشتگردوں کی کمرتوڑی جاچکی ہے اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے اور اصلاحات کیلئے بھرپورمہم شروع کررکھی ہے۔ان اراکین کاکہناہے کہ اگرایف سی آراتناہی اچھااور مئوثر قانون ہے تو اسے اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کیوں نافذنہیں کیاجاتا۔
حکومت فاٹااصلاحات کمشن بناچکی ہے جوفاٹاکے مسائل اور درپیش مشکلات کے حل اورازالے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی جسکی روشنی فاٹا کے مستقبل کافیصلہ کیاجائے گا۔یہ اطلاعات بھی منظرعام پرآچکی ہیں کہ حکومت فاٹاکوپاٹاکے طرز پر خیبرپختونخواہ کاحصہ بنانے پرغورکررہی ہے۔یہ اقدام3 مرحلوں میں مکمل کیاجائے گا۔اعلیٰ سطح پربھی اس بات کاجائزہ لیا جا رہا ہے کہ فاٹاکاالگ صوبہ بنانے کے بجائے خیبرپختونخواہ میں ضم کردیاجائے۔
تاہم قبائلی علاقوں کوبندوبستی علاقوں کی طرح حیثیت نہیں ملے گی اورصوبے کے زیرانتظام قبائلی علاقہ(پاٹا) کے طور پرگورنراور صدرپاکستان کے کنٹرول میں رہے گا۔ جہاں قوانین کانفاذبھی صدرکی منظوری سے ہی ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں آئندہ میں آئندہ سال کے اوائل میں خیبراورمہمندایجنسیوں کوضم کاجائے گا۔اس کے بعد6ایف آر علاقوں جس میں لکی مروت‘بنووں‘ڈی آئی خان‘ کوٹ‘ ٹانک اورایف آرپشاورشامل ہیں۔
انہیں متعلقہ اضلاع میں شامل کیاجائے گا۔آئندہ سال کے آخرتک 3 ایجنسیوں جن میں باجوڑ‘کرم اوراور کزئی کوضم کیاجائے گا جبکہ آخری مرحلے میں شمالی وجنوبی وزیرستان کاانضمام ہوگا۔یہ تمام عمل 2018ء تک مکمل کرلیاجائے گا۔22واں آئینی ترمیمی بل سلیکشن کمیٹی کے حوالے کردیاجائے گا جس کے بعد سلیکٹ کمیٹی تمام ضروری امورطے کرنے کے بعدقومی اسمبلی سے منظوری لے گی جس کے بعدسینٹ اسے منظور کرے گا۔
بعدازاں اسے صدرپاکستان کے پاس حتمی منظوری کیلئے بھیج دیاجائے گا۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ فاٹاکوان صوبائی علاقوں میں ضم کردیاجائے بلکہ اصل مسئلہ تویہ ہے کہ قبائلی علاقوں سے انگریزوں کے کالے قانون ایف سی آرکولعدم قراردیتے ہوئے یہاں آئین پاکستان کانفاذ کیاجائے۔جنہوں نے فاٹاکے معاملے کوماضی کی حکومتیں ہیں۔جنہوں نے فاٹاکے معاملے کوسنجیدگی سے لیااور نہ ہی عوام کی ترقی وخوشحالی کیلئے ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے جس کے باعث عوام عدل وانصاف‘تعلیم‘صحت‘روزگاراور دیگربنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم رہے۔
غربت اور جہالت کے باعث وہ ذہنی اور معاشی لحاظ پسماندگی میں مبتلاہوگئے۔پاکستان کے استحکام رازفاٹاکی ترقی وخوشحالی میں چھپا ہے۔ اس لئے ملک کوسیاسی‘معاشی‘معاشرتی اور ہرلحاظ سے منصوط بنانے کیلئے فاٹاکے شہریوں کوان کے بنیاد حقوق دینا وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-12-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں