تازہ ترین : 1
Eheem Shaksiat Nishane Per

اہم شخصیات نشانے پرہیں

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آخری مرحلہ۔۔۔سیاسی وعسکری قیادت نے دہشتگردی کے خلاف اس جنگ کی ابتداطالبان گروپوں کے خلاف کارروائی سے کی تھی جس کے بعد کرپشن اور دیگر معاملات کو بھی دیکھا جانے لگا

مصنف : سید بدر سعید
سانحہ پشاور سے قبل ہی حکومت پاکستان کی جانب ملک میں دہشتگردی کو ختم کرنے کے مختلف طریقوں پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات شروع کر دیئے گئے تھے ۔تحریک طالبان پاکستان سابق امیر حکیم اللہ محسود سے باقاعدہ امن مذکرات “ سلسلہ بھی شروع کی گیا تاکہ وطن عزیز میں ہونے والے خود کش حملوں کا سلسلہ کسی صورت روکا جاسکے ۔اس سلسلے میں طالبان اور حکومت کی جانب سے مذکراتی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی تھی ۔
حالات میں بہتری کی امید نظر آنے لگی تو حکیم اللہ محسود ڈرون حملے کا نشانہ بن گئے۔اُن کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملافضل اللہ ہے لیکن اسکے ساتھ ہی تحریک طالبان پاکستان میں پھوٹ پڑگئی۔اس کے متعدد اہم کمانڈر جماعت الاحرار اور القاعدہ سمیت دیگر کئی گروہوں میں بٹ گئے۔حکیم اللہ کے ساتھ ہی امن مذکرات بھی لپیٹ دیئے گئے ۔ملافضل اللہ نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں جس پر حکومت اور سکیورٹی اداروں نے پلان بی اور سی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسندگروہوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ ہوا تو ملک میں طوفان برپاہوگیا۔اُس وقت یہ بھی کہا جارہا تھا کہ طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی صورت میں پورا ملک بم دھماکوں سے گونج اُٹھے گا اور وہ اس آپریشن کا جواب ملک کے طول وعرض میں خودکش بمبار کی لائن لگا کر دیں گے۔آپریشن ضرب عضب شروع ہوا تو فوج نے بھر پور انداز میں طالبان کا کمانڈ اینڈکنٹرول سسٹم توڑدیا اور خاص طور پر قبائلی علاقوں کا پاکستان کے دیگر علاقوں سے رابطہ ختم کردیا۔

دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم حکومت اور فوج اس وقت ایک صفحہ پر اکٹھی ہوئی جب گزشتہ برس شدت پسندوں نے پشاور سکول پر حملہ کرکے بچوں کا قتل عام کیا۔سانحہ پشاور پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔فوجی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ متعدد اہم فیصلے کئے جانے لگے۔ان میں سے بعض فیصلے ایسے بھی تھے جن پر سیاستدان نمناک آنکھوں سے کہتے پائے گئے کہ یہ ملک وقوم کی بقاکامسئلہ نہ ہوتا تو وہ ان فیصلوں کی حمایت نہ کرتے ۔
پاکستان میں طویل عرصہ بعد پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اورافغانستان تک شدت پسندوں کا پیچھا کیا جانے لگا۔
ایک طرف پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہا تھاتو دوسری طرف ملکی ترقی اورخوشحالی کیلئے بھی اہم اقدامات کئے جارہے تھے۔پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ طے پاگیا۔اس سلسلے میں سب سے بڑا مسئلہ اس تجارتی راستے کی حفاظت تھا۔
یہ بات واضح تھی کہ اگر پاکستان کو عالمی تجارت کا مرکز بننا ہے یا ایشیاء اور خلیج کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے تو اسکے لئے سکیورٹی بہت ضروری ہے۔ بلاشبہ پاکستان نے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر دستخط کر کے نئی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ اس کے باوجود یہ بڑی کامیابی نہیں تھی ۔وجہ یہ تھی کہ اگر پاکستان کے حالات بہتر نہ ہوتے اور یہاں دہشتگردی کا سلسلہ جاری رہتا تو تجارتی راہداری کے بادجود یہاں تجارتی سامان کو نقل وحمل نہ ہو پاتی۔
اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے قیادت نے صورتحال بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی ۔اس کے بعد ہی پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں بڑے پیمانے پر رینجرز نے آپریشن شروع کر دیا۔کراچی کی بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم پر متعدد الزامات لگائے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ ایم کیوا یم زے زیر سایہ پلنے والے بھتہ مافیا پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا ۔

رینجرز نے کراچی آپریشن کا آغازی ہی ایم کیو ایم کے مزکرنائن زیروپرچھاپہ مارکرکیا اور وہاں سے اسلحہ برآمدکرکے میڈیا کے سامنے رکھ دیا۔پھر کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے خلاف بھی آپریشن کیا گیا جو ملکی ہی نہیں بیرون ممالک بسنے والے سرمایہ کاروں کیلئے بھی واضح پیغام تھا ۔بھتہ مافیا کے خلاف ہونے والی اس بڑی کارروائی کے بعد نیب لینے والے بڑ مگر مچھوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
اس سلسلے میں بھی بیوروکریسی اور سیاسی شخصیات گرفت میں آگئیں ۔
سیاسی وعسکری قیادت نے دہشتگردی کے خلاف اس جنگ کی ابتداطالبان گروپوں کے خلاف کارروائی سے کی تھی جس کے بعد کرپشن اور دیگر معاملات کو بھی دیکھا جانے لگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر تھی کہ طالبان کے علاوہ بھی متعدد ایسے گروہ تھے جو شدت پسندانہ رحجانات رکھتے ہیں۔تیسرے مرحلے میں اُن کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی گئی۔
دوسری جانب بلوچستان کی طرف بھی خصوصی توجہ دی گئی۔یہاں سے ” را“ کانیٹ ورک توڑا گیا۔فراری کمانڈرزہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے لگے اور حکومتی دھارے میں شامل ہونے لگے اور حکومتی وفودخان آف قلات سے ملاقات کرکے انہیں واپس لانے کے لیے متحرک ہوگئے۔یہ سب دہشت گردی کے خلاف اسی جنگ کا حصہ تھا۔
فیصلہ سازوں کے مطابق عالمی تجارت کارخ پاکستان کی طرف موڑنے اور پاکستانی عوام کی ترقی وخوشحالی کیلئے ملک سے ہر قسم کی شدت پسندی اور عسکری رحجانات کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔
اس سلسلے میں بڑی خبر لشکر جھنگوی کے قائد ملک اسحاق کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے طور پرگونجتی رہی۔ملک اسحاق کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کااہم مہرہ ہے لیکن اُن کی موت نے ان الزامات کو دھودیا۔ملک اسحاق پولیس حراست میں ہی پولیس مقابلے کا شکار ہوئے۔ یادرہے کہ اس سے قبل درجنوں جج ملک اسحاق کا مقدمہ اپنی عدالت میں آنے پر یا تو چھٹیوں پر چلے گئے یایہ مقدمہ سننے سے انکار کرچکے تھے لیکن ملک اسحاق کا فیصلہ ہوا بھی تووہ بھی پولیس حراست میں ہی مارے گئے۔
اُن کے بارے میں وزیر داخلہ پنجاب کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے کہا کہ ملک اسحاق کی موت نیشنل ایکشن پلان کے مطابق تھی ۔خانزادہ کے بیان نے بہت سی باتوں کو عیاں کودیا تھا۔خانزادہ کے دور میں ہی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا دوبارہ آغاز ہوا اور زمبابوے کی ٹیم پاکستان آئی۔اس موقع پر شدت پسندوں نے کرکٹ سٹیڈیم کے باہر دھماکہ کیا لیکن پاکستانی حکام کی جانب سے اس واقعہ کو دبالیا گیا اور میڈیا کو بھی اسے بریکنگ نیوزبنانے سے روک دیا گیا۔
اس بروقت فیصلے کی وجہ سے شدت پسند کامیابی کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرپائے۔یہ بات نیشنل ایکشن پلان بناتے وقت ہی واضح تھی کہ اس کا ردعمل انتہائی شدید ہوسکتا ہے ۔دوسری جانب شدت پسندوں کے کیمپ میں بھی یہی طے پارہاتھا کہ ہر ممکن کوشش کرکے نیشنل ایکشن پلان کے خلاف اپنی طاقت ثابت کی جائے اور عوام کوخوف میں مبتلاکیا جائے تاکہ عوامی ردعمل سے گھبرا کر حکومت اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور ہو جائے ۔
اس مقصد کیلئے شدت پسندبھی ایسے ٹارگٹ کی تلاش میں تحرتھے جن تک پہنچنا آسان ہولیکن انہیں ”ہٹ “ کرنے کے بعد جو ردعمل سامنے آئے وہ عام حملے سے کئی گنا زیادہ ہو۔دوسری طرف یک طالبان پاکستان بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہوچکی تھی اور تیسری طرف فوج نے بھی بھرپور آپریشن شروع کر کررکھا تھا جس کی وجہ سے تحریک طالبان کی مرکزی قیادت کا دیگر عسکریت پسندوں سے بھی رابطہ ٹوٹ چکاتھا۔
شدت پسندوں کی جانب سے اس سلسلہ میں لاہور واہگہ بارڈر آنے والے پاکستانیوں کے ہجوم نے اس حملے کے مطلوبہ نتائج ختم کردئیے ۔اسی طرح شدت پسندوں کی جانب سے زمبابوے اور پاکستان کے میچ کے دوران بھی دھماکہ کیا گیا لیکن اس دھماکے کے بعد بھی سٹیڈیم لوگوں سے بھرارہا اس کی وجہ سے یہ حملہ بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکا۔دوسری جانب عسکری اداروں نے پاکستان بھر کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنا شروع کردیاتھا۔

دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ اب پہچان خیز مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔شدت پسندگروہ اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں ۔اُن کے ہینڈلراور ماسٹر مائنڈ کے طور پر بھارتی خفیہ ادارے کانام سب کے سامنے آچکاہے اور عسکری قیادت واضح طور پر ”را“ کانام لے رہی ہے ۔وزیرداخلہ بھی بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہیں جبکہ حال ہی میں شہید ہونے والے وزیرداخلہ پنجاب نے بھی ” را“کانام لیا تھا۔
شدت پسنداور پاکستان دونوں ہی اس جنگ کے اہم موٹر پر کھڑے ہیں۔اب تک متعدد مقامات سے دہشتگرد اور اسلحہ پکڑ کر بڑے منصوبوں کو ناکام بنایا جاچکاہے۔ جنگ کے اس موٹر پر شدت پسند اعلی سیاسی ومذہبی شخصیات کو نشانہ بنا کر ملک میں افراتفری کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کے ساتھ ہی سوال اُٹھایا جائے گا کہ جب اعلی شخصیات محفوظ نہیں تو پھر عوام کیسے محفوظ ہوسکتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اکثر سیاستدان اپنے حلقے میں بہت زیادہ سکیورٹی کے لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں ۔
اسی طرح مشہور جمانے کیلئے اہم شخصیات کی ریکی شروع کردی ہے۔مطلب واضح ہے کہ اہم شخصیات دہشتگردوں کے نشانے پر آچکی ہیں۔اس سلسلے میں وزیر داخلہ پنجاب کرنل (ر)شجاع خانزادہ کو اس کے ڈیرے پر عوامی کچہری کے موقع پر خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
اس کے فوراََ بعد کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رکن رشیدگوڈیل کی گاڑی پر حملہ کیاگیا۔ان دونوں حملوں کے پیچھے پاکستان کی کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ بھارتی خفیہ ادارے ” را“ کانام بھی لیا گیا ۔ان حملوں کے فوراََ بعد فیصل آباد میں صوبائی وزیر خاتون رانا ثناء اللہ کے گھر کے قریب سے 7مہینہ دہشتگرد گرفتار کئے گئے جن کا تعلق اٹک حملے سے بھی بتایا گیا ہے۔
ان سے بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔یہ دہشتگردصوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی موجودہ رہائش گاہ سے صرف چار گھر کے فاصلے پر ٹھہرے ہوئے تھے جبکہ ان کے آبائی گھر کے بالکل سامنے تھے اسی طرح وزیر ریلوے سعدرفیق کے گھر کے پاس سے بھی مشکوک شخص گرفتار کیا گیا ہے۔
محکمہ داخہ نے بھی لاہور میں حساس عمارتوں کی ایک فہرست جاری کردی ہے ۔
اس فہرست کے مطابق 37تنصیبات کو حساس قرار دیا گیاہے ۔وزارت داخلہ کی جانب سے تیار کی گئی اس فہرست میں پنجاب اسمبلی ، گورنر ہاؤس ، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ماڈل ٹاؤن اور جاتی عمرہ کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ سی سی پی او آفس سپیشل برانچ ہیڈ کوارٹر ، سول سیکرٹریٹ اور واپڈاہاؤس کے ساتھ ساتھ پولیس ٹریننگ سکو مناواں ، ایلیٹ فورس ٹریننگ سکول بیدیاں روڈ ، پرانا ائرپورٹ ، کورکمانڈرہاؤس اور رینجرز ہیڈ کوارٹر بھی شامل ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کی شہادت کے بعد اب وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ، گورنر رفیق رجوانہ، حمزہ شہباز شریف ، اسحاق ڈار ، خواجہ آصف ، بلال یاسین ،ا ٓئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا، ڈی آئی جی لاہور حیدر اشرف ، ایس پی سی آئی اے عمرورک سمیت متعدد اہم شخصیات دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ رہیں ۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ کا یہ آخری مرحلہ ۔
اسی لئے اس کی پہچان خیزی میں اضافہ ہوتا نظرآرہا ہے ۔شدت پسند ” سافٹ ٹارگٹ “ کے طور پر اہم شخصیات پر حملے کرکے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر سکتے ہیں جبکہ سکیورٹی ادارے انہیں ہر حال میں ناکام بنانے کی کوشش کریں گے ۔اس وقت اہم شخصیات دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پرہیں ۔سکیورٹی ادارے ان شخصیات کی حفاظت کیلئے متحرک ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اہم شخصیات خوف سے دبک کر گھر بیٹھ جاتی ہیں یامحتاط رہتے ہوئے قوم کے حوصلے بلند رکھتی ہیں ۔
اس اعصاب شکن مرحلے میں قیادت نے اگر بھرپور حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا تو یقینا اس سے قوم کا حوصلہ بلند ہوگا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہلکی سیکورٹی میں ذرابھی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے ۔گر شدت پسند حملوں میں کامیاب ہوگئے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اس آخری موڑ پر اہم عمارتیں اور اہم شخصیات براہ راست شدت پسندوں کے ٹارگٹ پر آچکی ہیں ۔یہ وہی لمحہ ہے جب بہترین فیصلے قوموں کو فتح دلا دیتے ہیں اور بزدلی شکست کا باعث بن جاتی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-09-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں