بند کریں
ہفتہ اپریل

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایٹمی ریاست کی پاک فوج اور سیاستدان
پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود رب کے فضل و کرم اور عوام کی مستقل مزاجی سے پاکستان ایک ایٹمی ریاست بن گیا۔ اسے ”خدائی معجزہ“ ہی قراردیا جائیگا جس کیلئے عوام نے بھوک افلاس اور ننگ برداشت کی جبکہ قوم پرست رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا
قیوم نظامی:
پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود رب کے فضل و کرم اور عوام کی مستقل مزاجی سے پاکستان ایک ایٹمی ریاست بن گیا۔ اسے ”خدائی معجزہ“ ہی قراردیا جائیگا جس کیلئے عوام نے بھوک افلاس اور ننگ برداشت کی جبکہ قوم پرست رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور کم و بیش سب حکمرانوں اور ایٹمی سائنسدانوں بالخصوص ڈاکٹر قدیر احمد خان نے ایٹمی صلاحیت کی تکمیل میں قابل تحسین کردار ادا کیا۔
ایٹمی صلاحیت کے حصول کا واحد مقصد پاکستان کی سلامتی، بقا، خودمختاری اور وقار کو یقینی بنانا تھا۔ ایٹمی ریاست کی افواج اور سیاستدانوں کا اولین قومی فریضہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر پاکستان کے وقار پر آنچ نہ آنے دیں۔ مہم جوئی سے گریز کریں مگر بزدلی کا مظاہرہ نہ کریں۔ گزشتہ ہفتے المناک دہشت گردی کی لہر نے پاکستان کے عوام کو سوگوار، بددل اور مایوس کردیا تھا۔
سیہون شریف میں شہیدوں کے عزیز و اقارب احتجاج کیلئے سڑکوں پر بھی نکل آئے ۔ دشمن کی سٹرٹیجی یہ ہے کہ عوام اس قدر مایوس ہوجائیں کہ وہ ریاستی اداروں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سفارتی اور عسکری محاذ پر موزوں اقدامات اٹھائے۔ وزیراعظم نے پہلی بار لیڈر کی طرح دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں سے بے رحم انتقام لیا جائے اور ان کو چن چن کر ماردیا جائے۔
پاک فوج، رینجرز اور پولیس نے پورے ملک میں آپریشن کرکے سینکڑوں دہشتگردوں کو ہلاک اور ہزاروں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پاک فوج نے پہلی بار افغانستان کے اندر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا اور تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور داعش کے 37دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ بھاری توپخانہ بھی افغان سرحد پر پہنچا دیا گیا ہے۔
پاک فوج کی بروقت دلیرانہ کاروائیوں کے بعد عوام مایوسی اور بددلی سے باہر نکلے اور دشمنوں کا منصوبہ ناکام ہوا۔
امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق اور افغانستان پر حملہ کیا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہزاروں ڈرون حملے کیے جن میں ہزاروں بے گناہ پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ امریکہ نے ننگی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایبٹ آباد آپریشن کیا اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
1998ء میں بھی امریکہ افواج نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں اوسامہ کے کیمپوں پر کیروز میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔ اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے پرزور احتجاج کرنے کی بجائے آنکھیں بند کرلی تھیں اور ایٹمی ریاست کے وقار کو مجروح کیا تھا۔ اگر پاکستان کے سیاستدان اور جرنیل قومی وقار پر سمجھوتہ کرتے رہیں گے تو ایٹمی ہتھیاروں اور دفاع پر اربوں روپے کے اخراجات کا جواز ہی ختم ہوکر رہ جائیگا۔
امریکہ کے نئے عسکری ورلڈ آرڈر کیمطابق پاکستان کو بھی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر معصوم شہریوں پر خودکش حملے کرنیوالے دہشتگردوں کا تعاقب کرے جبکہ افغانستان کے حکمران اپنی بے بسی کا اظہار کررہے ہوں کہ دہشتگرد جن علاقوں میں رو پوش ہیں ان پر افغان حکومت کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ افواج پاکستان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح مستعد اور پرعزم ہیں۔
افغانستان میں را اور این ڈی ایس کو واضح اور ٹھوس پیغام پہنچ گیا ہے کہ پاکستان قومی سلامتی کے دفاع اور اپنے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے آخری حد تک جاسکتا ہے۔ پاکستان کے سپہ سالار جنرل جاوید قمر باجوہ نے ثابت کردکھایا ہے کہ کمان کی تبدیلی سے پاک فوج کا عزم اور حوصلہ کمزور نہیں ہوا۔ انہوں نے قوم سے خون کے ہر قطرے کا حساب لینے کا وعدہ کررکھا ہے۔
اْمید ہے پاک فوج دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں پر دباوٴ قائم رکھے گی۔ دہشتگردوں کو گرفتار کرکے انہیں ناقص، کمزور اور کرپٹ عدالتی نظام کے سپرد کرنے کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے لہٰذا ان کو موقع پر ہی کیفر کردار تک پہنچا دینا چاہیے۔
راقم نے دس سال قبل تحقیق پر مبنی کتاب ”جرنیل اور سیاستدان تاریخ کی عدالت میں“ تحریر کی تھی۔
اسکے چند اقتباس آج بھی سیاستدانوں اور جرنیلوں کیلئے قابل توجہ ہیں۔ ”اگر سول ادارے فوج پر ایٹمی اہمیت جتانے کے اہل نہ ہوں تو اپنی خصوصیات کی بناء پر فوج سول اداروں پر غالب آجاتی ہے لہٰذا یہی بیماری کی جڑ ہے جس کا علاج ہونا چاہیے جتنی جلدی ہمیں اس کا احساس ہوجائے اتنا ہی اچھا ہوگا“۔ اختیارات کی مرکزیت ایک بہت بڑی برائی ہے جو کسی معاشرے پر مسلط کی جاسکتی ہے۔
کلی اختیار اور اقتدار اسکے حامل کیلئے مدہوش اور سرمست کرنیوالی کیفیت ہے۔ اختیارات کی مرکزیت ظلم اور غلامی پر منتج ہوتی ہے۔ جاگیردارانہ معاشرے میں ریاست وہ ہتھیار ہے جس سے زرعی اشرافیہ اپنے آپکو اقتدار پر فائز رکھتی ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ریاست ہی وہ ہتھیار ہے جسکے ذریعے مالدار طبقہ حکومت کرنے کا حق برقرار رکھتا ہے اور خودمالدار بھی بنا رہتا ہے۔
مثالی معاشرے تک پہنچنے کا سیاسی راستہ یہ ہے کہ اختیارات کی مرکزیت توڑ دی جائے اور ذمہ دار حکومت خود اختیاری کا نظام قائم کیا جائے۔ آمریت کا راستہ کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتا۔ ”پاکستان کے المیہ ڈرامے میں منتخب اور غیرمنتخب دونوں حکومتوں میں جو مرکزی اور کلیدی نکتہ نظر انداز ہوا ہے وہ ہے پاکستان کے عوام کی خواہشا ت۔ اب بھی اگر امید کی کوئی وجہ باقی ہے تو اس کا انحصار پرجوش اور محنتی مردو زن پر ہے جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
یقینی طور پر ایک دن عوام کی خواہشات غلبہ حاصل کریں گی“۔
آمر جرنیلوں نے کوہ ہمالیائی غلطیاں کیں مگر ماضی کا قیدی بننے کی بجائے ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاک فوج نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے۔ 2008ء کے انتخابات سے 2017ء تک جرنیلوں نے سیاست میں مداخلت نہیں کی اور سیاستدانوں کو فری ہینڈ دیا ہے۔ پریمئر خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی جوماضی میں سیاست میں ملوث رہی ہے گزشتہ دس سال سے پاکستان کی پہلی لائن آف ڈیفنس کے طور پر ہمہ تن مصروف ہے اور ریاست سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہے۔
پاکستان کے جرنیل ادراک کرچکے ہیں کہ سیاست ان کا کام نہیں ہے اور آمرانہ حکومتوں نے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ عسکری قیادت کو اچھے برے طالبان کا امتیاز ختم کرکے عالمی سطح پر پاکستان کے مقدمے کو بہتر بنانا ہوگا۔ کاش سیاستدان بھی اپنی غلطیوں اور ناکامیوں سے سبق سیکھتے اور افواج پاکستان کو حریف سمجھنے کی بجائے ریاست کا اثاثہ خیال کرتے اور میموگیٹ (2011) اور ڈان لیکس(2016) سیاستدانوں کیخلاف ثبوت کے طور پر پیش نہ کیے جاسکتے۔
آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف دونوں نے گڈگورننس کے حوالے سے اپنی اہلیت ثابت نہیں کی دونوں نے جمہوری لیڈر ہونے کے باوجود اختیارات کی مرکزیت کا ماڈل پیش کیا۔ عوام کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں غیرمعمولی تاخیر کی اور انتخابات کے بعد بھی آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کرنے پر آمادہ نہیں۔
وہ سٹیل ملز اور پی آئی اے نہیں چلاسکے انہوں نے کوڑا کرکٹ اٹھانے اور نندی پور پاور پراجیکٹ چلانے کے ٹھیکے غیرملکی کمپنیوں کو دے دیئے ہیں۔ ان کا بس چلے تو ایٹمی ریاست کوبھی ٹھیکے پر دے دیں۔ وہ امن و امان کے قیام، سیلاب اور زلزلے سے تباہی، انتخابات کے انعقاد، مردم شماری، بجلی کے میٹروں اور گھوسٹ سکولوں کے سلسلے میں فوج کی جانب دیکھتے ہیں دونوں پرمیگا کرپشن کے الزامات ہیں۔
عدلیہ کے جج، میڈیا کے اینکر اور کالم نگار ہر روز انکی گورننس کا ماتم کرتے ہیں۔ دونوں کی خارجہ پالیسی ناکام رہی پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے مگر اسے دہشتگرد ریاست سمجھا جاتا ہے۔ کیا ایک ایٹمی ریاست کے صدر، وزیراعظم اور لیڈر اس معیار، اہلیت اور شہرت کے ہونے چاہئیں۔ اہل اور دیانتدار سیاستدان، جرنیل، جج اور بیوروکریٹ ہی ایٹمی ریاست کو متحد، منظم اور خوشحال بناسکتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ شعوری یا لاشعوری طور پر جنوبی ایشیاء میں بھارت کی لانگ ٹرم سٹریٹجی پر عمل ہو رہا ہے جس کا مقصد قومی سلامتی کی آخری اْمید اور ایٹمی ہتھیاروں کی محافظ قوت افواج پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ بیرونی دشمن تو سامنے نظر آرہے ہیں ان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ خطرہ ان دشمنوں سے ہے جو پاکستان کے اندر ہیں۔ خدا کیلئے سیاستدان بقول نامور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگار حسن عسکری اپنی اہلیت تو ثابت کریں۔
جب پاکستان کے اصل حکمران عوام سیاستدانوں کی گڈ گورننس سے مطمئن ہوکر ان پر اعتماد کرنے لگیں گے تو ریاست کے تمام ادارے بھی انکے کنٹرول میں آجائینگے۔ مکروفن، دھونس اور دھاندلی سے 60لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ ووٹ حاصل کرکے 20 کروڑ عوام کی ایٹمی ریاست پر حاکمیت قائم نہیں کی جاسکتی۔
تاریخ اشاعت: 2017-02-27

(0) ووٹ وصول ہوئے