تازہ ترین : 1
Dilli App Ka Hua

دلی’آپ‘کا ہوا

پاکستانیوں کے لیے یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ پورے بھارت میں بی جے پی کا راج ہونے کے باوجود انہیں دلی میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر پوری دلی سے کہیں بھی یہ شکایت سننے کو نہ ملی کہ ’دھاندلی‘ ہوئی صاحب۔ آپ مانیں یا نہ مانیں

مصنف : اجمل جامی
دلی میں دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد عام آدمی پارٹی صرف انچاس روز حکومت میں رہی، اتحادیوں سے بنی ریاستی حکومت(State Government) کو ان انچاس روز میں بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور جب جنتا سے کیے وعدے پورے ہوتے دکھائی نہ دیے تو کیجریوال دھرنے پر بیٹھ گئے اور یوں ' آپ'(AamAdmi Party)کا سفر تمام ہوا۔ کیجریوال نے ہمت نہ ہاری اور اگلے انتخابات کے لیے کمر کس لی، لوک سبھا کے چناو میں ساڑھے چار سو سے زائد نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے لیکن فقط چار نشستیں ہی جیت پائے، یہ چار نشستیں بھی صرف پنجاب سے ہی حاصل کیں۔
عام آدمی پارٹی کا اگلا ہدف فروری کے ریاستی انتخابات میں کامیاب ہونا تھا، اروند کیجریوال یعنی "دی مفلر مین" اور ان کی پارٹی نے تنظیم سازی کی، وقت سے پہلے امیدوار نامزد کیے، نوے روز تک عوام سے ملتے جلتے رہے، مقامی مسائل کو سمجھا اور ان مسائل کو اپنا منشور بنایا، گلی گلی گئے، ماضی سے سبق سیکھا،اور جنتا سے ایک موقع اور دینے کی بِنتی)درخواست ( کی۔

انتخابات ہوئے اور پھر دلی کی عام آدمی پارٹی نے بھارتی تاریخ میں ستر میں سے سڑسٹھ نشستیں جیت کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ دو ہزار تیرہ میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی اٹھائیس نشستیں حاصل کر کے منظر عام پر آئی تھی، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بتیس ، کانگریس نے آٹھ اور باقیوں نے دو نشستیں حاصل کی تھیں۔ لیکن اب کی بار عام آدمی پارٹی سڑسٹھ نشستیں جیت کرواضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔
نریندر مودی کی بی جے پی محض تین نشستیں حاصل کر سکی لیکن سب سے بڑا دھچکا کانگریس کو لگا؛ بھارت کی قدیم ترین سیاسی جماعت دلی کے انتخاب میں ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔ دلی انتخابات نے بڑے بڑے برج الٹ دیے، کانگریس کے جنرل سیکٹری اجے میکن عام آدمی سے بری طرح ہار گئے، بی جے پی کی نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کرن بیدی کو عام آدمی کے 'ایس کے بگا 'نے پچھاڑ دیا۔
بھارتی سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ دلی انتخابات میں عام آدمی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ وہ کیا جو بی جے پی نے لوک سبھا کے چناو میں کانگریس کے ساتھ کیا تھا۔
اس شاندار جیت کے ساتھ ہی کیجریوال کو نا صرف نریندر مودی، راہول گاندھی اور سونیا گاندھی بلکہ کرن بیدی نے بھی مبارکباد دی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ رواں برس جنوری میں کرن بیدی نے' آپ' کے رہنما اروند کیجریوال کو ٹوئٹر پر بلاک (Block)کر ڈالا، بیس جنوری کو کیجریوال صاحب نے مادام کو ٹویٹ کی صورت میں عرضی بھیجی کہ"دیکھیے کرن جی!! ہم آپ کو فالو کرتے رہے اور اب آپ نے ہمیں بلاک کر ڈالا،، ان بلاک کیجیے پلیز۔
" لیکن کرن بیدی نے ان کی ایک نہ سنی، بلکہ میڈیا پر تصدیق کر ڈالی کی جی ہاں ، ہم نے کیجریوال کو بلاک کر دیا ہے اور وجہ یہ بیان کی کہ کیجریوال ٹوئٹر پر منفی باتیں کرتے ہیں، اور ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لاکھوں فالورز(Followers) تک یہ منفی باتیں پہنچیں۔ مگر جیسے ہی دلی چناو کا نتیجہ آیا تو انہی کرن بیدی جی نے نہ صرف کیجریوال کو ان بلاک کیا بلکہ انہیں جیت پر مبارکباد بھی پیش کی۔

پاکستانیوں کے لیے یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ پورے بھارت میں بی جے پی کا راج ہونے کے باوجود انہیں دلی میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر پوری دلی سے کہیں بھی یہ شکایت سننے کو نہ ملی کہ 'دھاندلی' ہوئی صاحب۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، مربوط اور پختہ نظام اسے ہی کہتے ہیں جسے رائج کیے دہائیاں بیت چکیں اور اس کا پھل بھارتی جنتا اب پا رہی ہے۔
عام آدمی پارٹی کی تاریخی فتح کو سیاسی پنڈت بھارت میں متبادل سیاست کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں لیکن شاید ابھی یہ راستہ مزید طویل ثابت ہو، کیونکہ کیجریوال کو اب حقیقی معنوں میں انتخابی وعدوں اور منشور پر عمل درآمد کرنا ہوگاوگرنہ وہ تاریخ کے پنوں )صفحات(میں ماضی کا حصہ ہو جائیں گے۔
کیجریوال کی کامیابی کے پیچھے کئی اہم محرکات ہیں، سیاستدان غلطیاں کرتے ہیں لیکن انہیں دوبارہ پذیرائی فی الفور شاید ہی ملتی ہو، اس لحاظ سے کیجریوال قدرے خوش قسمت بھی ثابت ہوئے۔
کیجریوال نے دلی میں انتشار(Polarization)کی سیاست سے اجتناب کیا۔ دلی میں مسلمانوں کی تعداد بارہ فیصد کے قریب ہے،گو انہوں نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ انہیں ووٹ دیں لیکن جب دلی کے امام مسجد نے ان سے قربتیں بڑھانے کی کوشش کی تو کیجریوال نے عام آدمی پارٹی کی سیکولرشناخت برقرار رکھنے کے لیے ان سے ایک مناسب فاصلہ رکھنا پسندکیا۔ ان کا یہی وطیرہ تمام مذاہب اور طبقات کے ساتھ دیکھنے کو ملا،انتخابی مہم کے دوران وہ یہ ثابت کرتے رہے کہ 'عام آدمی' کے لیے سب برابر ہیں اور 'عام آدمی' سب کی جماعت ہے۔
چناو کے دوران ان کے مخالفین نے ان پر خوب جملے کسے، انہیں میڈیا پر بھی مخالفین کے خلاف بہتیرا اکسایا گیا، لیکن اب کی بار کیجریوال قدرے بدلے بدلے اور پختہ کار دکھائی دئیے، حتیٰ کہ انہوں نے کرن بیدی بارے بھی مخالفانہ بیان بازی سے گریز کیا، حالانکہ ہمارے ہاں چناو کے ہنگام میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی یا پولیٹکل پوائنٹ سکورننگ انتہائی اہم حربہ مانا جاتا ہے۔

مقامی مسائل کو بھی کیجریوال خوب اچھی طرح سمجھے، نوجوان طبقہ کوانہوں نے بالخصوص اپنی جانب متوجہ کیا اور شہری علاقوں میں فری وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت دینے کا بھی اعلان کر دیا۔ اس جیت میں بی جے پی کا بھی اہم کردار ہے۔ بی جے پی نے لوک سبھا کے انتخابات جیتنے کے بعد دلی کی سیاست کوآسان سمجھنا شروع کر دیا تھا، بے اعتنائی اور گھمنڈان کے نیتاوں (رہنماوں(کے رویے میں نمایاں تھا۔
ایک طرف مفلر مین تھا اور دوسری جانب دس لاکھ کا سوٹ زیب تن کرنے والے مودی تھے۔ رہی بات کانگریس کی تو یہ بات طے ہوچکی کہ اب کے بار کانگریس کے ووٹ بھی عام آدمی کو ہی ملے۔اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے سیکڑی جنرل اجے میکن جو خود دلی چناو لڑ رہے تھے نے اس بدترین شکست پر پارٹی کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہمارے کچھ دوست دلی کی عام آدمی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کا بھی خوب موازنہ کرتے ہیں، بسا اوقات تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف پاکستان کی عام آدمی پارٹی ہے۔
یہ بات کسی حد تک درست مانی جاسکتی ہے لیکن تقابلی جائزہ دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے سے مختلف ثابت کرتا ہے۔ دونوں جماعتوں میں سب سے اہم فرق یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے ہاں واقعتا عام آدمی ہی پائے جاتے ہیں ۔دوسری اہم بات یہ کہ عام آدمی پارٹی کے ہاں لوٹوں اور تحریک انصاف کے ہاں عام آدمی کی خاصی کمی ہے۔
وقت اشاعت : 2015-02-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

Ajmal Jami

مصنف کا نام : اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں