بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دینی اداروں اور مدارس سے ٹیکس وصولی!
حکومتی خزانے کاپیٹ بھرنے کیلئے غیر شرعی فیصلے
شاہ جی:
ہمارے ہاں زیادہ مساجد سرکاری سرپرستی میں نہیں ہیں۔ ایسی مساجد کی زمین تک کسی شخص کی عطیہ کردہ ہوتی ہے یاعلاقہ کے لوگ چندہ جمع کرکے جگہ حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح مساجد کی تعمیر کے لیے بھی چندہ اکٹھا کیاجاتاہے۔ عام طور پر ایسی مساجد کامکمل نظام عوامی چندے کے بل پر چلایاجاتا ہے۔ لگ بھگ ہر مسجد میں لوہے کاباکس رکھاجاتا ہے جس میں نمازی اپنی حیثیت کے مطابق رقم ڈال دیتے ہیں۔
عموماََ رقم پانچ دس یاپچاس روپے تک ہوتی ہے۔ کم ہی لوگ اس سے زیادہ رقم اس باکس میں ڈالتے ہیں۔ اسی طرح جمعہ کی نماز سے قبل بھی تمام نمازیوں سے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے دوافراد ایک رومال تھامے ان کے درمیان چکر لگاتے ہیں۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں اور ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیاتھا۔ اس کے باوجود یہ سچ ہے کہ ہمارے ہاں بیشتر مساجد کانظام اسی طرح چنے کی مدد سے چل رہا ہے۔
اسی چندے کی رقم سے بجلی کابل اداکیاجاتا ہے۔ امام مسجد، موذن، خادم اور قاری کی تنخواہیں اداکی جاتی ہیں۔ ٹوپیاں اور معذور نمازیوں کے لیے صفیں، ٹوپیان اور معذورنمازیوں کے لیے کرسیاں تک چندے اور عطیات کی مدد سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اب ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے دینی اداروں اور مساجد کوبھی کاروباری اداروں کی طرح ٹیکس نیٹ میں شامل کردیاہے۔
دیگر الفاظ میں حکومت اب سرکارچلانے کے لیے دینی اداروں اور مساجد کاچندہ بھی کھائے گی اور اس رقم سے صاحبان اختیار کی عیاشیوں کاانتظام جاری رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں اتحاد تنظیمات المدارس کے رہنماؤں نے بتایا کہ مساجد کودئیے جانے والے عطیات وقف ہوجاتے ہیں اور ان پر دوہولڈنگ ٹیکس وصول کرنا شرعاََ جائز نہیں ہے۔ انہوں نے تواپیل بھی کی ہے کہ دینی مدارس، جامعات اور مساجد کے اکاؤنٹس سے متشنیٰ قرار دیاجائے اور جوٹیکس وصول کیاجاچکا ہے اسے واپس ان اکاؤنٹس میں جمع کرایاجائے۔
یادرہے کہ یہ سلسلہ یکم جولائی سے جاری ہے۔ اس سے قبل اکثر مساجد ٹیلی ویژن ٹیکس بھی جمع کراچکی ہیں جوانہوں نے بعدمیں درخواست دے کربندکرایا تھا۔ یادرہے کہ برطانیہ اور یورپ میں بھی مساجد سے اس طرح ٹیکس نہیں لیاجاتا۔ وہاں بھی جولوگ مساجد اور رفاہی اداروں کوعطیات دیتے ہیں،، ان پر وہاں کی حکومتیں وصول کیا ہواٹیکس ان رفاہی اور مذہبی اداروں کے اکاؤنٹس میں جمع کروادیتی ہیں۔

حکومت کویہ حق حاصل ہے کہ دینی مدارس اور مساجد کوملنے والے عطیات کاحساب رکھے۔ ان کے بنک اکاؤنٹس اور کھاتوں کی نگرانی کرے لیکن اس کایہ مطلب تونہیں کہ ان سے کاروباری اداروں کی طرح ٹیکس وصولی شروع کردے۔ ہمارے ہاں اکثر مساجد اور دینی اداروں کاعملہ مزدور کے لیے مقرر تنخواہ سے بھی کم تنخواہ لیتا ہے ۔ اکثرمساجد کے خادمین اپنی خدمات فی سبیل اللہ پیش کرتے ہیں۔
لوگ مساجد کی صفائی کرنا باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ اگر یہ لوگ بھی معاوضہ طلب کرنا شروع کردیں تو مساجد کی انتظامیہ کومزید مشکلات کاسامنا کرناپڑسکتاہے۔ ایک طرف توعام شہری مساجد اور دینی مدارس کے احترام میں بلا معاوضہ خدمات پیش کردیتے ہیں۔ دوسری طرف ہماری سرکار عوامی چندے کوبھی کاروباری اداروں کی طرح ٹیکس کے دائرے میں لاکرقومی خزانے میں اضافہ کررہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی جمہوریہ کی حکومت کایہ فرض ہے کہ وہ مساجد کی سرپرستی کرے یاپھر عطیات پر قبضہ کرے؟ اسی طرح اگریہ ٹیکس غیر شرعی ہے توکیا یہ براہ راست آئین پاکستان کی بھی توہین نہیں۔ آئین توکہتاہے کہ یہاں قرآن دسنت کے منافی قانون نہیں بن سکتا۔ سوال یہ ہے کہ مساجد اور دینی اداروں سے ٹیکس وصولی کا قانون کس نے بنایااور اسے کیاسزادی گئی؟ حکومت انن عطیات کی نگرانی ضرور کرے لیکن انہیں ہڑپ نہ کرے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-11

(0) ووٹ وصول ہوئے