بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
درندہ صفت
پروگرام میں آنے والے مہمان گرامی جو اس نعمت کو گود لینے میں دلچسپی دکھا رہے تھے انکے گھر رحمتوں سے بھرے تھے۔ اینکر صاحبہ! آپ نے اسکرپٹ بہت ہی اچھا بولا آپ نے معصوم کے لئے والدین تلاش کرنے کا بیڑہ بھی اٹھا لیا جنم دینے والوں کو کوسنے بھی دے لئے
مصنف : ناجیہ فیضان
جو مر گیا وہ بچ گیا کیونکہ زندوں کا تو ہم نے مذاق بنا رکھا ہے۔ میں نے کبھی کسی موضوع پر کچھ نہیں لکھا چاہے معاشرتی مسئلہ کتنا ہی بڑا رہا ہو یا دہشت گردوں نے دل خون کیا ہو ہمیشہ لگا کہ بہت سے ہیں جو لکھ رہے ان معاملات پر ایک میرے قلم نہ اٹھانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن کل سے اک فوٹیج نے مجھے بے چین کر رکھا تھا کبھی ایک عورت کے بلکنے کی آواز آتی کسی لمحے ایک مرد سسکتا سنائی دیتا ایک ننھا ساوہم ہلتا ہوگا تو کیسے نہ دونوں چونک چونک جاتے ہونگے خدشہ تو تھا ہی کہ اب میڈیا ریٹنگ بڑھانے کے لئے معصوم کا قریب سے قریب ترین شاٹ بنا کہ میزبانوں کے آنسو دکھا کہ صبح ہر گھر کی خواتین کو سسکنے پہ مجبور کرے گا ۔

صبح ہوتے ہی اندیشہ سچ ثابت ہوگیا خود میری والدہ دو گھنٹے سسکتے ہوئے ایک ہی چینل کی خاتون اینکر کی نرم دلی میں کی گئی گفتگو سنتی رہیں۔ خاتون کے کچھ الفاظ ایسے چابک بنے کہ مجھے لکھنے پہ مجبور کر گئے۔فرمایا کہ میں خود تو ماں نہیں لیکن اسے گود میں لیتے ہی میری مامتا کا احساس جاگ گیا کیسی ظالم ہے وہ عورت جس نے اس معصوم کو ایک قبر پر رکھ دیا جنگلی جانور جو اسے نوچ کھاتے تو کیا ہوتا درندہ ہے وہ باپ جس نے اسے قبرستان میں رکھ چھوڑا جیسے کہ خاتون یا انکی تفتیشی ٹیم کہ نمائندہ نے انکھوں دیکھا حال بیان کیا ہو۔
۔ ۔ پروگروم میں آنے والے مہمان گرامی جو اس نعمت کو گود لینے میں دلچسپی دکھا رہے تھے انکے گھر رحمتوں سے بھرے تھے۔ اینکر صاحبہ! آپ نے اسکرپٹ بہت ہی اچھا بولا آپ نے معصوم کے لئے والدین تلاش کرنے کا بیڑہ بھی اٹھا لیا جنم دینے والوں کو کوسنے بھی دے لئے لیکن سوچ کا دوسرا پہلو اجاگر کرنے سے شاید آپ کی ریٹنگ کے چاند کو گہن لگ جاتا ۔۔۔ دوسرا پہلو ! میں مانتی ہوں کہ ایک ننھا شہزادہ قبرستان سے ملا ہے جو ایک شاپنگ بیگ میں کسمسا رہا تھا اپنی مامتا کی گرمی تلاش رہا تھا ۔
۔۔ اس کے لئے کسی نے پولیس اور میڈیا سے رابطہ نہ کیا تھا لیکن کیا ممکنات میں یہ نہیں تھا کہ جس کا جگر گوشہ تھا وہ حیات نہ رہا ہو ،جانے کس اذیت سے بچنے کو ایسی جگہ رکھا جہاں آدھی رات بندہ نہ بندے کی ذات کا گماں ہو، جانے کسی ظالم نے جگر گوشہ چھین لیا ہو، ڈھونڈنے والوں کو ابھی خبر ن ملی ہو خدا معلوم غریب ورثاء کو پاس ٹرقی یافتہ دور میں بھی ٹیلی وژن کی سہولتمیسر نہ ہو یا کہ اسکے کسی قریبی گاوٓں سے اغوا کر لایا گیا ہو انکے گمان میں بھی یہ شہر نہ ہو، دیہاتوں میں تو بجلی کا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو پریشان ہو ں ان کے گھر میں کسی نے دو د ن سے گندم نہ چکھی ہو آنکھ نہ جھپکی ہو کہ ایک ننھی سی کسمساہٹ ، کوئی قلقاری گمان میں گونجی ہو
اور آج آپ نے انہیں درندہ صفت ماں باپ بنا ڈالا
اللہ کرے ! کہ یہ نعمت انہیں مل جائے جن کہ گھر اس پھول نے مہکنا تھا تب جی میری پیاری میزبان قوم تب آپ کا اسکرپٹ کیا ہوگا ۔
۔ دیکھیئے ناظرین سب سے پہلے۔۔ جی ہاں ہم نے سب سے پہلے اس بچے کو اس کے ماں باپ سے ملوانے کی کوشش کی اور ہم کامیاب ٹھہرے ہمارے انویسٹیگیشن یونٹ نے یہ کارنامہ کر دکھا یا لال رنگ کہ ڈبے ہر اسکرین پہ دکھیں گے، تب یہ درندے سے ماں باپ میں ڈھل جائیں گے جن کو آج آپ نے معاشرے کا کلنک ثابت کردیا کل وہ مصیبت زدہ بن جائیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-19

(3) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ناجیہ فیضان

ناجیہ فیضان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-