بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کرسمس کاتہوار
امن اور بھائی چارے کاپیغام دیتاہے 25دسمبر کوحضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے۔اس دن عیسائی برادری کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ان کی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں کیونکہ اللہ کے نبی ہونے کی حیثیت سے مسلمان ان کادل وجان سے احترام کرتے ہیں۔ عیسائی مذہب میں دوعیدیں ہوتی ہیں۔
ذیشان شاہد:
25دسمبر کوحضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے۔اس دن عیسائی برادری کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ان کی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں کیونکہ اللہ کے نبی ہونے کی حیثیت سے مسلمان ان کادل وجان سے احترام کرتے ہیں۔ عیسائی مذہب میں دوعیدیں ہوتی ہیں۔ان میں ایک کرسمس (عیدولادت المسیح) جبکہ دوسری ایسٹرہے۔
ان مذہبی تہواروں کے حوالے سے مسیحی برادری کاجوش وجذبہ قابل دیدہوتا ہے۔مسیحی برادری حضرت عیسی عیسی علیہ السلام کے پیدائش کے دن کوکرسمس کے نام سے یاد کرتے ہیں۔عیسائیت کے پیروکار حضرت عیسی علیہ السلام کویسوع مسیح کانام دیتے ہوئے اپنا مقدس پیغمبر مانتے ہیں جن پر صحیفہ آسمانی انجیل نازل ہوئی۔قرآن مجید ک کی سورة مریم اور سورة مریم اور البقرہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کوروح اللہ کہاگیاہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی سورة مریم اور الانبیاء میں حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے واضح تصدیق کی گئی ہے کہ“اوران(مریم) کویادکروجنہوں نے اپنی عزت نفس کومحفوظ رکھا“ توہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کوعالم انسانیت کے لئے نشانی بنادیا۔یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی معجزانہ ولادت پران کوطرح طرح کی ایذارسانیاں پہنچانا شروع کردیں۔
انہوں نے ان کے احکامات کوجھٹلاکرمعجزات کوجادوقراردیا۔اس کے بعدان کوغدارقراردے کرپھانسی دینے لگے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کوزندہ سلامت آسمان پراٹھالیااوران کاقرب قیامت دوبارہ نزول ہوگا۔آپ کی پیدائش کمالات الیہہ کا برملا اظہارہے۔یہ قدرت کاانمول معجزہ ہے جوتمام عجائبات تخلیق سے افضل واکمل ہے۔ کرسمس کاتہوار پوری دنیا کے امن پسندانسانوں کے لئے حقیقی خوشی اور محبت کاپیغام لے کرآتا ہے۔
کرسمس کاآغاز تقریباََ گیارہویں صدی عیسویں میں ہوااس کے بعدیہ یورپ میں سب سے بڑے مذہبی تہوار کی شکل اختیارکرگیا۔امریکہ اور یورپ میں کرسمس کے موقع پرگرجا گھروں کوبرقی قمقموں اور رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایاجاتاہے۔اس موقع پرکرسمس ٹری بھی لگائے جاتے ہیں۔امریکہ ویورپ میں شہری کرسمس کی تیاری اور تحائف کی مدمیں اربوں ڈالرزخرچ کرتے ہیں۔
کرسمس کے حوالے سے کیک اور میٹھی اشیاء وفرامقدارمیں تیارکی جاتی ہیں جوہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی کرسمس کاتہوار بھرپورانداز میں منایاجاتاہے۔پاکستان میں30لاکھ سے زائد عیسائی رہتے ہیں۔ انہیں بھارت کی نسبت یہاں مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے۔جس کے تحت وہ اپنی مذہبی تقریبات اور تہوار بھرپورجوش وخروش سے مناتے ہیں۔
پاکستان میں کرسمس کے تہوار پرملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گرجاگھروں کودیدیہ زیب برقی قمقموں’دلکش جھنڈیوں اور دیگر آرائشی اشیاء کے ساتھ انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایاجاتاہے۔اس کے ساتھ ساتھ مسیحی برادری اپنے گھروں اور علاقوں کودلہن کی طرح سجاتی ہے۔حکومت کی طرف سے اس دن کی اہمیت کے پیش نظرخصوصی اقدامات کئے جاتے ہیں۔
وہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے مسیحی برادری میں عیدگفٹ اور امدادی رقوم بھی تقسیم کرتی ہے۔اس موقع پران کے لئے تمام شہروں میں سستے کرسمس بازارلگائے جاتے ہیں۔ کرسمس کاتہوارامن ومحبت اور بھائی چارے کاپیغام دیتاہے۔اسی لئے اس موقع پرتمام افراد اپنی باہمی رنجشیں اور اختلافات بھلاکرایک دوسرے سے شیروشکرہوجاتے ہیں۔بچوں اور خواتین کی خوشی اور جذبہ دیدنی ہوتاہے۔
خواتین گھرکی آرائش کے ساتھ خودبھی خوب بناؤ سنگھارکرتی ہیں۔سانتا کلاز جوبچوں کادلچسپ کردارہے وہ بچوں میں چاکلیٹ اور تحائف تقسیم کرتا ہے۔ لوگ اس موقع پراپنے عزیز واقارب کے گھروں میں کرسمس کیک‘مٹھائیاں‘ڈرائی فروٹس اور تحائف دیتے ہیں۔گرجا گھروں میں بچوں کے لئے مذہبی علوم کے کوئزپروگرامز‘کھلیں،شوزفن فیئراوررنگارنگ تقریبات کاانعقاد بھی کیاجاتا ہے۔
کرسمس کے موقع پرمسیح بڑی تعداد گرجاگھرجاتے ہیں اور وہاں خصوصی عبادات اداکرتے ہیں۔ اس موقع پر مذہبی گیت گائے جاتے ہیں اور بائبل کی پڑھائی کر کے مذہبی رسومات کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے پیار محبت امن وآتشی کاپرچارکرنے کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے کاحکم بھی دیا تھا۔جس کامقصد یہ تھاکہ انسان دنیا وآخرت میں کامیاب وکامران ہوسکیں۔
اس لئے ان کی پیدائش کی خوش منانے کے ساتھ ان کی تعلیمات پربھی عمل کرناچاہیے۔انسانیت کے دشمن دہشت گرداپنے ظالمانہ اقدامات کے باعث معصوم شہریوں پرظلم وستم ڈھاتے رہتے ہیں۔ ان دہشت گردوں کامقصد صرف اور صرف تباہی وبربادی پھیلانا ہوتاہے۔اسی لئے یہ مسلمانوں اور عیسائیوں کواپنی بے رحمانہ کارروائیوں کانشانہ بناتے رہتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل مسیحیوں کے گرجا گھروں پردہشت گردی کی کارروائیوں کامقصد بھی عیسائی مسلم فسادات کروانا تھا۔
اس واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے دوبے گناہ مزدوروں کودہشت گرد سمجھتے ہوئے خان سے ماردیا تھا۔اس لئے حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کوچاہیے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے یوم ولادت کے اہم موقع پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنائیں تاکہ دہشت گردوں کوکسم قسم کی کارروائیاں کرنے کاموقع نہ مل سکے اور معصوم شہریوں کے جان ومال کوتحفظ فراہم کیاجاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان