بند کریں
جمعرات مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈاکٹر عافیہ کے بچوں کے روز و شب
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچے خود کو اپنی ماں کے بغیر بہت ادھورا محسوس کرتے ہیں ۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی ہر ہر لمحے انہیں اپنی امی کی یاد ستاتی ہے۔ان کا بیٹا محمد احمد اور بیٹی مریم محمد رمضان کے پورے روزے رکھ رہے ہیں
صوفیہ یزدانی :
پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکی قید خانے میں اپنی رہائی کی منتظر ہیں۔ انہیں 23ستمبر 2010ء کو امریکی حکام کی جانب سے چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ان کے بچے‘والدہ اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی قوم ان کی رہائی کے لیئے دعاگو اور ان کی واپسی کی منتظر ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچے خود کو اپنی ماں کے بغیر بہت ادھورا محسوس کرتے ہیں ۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی ہر ہر لمحے انہیں اپنی امی کی یاد ستاتی ہے۔ان کا بیٹا محمد احمد اور بیٹی مریم محمد رمضان کے پورے روزے رکھ رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں ان کے روزوں اور ان کی امی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے دونوں بچوں کے ساتھ خصوصی گفتگو کی گئی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صاحبزادی سولہ سالہ مریم محمد اولیول میں زیر تعلیم ہیں اور ان پر روزے فرض ہونے کے بعد سے پورے روزے رکھ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی امی چاہیئے میں نے امی کے لیے بہت انتظار کیا ہے اب مزید انتظار نہیں کیا جاتا .اس سال بھی رمضان میں بھی امی کی کمی بہت شدت کے ساتھ محسوس ہورہی ہے۔ ہماراگزشتہ رمضان بھی امی کی رہائی کی اْمید میں گزر گیا تھا۔ سحری اور افطار کے وقت بھی امی بہت زیادہ یاد آتی ہیں۔مریم نے بتایا کہ اس سال رمضان المبارک میں گرمی بہت زیادہ ہے لیکن میں نے کبھی گرمی کی وجہ سے روزے نہیں چھو ڑے ۔
روزے ہم صرف اللہ تعالیٰ کے لیئے رکھتے ہیں۔ میں روزہ رکھ کر نمازیں اور تراویح باقاعدگی کے ساتھ پڑھتی ہوں اور ترجمے کے ساتھ قرآن بھی پڑھ رہی ہوں۔انشاء اللہ 27ویں رمضان المبارک تک پورا قرآن پاک مکمل کرلوں گی ‘رمضان کی عبادت کا مزا ہی کچھ اور ہے مریم نے بتایا کہ عبادات کرنے کے ساتھ ساتھ میں سحری اور افطاری بنانے میں بھی خالہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی مدد کرتی ہوں لیکن امی کی کمی اور ضرورت لمحہ لمحہ محسوس ہوتی ہے۔
خالہ ہر مرحلے پر ہمارے ساتھ ہیں لیکن ماں کی کمی تو کوئی پوری نہیں کر سکتا میرا دل کرتا کہ میں اپنی باتیں اپنی امی کے ساتھ شیئر کروں۔ مریم کہنے لگیں کہ رمضان المبارک کی راتیں امی کی یاد میں روتے اور ان کی رہائی کے لیئے دعائیں مانگتے ہوئے گزر جاتی ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے پاکستان کی حکومت ہماری مدد کیوں نہیں کررہی۔ گزشتہ سال وزیر اعظم نواز شریف سے ہماری ملاقات ہوئی تھی۔
اس وقت انہوں نے امی کو رہائی دلانے کاوعد ہ کیا تھا لیکن انہوں نے امی کی رہائی کے لیئے اپنا وعد ہ پور ا نہیں کیا۔میں وزر اعظم صاحب سے اپیل کرتی ہوں کہ آپ پلیز امی کی رہائی کے لیے کیا گیا اپنا وعد ہ پور ا کریں کیا ہماری یہ عید الفطر بھی امی کے بغیر ہی گزر جائے گی۔ اب ہم نے ایک اور عید ان کے بغیر نہیں گزارنی ‘آپ ہماری امی کو واپس لے کر آئیں۔
مریم محمدنے آخر میں اپنی امی کے لیے دعا کی کہ وہ جہاں بھی ہیں صحیح سلامت اور خیریت سے رہیں اور جلدی سے ہمارے پاس آجائیں۔میری امی بہت عظیم ہیں جو امریکہ کی قید میں بھی ہمیشہ پورے روزے رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے صاحبزادے محمد احمد اے لیول میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے اپنے رمضان اور امی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے پہلا روزہ بچپن میں رکھا تھا اور 2008ء سے باقاعدگی کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھ رہا ہوں۔
میں رمضان میں امی کی رہائی کے لیے خصوصی دعائیں کرتا ہوں۔ اللہ کے فضل سے ابھی تک میرے روزے بہت اچھے گزرے ہیں۔میں نمازکے ساتھ تراویح بھی پڑھتا ہوں‘ ترجمے کے ساتھ قرآن پاک پڑھ رہاہوں اور افطاری کی تیاری میں خالہ فوزیہ صدیقی کی مدد کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت ساری نعمتیں دی ہیں۔ رمضان المبارک ہمیں صبر ارو شکر کا درس دیتا ہے۔
روزہ ہم للہ تعالیٰ کے لیے رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے روزے قبول فرمائے (آمین)۔محمد احمد نے کہا کہ ہم بہن بھائی طویل عرصے سے امی کی رہائی کے منتظر ہیں۔امی کی یاد میں ہمارا دل ہر وقت روتا رہتا ہے۔ ہماری خالہ نے ہمیشہ ہر مقام پر ہمارا بہت خیال رکھا ہے۔ نصف سے زائد رمضان المبارک گزر چکا ہے کا ش اس ماہ مبارک میں امی ہمارے ساتھ ہوتیں تو ہم کتنے خوش قسمت ہوتے۔
ہم نے کئی رمضان اور عیدیں اْ ن کے بغیر دکھ اور غم میں گزار دیں۔ رمضان میں ہر ہر لمحے ا نکی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اگر وہ یہاں ہوتیں تو ہر جگہ ہماری رہنمائی کرتیں۔ محمد احمد نے بتایا کہ جب امی رہا ہوکر آئیں گی تو میں ان سے گلے ملوں گا، انہیں کھلانے پلانے لے جاؤں گا۔ان سے بہت ساری باتیں کروں گا اور کراچی شہر کی سیر کراؤں گا ۔ احمد نے بتایاکہ میں سحری میں چائے اور روٹی کھاتا ہوں اور افطاری سموسے اور فروٹ چاٹ سے کرتا ہوں۔
افطاری کے بعد نانی واعظ کرتی ہیں اور سب گھر والے امی کی رہائی کے لیئے اور دوسری دعائیں کرتے ہیں۔ میں حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ خد ا کے لیے وزیر اعظم اپنا وعد ہ پور ا کرتے ہوئے ہماری امی کو واپس لانے کی کوشش کریں۔میری حکومت سے اپیل ہے کہ پلیز اس عید پر ہماری امی کو لے آئیں۔میری بہن ہر عید پر امی کے لیے روتی ہے کہ وہ کب واپس آئیں گی۔ ہمیں یہ عید تو اچھی طر ح منانے دیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-16

(8) ووٹ وصول ہوئے