بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
احتجاج کے انوکھے انداز!
احتجاج اور مظاہرے کو زیادہ موثر بنانے، میڈیا،عوام اور حکام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ مظاہرین ٹائر جلا کر، سڑکیں بلاک کر کے، کبھی بھینس کے آگے بین بجا کر، گدھے کو سڑکوں پر لا کر پولیس، انتظامیہ ، کرکٹرز، واپڈا، مہنگائی، لوڈشیڈنگ ، اوور بلنگ سمیت
شاہ نواز تارڑ:
احتجاج اور مظاہرے کو زیادہ موثر بنانے، میڈیا،عوام اور حکام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ مظاہرین ٹائر جلا کر، سڑکیں بلاک کر کے، کبھی بھینس کے آگے بین بجا کر، گدھے کو سڑکوں پر لا کر پولیس، انتظامیہ ، کرکٹرز، واپڈا، مہنگائی، لوڈشیڈنگ ، اوور بلنگ سمیت کئی ذاتی، جماعتی ، قومی یا بین الاقوامی معاملات پر احتجاج کرتے ہیں۔
مظاہرین کا مقصد زیادہ سے زیادہ پذیرائی حاصل کر کے متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کراکے، مطالبات منوانا ہوتے ہیں ۔بعض اوقات لوگ خود سوزی جیسے انتہائی اقدامات بھی کر گزرتے ہیں کہ۔
نہیں ملتی پناہ ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمین پر اٹھا دینا چاہیے
ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کا احتجاج کرنے کا اپنا انداز ہے وہ ہسپتالوں میں مریضوں کو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں۔
شاید دنیا کے کسی کونے کھدرے میں بھی ایسا احتجاج نہ ہوتا ہو۔
کلرک اور پٹواریوں کی اپنی بادشاہی ہوتی ہے۔ وہ قلم چھوڑ ہڑتال کر کے مطالبات منوا لیتے ہیں۔وکلاء مطالبات منوانے کے لیے عدالتوں کو تالے لگا دیتے ہیں۔ ججز کو کمروں میں بند کر دیتے ہیں۔ اساتذہ تعلیمی اداروں کی خود تالا بندی کرتے ہیں۔ کاشتکار احتجاج کے دوران اجناس جلا دیتے ہیں۔
گوالے دودھ سڑکوں پر بہادیتے ہیں مہنگائی کے خلاف احتجاج ہو تو گلے میں روٹیاں اور سبزیاں ڈال کر سینہ کو بی جاتی ہے جو رزق کی ناقدری ہے۔ کبھی کبھار احتجاج پر تشدد ہو جائے تو جلاوٴ گھیراو پر ردعمل سے بھاری جانی مالی نقصان ہوتاہے۔
لیکن بدقسمتی سے ہماری کم علمی اور کج فہمی کے باعث جذباتی پن کی وجہ سے احتجاج کا ایک اور طریقہ بھی متعارف ہو گیا ہے۔
جو افسوسناک ہے اور شعائر اسلام کا مذاق بھی ہے۔ وہ مظاہرین کی طرف سے ’علامتی نماز جنازہ“ ہے۔ احتجا ج جس اتھارٹی یا محکمہ (پولیس ، انتظامیہ، حکومت) کے خلاف ہو مظاہرین اس کا جنازہ سامنے رکھ کر کلمے والی چادر ڈال کر اس پر نماز جنازہ پڑھتے ہیں جو سراسر شعائر اسلام کی توہین ہے کیونکہ اگر علامتی جنازہ سامنے رکھا ہو تو کیا مظاہرین باوضو ہو کر پڑھیں گے اور جنازے کے شرکاء (امام، مقتدی) اس پر کیا پڑھیں گے کیونکہ نماز جنازہ تو ساری کی ساری دعا ہے۔
ایک ورایت (جس کی صحت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے) ہے کہ چند یہودیوں نے (نعوز باللہ) شرارت یا مذاق کے لیے ایک بندے کو چار پائی پر لٹاکر حضور نبی کریم ﷺ کو جنازہ پڑھانے کی دعوت دی ۔ مقصد(نعوذ باللہ) یہ تھاجو نہی نماز جنازہ ختم ہو گئی ”مردہ“ بھی اٹھ کھڑا ہو گا۔ ہم بھی تالیاں بجا دینگے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جس طرح فرمایا ہے ترجمہ آیت کریم:(انہوں نے بھی تدبیر کی اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیر اور اللہ تعالیٰ تو بہتر تدبیر کرنیوالا ہے) اور ایک دوسری آیت کے مطابق(اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرتا ہے اور ان کی سرکشی میں ان کو مزید کھینچتا ہے جس میں وہ بہکتے چلے جاتے ہیں)بس ایسے ہی ہوا پھر اللہ کا حکم غالب آیا، فیصلہ ہوا۔
”مردہ“ اٹھانہ تالیان بجانے کی نوبت آی ”ورفعنالک ذکرک“ کا ڈنکا بج گیا۔ اس لیے احتجاج کرنیوالوں کو شعائر اسلام کا بہر صورت خیال رکھنا چاہیے۔
احتجاج کا ایک رنگ حوالاتوں اور جیلوں میں بھی ہوتا ہے جہاں ملزم اور مجرم اقدامات خود سوزی وخودکشی سے گریز نہیں کرتے۔ ایسا پولیس رویوں اور تشدد سے تنگ آکر ہی ہوتا ہے ۔ انصاف نہ ملنے پر کئی لڑکیوں کے تھانے میں خود سوزی کے واقعات ہو چکے ہیں۔
بعض اوقات پولیس اہکار ملزموں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد حالت انتہائی خطرے میں ہونے کی صورت میں ان پر اقدامات خودکشی کے مقدمات بنا دیتی ہے۔
اس سلسلے میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خان نے بتایا کہ قیدی، حوالاتی اکثر اوقات ناجائز مطالبات منوانے اور جیل انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کے لیے ہونٹ سینے سمیت کئی انتہائی قسم کے اقدامات بھی کر گزرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-11

(0) ووٹ وصول ہوئے