تازہ ترین : 1
Corruption Main wazarat IT Sab Se Aagay

کرپشن میں وزارت آئی ٹی سب سے آگے

ایک سال میں خزانے کو120ارب کانقصان ہمیں بتایا جاتاہے کہ ملک جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔ سرکاری کی جانب سے خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھنے کے دعویٰ کئے جاتے ہیں۔

ہمیں بتایا جاتاہے کہ ملک جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔ سرکاری کی جانب سے خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھنے کے دعویٰ کئے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ایک آؤٹ رپورٹ نے ان دعوؤں کی حقیقت بیان کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر میں 2014-15کے دوران بدانتظامیوں، خلاف قواعدادئیگیوں اور قواعدوضوابط کی خلاف ورزیوں کاانکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی معلوم ہواکہ وزارت آئی ٹی کے مختلف اداروں کے سربراہان کے ذریعے 120ارب روپے سے زائد کی رقم خورد بردکی گئی ہے۔ اے بی پی کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں میں ناکافی اندرونی کنٹرول اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزیوں کانتیجہ انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی اور مالیاتی نقصان کے طورپرسامنے آیا اور 89.267 ارب کے خلاف قواعد اخراجات کئے گئے۔
اسی طرح پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے دومالی سالوں 2012-14میں اور وزارت آئی ٹی نے 2013-14ء میں 7.049ملین روپے کاانکم ٹیکس بھی ادانہیں کیا۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے نے یونیورسل سروس فند کے اکاؤنٹ سے غیر قانونی طور پر 765ملین روپے نکلوائے۔ پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل کوتھری جی اور ایووسروس کی لامحدود نقل وحرکت کی غیرقانونی اجازے دے کر بھی قومی خزانے کو51.1ارب کانقصان پہچایا ہے۔
یہ بھی معلوم ہواکہ پی ٹی اے ریڈیوفر یکوئنسی سپیکٹرم غیرقاونی طور پر استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی اور نہ ہی 10ملین کاجرمانہ کیا۔ اسی طرح فریکیوئنسی ایلوکیشن بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں سے بھی انکم ٹیکس نہیں کاٹاگیااور 2.17ارب کی زائد ادائیگیاں کی گئیں۔ یہ کرپشن کہاں یہاں ختم نہیں ہوتی۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ریڈیوٹیلی کمیونی کیشن کارپوریشن کے سامان پرجنرل سیلزٹیکس بھی کم ادا کیاگیا جس سے2.909ارب کا نقصان ہوا۔
وزرات کی 13.842ارب کی رقم بھی وصول نہ کی جاسکی۔ اسی طرح 89.119ملین روپے کے سالانہ ریگولیٹری واجبات بھی وصول کیے گئے۔ اس کے علاوہ موبائل آپریٹرز کوناجائز فوائد دینے سے پی ٹی اے کوریونیوکی مد میں 374.17ملین کانقصان ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیا کہ پیپرارولز 2004ء مالیاتی سروسز رولز اور کنٹریکٹ کے انتظامات کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے وزارت آئی ٹی کو14.736ارب کانقصان ہوا۔
اسی طرح زائد الاؤنسز، مالی فوائد بونس اورمراعات کی مدمیں بغیر اجازت اور بے قاعدہ ادائیگیوں سے وزارت آئی ٹی کو 91.58ملین کا نقصان ہوا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ سپیشل کمیونی کیشن آرگنائزیشن نے مالی سال 2013-14ء کے دوران متعین بجٹ سے غیرقانونی طورپر 106.65ملین کے زائد اخراجات کئے۔ یہ صورتحال ایسی وزارت کی ہے جس کے بارے میں سرکار یہی ظاہر کرتی رہتی ہے کہ اس وزارت نے ملکی ترقی میں اہم کردارادا کیاہے۔
ہردوسرے دن اس وزارت کے حوالے سے نت نئے منصوبے بتائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ جگہ کی کمی کے باعث بے ضابطگیوں کی مکمل تفصیل بیان نہیں کی گئی ورنہ ابھی اربوں روپے کے یہ نقصان کہانی“ باقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیاسرکار ملکی خزانے کونقصان پہنچانے، غفلت کے مرتکب افراد اور قوانین کے برعکس من مانی کرنے والے افسروں کے خلاف کوئی ایکشن لے گی یا پھر” سب اچھا“ لکھ کریہ فائل بند کردی جائے گی۔
وقت اشاعت : 2016-01-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں