تازہ ترین : 1
Darjanoon Talba Ki Shahadat Ka Saneha e Azeem

درجنوں طلبہ کی شہادت کا سانحہ عظیم

تعلیمی ادارے میں انسانیت سوز دہشت گردی۔۔۔۔۔ آرمی پبلک سکول پرہونے والایہ حملہ جانی نقصانات اوراپنی ہولناکی کے لحاظ سے خیبرپختونخوامیں پیش آنے والے سانحات میں سب سے سنگین اورسب سے المناک ہے

ایم ریاض:
ورسک روڈپشاور چھاوٴنی کے آخری سرے پرآرمی پبلک سکول اینڈکالج واقع ہے جس کے جونیئراورسینئرسیکشنزمیں کم وبیش اڑھائی ہزاربچے زیورتعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں ہرروزکی طرح گذشتہ(منگل کے)ر وزبھی یہ بچے بن سنور کر گھروں سے سکول کیلئے روانہ ہوئے تھے آج کادن اس حوالہ سے سکول میں معمول سے ہٹ کرتھاکہ ملک اورخصوصاصوبہ کے مخصوص حالات کے پیش نظرسکول میں جماعت ہشتم،جماعت نہم اورجماعت دہم کے طلبہ کیلئے ابتدائی طبی امدادکے تربیتی پروگرام کا اہتمام کیاگیاتھاجس کیلئے ان کلاسوں کے سینکڑوں بچوں کوسکول کے مرکزی ہال میں جمع کیاگیاتھاجہاں پاک فوج کے متعلقہ شعبہ کے ماہرین انہیں ابتدائی طبی امدادکے بارے میں بتارہے تھے جونیئرسیکشن میں دیگرکلاسوں کے طلبہ معمول کے مطابق اپنی اپنی کلاسوں میں لکھائی پڑھائی میں مصروف تھے جبکہ سینئرسیکشن میں گیارہویں اوربارہویں کے طلبہ پرچے دے رہے تھے کہ اس دوران باہرایک کیری ڈبہ آکررکاجس سے آٹھ آدمی عجلت میں اترے اوراترنے کے ساتھ سکول کے مرکزی گیٹ سے اندرجانے کی بجائے عقبی دیوارسے چھلانگ لگاکرسکول میں کودگئے ان افرادنے یہ ساراکام اس پھرتی اورمہارت سے کیاکہ کسی کوکچھ سمجھ نہ آیاعمارت کے اندرگھسنے پرپہلے انہوں نے ہوائی فائرنگ کی اوراس کے بعدعمارت کے دونوں سیکشنز میں مرکزی مقامات پرپوزیشنیں سنبھال کرپورے سکول کویرغمال بنایااوراندھادھندفائرنگ کی اس دوران قریب واقع پولیس تھانہ سے پولیس اورعسکری یونٹوں سے فوجی نفری موقع پرپہنچی جس کے بعدسکول پرقابض حملہ آوروں اوران سکیورٹی اہلکاروں کے مابین فائرنگ کاتبادلہ ہواوقفہ وقفہ سے جاری فائرنگ میں ایک زورداردھماکہ ہواابتداء میں اس واقعہ کی سنگینی کی اتنی زیادہ توقع نہ تھی لیکن ریسکیوآپریشن کے ساتھ جب وہاں سے جاں بحق اورزخمی بچوں کوسرکاری اورنجی امدادی اداروں کی ایمبولینس گاڑیوں میں ہسپتالوں کومنتقل کرناشروع کیاگیاتوپتہ چلاکہ آرمی پبلک سکول پرہونے والایہ حملہ جانی نقصانات اوراپنی ہولناکی کے لحاظ سے خیبرپختونخوامیں پیش آنے والے سانحات میں سب سے سنگین اورسب سے المناک ہے کہ اس سانحہ میں سوسے زائدبچے شہیدجبکہ اتنی ہی تعدادمیں بچے زخمی ہوئے جن میں یہ ایک بڑی تعدادکی حالت نازک اورتشویشناک ہے ان تفصیلات کے سامنے آنے پرپوراملک دہل گیایہ محض اتفاق نہیں ہوسکتاکہ صوبائی دارالحکومت پشاورمیں ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول کونشانہ بنانے اوریہاں معصوم بچوں کوخاک وخون میں نہلانے کیلئے 16دسمبرکے اس سیاہ دن کا انتخاب کیاگیاجب آج سے43سال قبل مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں پاکستان کے وجودکے دوٹکڑے ہوئے تھے اورجس کادرد آج بھی ہرپاکستانی کادل اسی شدت اورغم کے ساتھ محسوس کرتاہے اسی روزایک پاکستان کوایک اورحملہ کا نشانہ بنایاگیایہ ایک ایساسانحہ تھاجس نے خیبرسے کراچی تک ہردل کوغمگین اورہرآنکھ کوآشک بارکردیاپھول سے بچوں کی لاشیں دیکھ کریوں توتمام والدین غمزدہ اوردلگیرہوئے لیکن صوبہ کے دارالحکومت پشاورمیں کم وبیش ہرگھرمیں صف ماتم بچھ گئی کیونکہ نیوزچینلزپرپشاورکے ورسک روڈپرسکول میں پیش آنے والے اس واقعہ کی خبریں نشرہونے کے بعداس علاقہ کے ہر سکول میں زیرتعلیم بچوں کے والدین کے ساتھ اپنے بچوں کی فکردامن گیرہونالازمی امرتھاواضح رہے کہ پشاورکاورسک روڈ صوبہ میں تعلیم کے مرکزکے طورپرجاناجاتاہے جہاں صوبہ اورپشاورکے بہترین تعلیمی اداروں کی بڑی تعدادواقع ہے جن میں روزانہ ہزاروں بچے پڑھنے کیلئے روزانہ ہزاروں بچے واقعہ کی اطلاع ملنے پروزیراعلی خیبرپختونخواپرویزخان خٹک، سپیکر اسد قیصر، جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق،صوبائی وزراء عنایت اللہ خان،مشتاق غنی،شاہ فرمان،شہرام خان،قومی اسمبلی کے رکن اے این پی کے رہنماحاجی غلام احمدبلوراوردیگررہنمالیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچے جہاں وزیراعلی پرویزخٹک نے اس سانحہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے صوبہ میں تین روزہ سوگ کااعلان کیاانہوں نے کہاکہ پشاورکے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور کمبائنڈملٹری ہسپتال میں لائی گئی لاشعوں اورزخمیوں کی تعدادسے یہ بات سامنے آئی ہوئے کہ اس حملہ میں اب تک 100 سے زائدبچے شہیدجبکہ اس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں وزیراعلی نے بتایاکہ اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے اورتمام طبی عملہ کوہنگامی طورپرڈیوٹی پرطلب کرلیاگیاہے سکول کے اندرآپریشن ابھی تک جاری ہے جس کے دوران2حملہ آورمارے گئے ہیں جبکہ ایک خودکش حملہ آورنے اپنے آپ کوبم سے اڑادیااور(ان کی میڈیاسے بات چیت سے)آدھ گھنٹہ قبل تک کی رپورٹ کے مطابق چارحملہ آورسکول کے اندر موجود تھے جن کے خاتمہ اورسکول کی عمارت کوکلیئرکرنے کیلئے آپریشن جاری ہے وزیراعلی نے سکول پرحملہ کے اس واقعہ کو صدی کا انتہائی وحشیانہ اور انسانیت دشمن اقدام قرار دیا ہے وزیراعلیٰ نے شہید پیکج کے تحت اب تک موصولہ اطلاعات تک 126 جاں بحق بچوں کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور 122 زخمی بچوں کیلئے دو دو لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے انہوں نے صوبے میں تین دن کیلئے سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ صوبائی کابینہ، ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنماوٴں اور کارکنوں کو فوری طور پر ہسپتالوں میں پہنچ کر زخمی بچوں اور اساتذہ کیلئے خون کے عطیات دینے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ میں او نیگٹیو خون کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اسلئے او نیگٹیو خون والے کارکن اور شہری خون کا عطیہ دے کر معصوم بچوں کی جان بچانے کا فرض ادا کریں پرویز خٹک نے اس دلخراش واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اپنی تمام سرکاری مصروفیات منسوخ کردیں اور فوری طور پر متعلقہ پولیس و آرمی حکام سے رابطوں کے علاوہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور سی ایم ایچ جا کر زخمی بچوں کی عیادت کی اور انکے ورثاء سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیاوزیراعلیٰ نے پولیس فورس اور محکمہ صحت کو ریڈالرٹ کی ہد ایت کی بچوں کے والدین ، ورثاء اور میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب اور معاشرہ معصو م بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا انہوں نے واضح کیا کہ ایسے دہشت گرد عناصر سفاک ہیں اور ان کے نیٹ ورک کوجلد بے نقاب کرکے نیست ونابود کیا جائے گاجبکہ خیبرپختونخواکے گورنرسردارمہتاب احمدخان نے پشاورمیں ورسک رڈ پر واقع سکو ل پردہشت گردوں کے حملے کوانتہائی ظالمانہ اورانسانیت واقعہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے گورنر نے قیمتی جانی نقصان پردلی صدمے اوردکھ کااظہار کیااور کہاہے کہ ملوث عناصر کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے گورنر نے غمزدہ والدین کے ساتھ بھی گہری ہمدردی ظاہر کی اورکہا کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں گورنر نے کہا کہ ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے گورنر نے شہداء کے درجات کی بلندی اورپسماند گان کو یہ ناقابل تلافی نقصان صبروحوصلے سے برداشت کرنے کی توفیق کیلئے دعا کی ہے گورنر نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی نیک تمناوٴں کااظہارکیا ہے وزیراعظم محمدنوازشریف نے پشاورپہنچنے پر گورنرہاوٴس میں اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی اورآرمی پبلک سکول وکالج پرہونے والے حملہ کی صورتحال سے آگاہی حاصل کی اس موقع پرعسکری اوردیگرحکام نے وزیراعلی کواس حملہ ،اس میں ہونے والے نقصانات اورعمارت میں موجودحملہ آوروں کاصفایاکرکے وہاں بچوں کونکالنے کے آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیااس موقع پروزیراعظم نے ہرقیمت پردہشت گردی کے خاتمہ کے عزم کااظہارکیااورکہاکہ آخری دہشت گردی کے خاتمہ تک یہ جنگ جاری رہے گی اس آپریشن میں پاک فوج کوپوری قوم کی حمایت حاصل ہے اورپوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحدہے وزیراعظم نے اس موقع پرغمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے اس واقعہ پرملک بھرمیں تین روزہ سوگ منانے کااعلان کیادوسری طرف ان سطورکی اشاعت تک عمارت میں دہشتگردوں کا صفایا کرنے اوربچوں کووہاں سے بحفاظت نکالنے کیلئے آپریشن جاری رہاجس کے دوران بعدمیں مزیددوزورداردھماکے ہوئے جس کے بارے میں سکیورٹی اداروں نے بتایاکہ دومزیدحملہ آوروں نے خودکش دھماکے کرڈالے ہیں یوں مجموعی طورپرحملہ کرنے والے 8حملہ آوروں میں سے 5جان سے چلے گئے ہیں جبکہ صوبہ کے وزیرتعلیم واطلاعات مشتاق احمدغنی کے مطابق حملہ کے نتیجہ میں شہیدہونے والوں کی تعداد 126ہوگئی ہے آرمی پبلک سکول پرحملہ کے فورابعدپاک فوج کے مسلح جوانوں نے آرمی پبلک سکول جانے والے تمام راستوں کوعام ٹریفک اورآمدورفت کیلئے سیل کردیااورپشاورمیں تعینات پاک فوج کی گیارہویں کورکے کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل ہدایت اللہ خان نے اس آپریشن کی کاروائی خودسنبھال لی آخری اطلاعات تک یہ کاروائی جاری رہی علم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے پھول جیسے معصوم اورنازک بچوں کی اس بے دردی سے قتل عام پرپوراملک غم واندوہ میں ڈوب گیااورملک کی کم وبیش تمام اعلی سول وعسکری قیادت صورتحال کالمحہ بہ لمحہ نگرانی کیلئے صوبہ خیبرپختونخواکی دارالحکومت پشاورپہنچ گئی وزیراعظم محمدنوازشریف اپنی تمام سرکاری مصروفیات ترک کرکے ہنگامی طور پر پشاور پہنچے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف جوکوئٹہ کے دورہ پرتھے پشاورکے آرمی پبلک سکول پرحملہ کی اطلاع ملنے کے ساتھ وہاں سے پشاورکیلئے روانہ ہوئے اس طرح گورنرخیبرپختونخواسردارمہتاب احمدخان جوجنوبی وزیرستان ایجنسی کے دورہ پرتھے اپنادورہ چھوڑکرواپس پشاورآگئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سربراہ عمران خان بھی اس سنگین المیہ سے نمٹنے کیلئے صوبہ میں اپنی پارٹی کی حکومت کے اقدامات میں ساتھ دینے ا ورنگرانی اپنی جماعت کے اعلی قیادت کے ہمراہ پہنچے ورسک روڈپرجائے وقوعہ اوروہاں جانے والے راستے توآپریشن کیلئے پاک فوج کے جوانوں نے بندکردئیے تھے لیکن اس سکول وکالج میں زیرتعلیم بچوں کے والدین اپنے گوشہ ہائے جگرکی خیریت دریافت کرنے وہاں پہنچ چکے تھے جہاں ان کی پریشانی کااندازہ کرنابھی تصورسے باہرتھااوریہ بچے اوریہ غمزدہ والدین ہرایک سے اپنے بچوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے لیکن صوبہ کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاورمیں قیامت صغری کے مناظردیکھنے میںآ ئے جہاں کے شعبہ ایمرجنسی میں لاشوں اورزخمیوں کیلئے بیڈکم پڑنے کے بعدہنگامی طورپردیگروارڈوں سے بیڈلائے گئے آری پبلک سکول اینڈکالج ورسک روڈپشاورپرہونے والے اس حملہ میں شہیدہونے والے بچے سیدعبداللہ شاہ کے غمزدہ والدسیدطاہرعلی شاہ نے ہسپتال میں زراوقطارروتے ہوئے بتایاکہ میں نے تواپناپھول جیسابٹاحصول علم کیلئے بھیجاتھااورمجھے یہاں صرف تابوت میں بندایک لاش ملی میں اس تابوت کاکیاکروں انہوں نے کہاکہ میرے اورمیرے بچے کے خواب تھے اورظالموں نے یہ سارے خواب چکناچورکرڈالے میں نے30سے زائدبچوں کی لاشیں دیکھی جنہیں سروں اورآنکھوں میں گولیاں ماری گئی ہیں اس سانحہ میں زندہ بچ جانے والے بچوں کے مطابق حملہ آورشلوارقمیص میں ملبوس تھے اورلمبی داڑھی والے یہ مسلح افراد عربی یااس سے ملتی جلتی زبان بول رہے تھے جنہوں نے بچوں پرسیدھی گولیاں چلائیں اورسکول میں بچوں پر گولیاں چلاکر انہیں شہیدکرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سینئرسیکشن میں بچوں کویرغمال بھی بنایاہے۔

سال رواں کے دوران صوبہ خیبرپختونخوامیں رونماہونے والے دہشت گردی کے واقعات
پاکستان کے شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوامیں جہاں خودکش حملوں اور دیگر پر تشدد کارروائیوں میں مجموعی طور پر کمی آئی تھی وہیں اس سال صوبے میں ہدف بنا کر ہلاکتوں یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں قابل تشویش حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ سال کے اس آخری مہینہ میں دہشت گردوں کے ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول اینڈکالج میں گھس کر پورے سکول کویرغمال بنانے اور100سے زائدبچوں کو شہید جبکہ اس سے زائدبچوں کو زخمی کرنے کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر سکیورٹی پر انتظامات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے یہ واقعہ اگر ایک طرف خیبرپختونخوامیں پیش آنے والے سانحات میں سب سے سنگین اورسب سے المناک ہے تو دوسری جانب اس واقعہ نے رواں سال پر تشدد کارروائیوں اورخودکش حملوں کی کمی بھی پوری کردی ہے حکومت اور پولیس کے مطابق سنہ 2013کے مقابلے میں رواں سال پرتشدد کارروائیوں میں جہاں مجموعی طور پر سات فیصد کمی آئی ہے وہیں خودکش حملوں کی تعداد میں 45فیصد کمی ہوئی ہے صوبائی پولیس کی کرائم ریکارڈ برانچ کے اعداوشمار کے مطابق گذشتہ برس صوبہ میں دہشت گردی کے 459 واقعات کے مقابلہ میں اس سال 438 واقعات رونما ہوئے ہیں2013میں قبائلی علاقوں سے جڑے صوبہ میں 18خودکش حملے ہوئے جبکہ اس سال یہ تعداد دس ہے اس کے علاوہ دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑیوں کے حملوں میں استعمال کی شرح بھی 50 فیصد کم ہوئی ہے اور اس برس ایسے حملوں کی تعداد تین رہی ہے اس کے علاوہ پولیس کے مطابق دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد سے حملوں میں بھی 25 فیصد کمی ہوئی جو 20سے کم ہو کر 14 رہ گئے ہیں لیکن پولیس کی روایتی زبان میں کہا جائے تو سب اچھا بھی نہیں ہے اعداد و شمار کے مطابق اس سال صوبے میں ہدف بنا کر ہلاکتوں یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں قابل تشویش اضافہ دیکھا گیا ہے گذشتہ برس ایسے حملوں میں 113افراد مارے گئے اور اس برس یہ تعداد بڑھ کر 131ہوگئی ہے پشاور اور وادیِ سوات دو ایسے علاقے ہیں جہاں ان حملوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر کا ہدف سکیورٹی اہلکار بنے ہیں اس کے علاوہ صوبے میں عام تاثر یہ ہے کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات بڑھ رہے ہیں تاہم صوبائی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جرم گذشتہ برس کی سطح پر برقرار ہے پولیس کے مطابق اس برس تقریبا 200اغوا کار گرفتار ہوئے جبکہ 80 مغویوں کو بازیاب کروایا گیا ہے خیبر پختوا پولیس کے اہلکاروں کے مطابق پولیس فورس کا مورال اور کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی وجہ ان کی پرو ایکٹو حکمت عملی ہے ان کا دعوی ہے کہ اس عرصہ کے دوران پولیس نے دہشت گردی کے سو سے زائد حملے ناکام بنائے ہیں اور ڈیڑھ سو سے زائد مشتبہ شدت پسند گرفتار کیے ہیں جبکہ 26دہشت گردوں کو مقابلوں میں ہلاک کرنے کے علاوہ 27 کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے میں کامیابی ہوئی ہے تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس سال بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور رواں سال تقریبا 300ایسے واقعات رجسٹر ہوئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں بھتہ خوری کے واقعات کو جان بوجھ کر کم دکھایا گیا تھا تاہم منگل کے روز آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے بھاری ہتھیاروں سے حملہ اور بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے پولیس سربراہ ناصر درانی نے ایک بیان میں بھتہ خوری کو صوبہ کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور اسی لیے انہوں نے ہر ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر میں موبائل فون کے فرانزک سیل قائم کئے ہیں انہوں نے اس بارے میں تمام ایس ایس پیز کو خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی ہے جبکہ مبصرین کے خیال میں خیبر پختونخوا میں جرائم اور دہشت گردی میں اس کمی کی وجہ پولیس کی کامیاب حکمت عملی کی بجائے شدت پسندوں کی طریق کار میں تبدیلی کا عمل دخل زیادہ ہو سکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ شدت پسندوں کے اندرونی مسائل اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اس وقت ان کا بیک فٹ پر ہونا بھی اس کی وجہ ہو سکتا ہے لیکن اس المناک واقعہ سے لگتا ہے کہ دہشت گرد اب بھی جہاں چاہے موثر کارروائی کرسکتے ہیں پاکستانی فوج اس وقت شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں بھی اپنی پوزیشنیں مستحکم کرنے میں مصروف ہے اور تشدد میں کمی کی بڑی وجہ انھی کارروائیوں کو مانا جا رہا ہے اس سال مجموعی طور پر ان پرتشدد کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں بھی کمی آئی تھی گذشتہ برس میں چھ سو سے زائد ایسی ہلاکتوں کی تعداد کم ہو کر تقریبا تین سو تک آ پہنچی تھی حکام کے مطابق یہ تعداد سنہ 2008 کے بعد سے کم ترین سطح تھی جبکہ اس حوالہ سے تجزیہ نگاروں نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی پر خوشی کا اظہار قبل از وقت ثابت ہو سکتا ہے اور جب تک قبائلی علاقوں خصوصا خیبر ایجنسی میں شدت پسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا یہ کمی عارضی ثابت ہو سکتی ہے تاہم پشاور میں سکول پر دہشت گردوں کے حملہ میں کثیر تعداد میں بچوں کی شہادت نے نہ صرف اس سال ہلاکتوں کی شرح گزشتہ سال کے قریب پہنچادی ہے بلکہ اس حملہ نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی پر خوشی کا اظہار بھی قبل از وقت تھا۔
وقت اشاعت : 2014-12-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں