بند کریں
جمعرات مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چینی صدر کی آمد نے قیادت کو ایک صف میں لاکھڑا کیا
چینی صدر کے دورہ پر اس مرتبہ جس طرح 45ارب ڈالر کے 51معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں اس خصوصی دورے نے پاکستان اور چین کے مابین دوستی کے رشتے کو مستحکم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔چینی صدر کے دورے کو ایک کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے ”گیم چینجر“ اب پاکستان کی تقدیر بدلنے کا نام دیا جا رہا ہے
نواز رضا
عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ کے دو روزہ دورہ پاکستان کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور چین دونوں ”سٹریٹجک پارٹنر “ تو ہیں ہی لیکن چینی صدر کے دورے کے دوران کئے گئے معاہدوں کے بعد دونوں ”اقتصادی پارٹنر “ بھی بن گئے ہیں۔ چینی صدر کے دورہ پر اس مرتبہ جس طرح 45ارب ڈالر کے 51معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں اس خصوصی دورے نے پاکستان اور چین کے مابین دوستی کے رشتے کو مستحکم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔
سرکاری مصروفیات سے قبل اسلام آباد پہنچنے پر جس طرح ان کا شاندار استقبال کیا گیا ماضی میں اس کی نظیرنہیں ملتی۔ صدر مملکت ممنون حسین ،وزیر اعظم محمد نواز شریف وفاقی کابینہ کے ارکان اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے جہاں ان کا پر تپاک استقبال کیا وہاں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے بھی معزز مہمان چینی صدر سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ دیرینہ دوست ملک کے عوام کی جانب سے یکجہتی اور محبت کا اظہار کیا ہے۔
اس دوران سب سے زیادہ خوش آئند بات جو دیکھنے میں آئی وہ چینی صدر کے دورے پر حکومت اور اپوزیشن سمیت پوری قومی قیادت کا ایک صف میں کھڑے استقبال کرنا ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے چینی صدر کے اعزاز میں دئیے جانے والے ظہرانہ میں پاکستان کی چیدہ چیدہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کی شرکت اور اس کے قائدین کی طرف سے اس بات کا برملا اظہار ہے کہ پاک چین دوستی” صدا بہار “ ہے۔
پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کی حکومت ہو یا کسی فوجی حکمران کا دور پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے رشتے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ایسے موقعوں پر اس بات کا خاصاہتمام کیا جاتا رہا کہ شاہراہوں کی تزئین وآرائش میں چینی ثقافت کو ہمیشہ نمایاں طور پر اجاگرکیاگیا۔ اس مرتبہ بھی شاہراہِ دستور سمیت اہم شاہراہوں پر چینی صدر شی جن پنگ‘ صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیراعظم محمد نواز شریف کی قدآدم تصاویر لگا کر چین سے دوستی کے والہانہ جذبات کا روایتی شدت کے ساتھ اظہار کیا گیا۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ نے گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان کے دورے کا پروگرام بنایا لیکن ایک عالمی سازش جس کے ڈانڈے ”لندن پلان“ سے جا کر ملتے ہیں اس کے تحت پاکستان کو سیاسی لحاظ سے عدم استحکام کا شکار کرنے کی شعوری کوشش کی گئی۔ جس کے بعد ان کا دورہ ملتوی کر دیا گیا شاہراہ دستور پر پاکستان تحریک انصاف کے126روزہ دھرنے نے چینی قیادت کو دورہ ملتوی کرنے پر مجبورکر دیا۔
مگر وزیر اعظم محمد نواز شریف چینی دورے کے ملتوی ہونے کے بعد خود عوامی جمہوریہ چین گئے اور کچھ معاہدوں پر دستخط کئے اور انہوں نے چینی قیادت کو پاکستان کے ساتھ معاہدوں کی رسمی کارروائی مکمل کرنے کے لئے اسلام آباد آنے پر آمادہ کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ اس کے باوجود حکومت مخالف عناصر چینی صدر کے دورہ پاکستان کی راہ میں حائل رہے اور ان عناصر نے دھرنے کی آڑ میں ” شاہراہ دستور “ کو مقبوضہ علاقہ بنائے رکھا۔
حتی کہ 16دسمبر 2015ء کو پیش آنے والے سانحہ پشاور ن کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف اپنا دھرنا سمیٹنے پر مجبور ہوئی۔
چینی صدر کے دورے کو ایک کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے ”گیم چینجر“ اب پاکستان کی تقدیر بدلنے کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد سے پاکستان میں جہاں خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا وہاں توا نائی کا بحران بھی ختم ہو جائے گا۔
معاہدوں کے مطابق 37 ارب ڈالر توانائی کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ جس کے تحت 2018 ء تک پہلے مرحلے میں 10 ہزار 400 میگاواٹ بجلی کے پاور پلانٹس مکمل ہوں گے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں 6 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل کی جائے گی۔ یہ منصوبے کوئلے، شمسی‘ ہوا اور ہائیڈل“ ذرائع سے یہ منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ چین کی مدد سے پاکستان توانائی کے منصوبوں کے علاوہ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لائن سسٹم کی اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی۔
بلا شبہ 37 ارب ڈالر کے توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کی معیشت میں انقلاب آ جائے گا۔ پاکستان میں لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ 9سال بعد چینی صدر کی پاکستان آئے تو پوری پارلیمنٹ ان کیلئے چشم براہ ہو گئی ان کی ایوان میں آمد اور روانگی پر پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے کھڑے ہو کر انہیں عزت و احترام دیا۔اسی طرح ان کے خطاب کے دوران اظہار تحسین کیلئے بار بار پارلیمنٹ کے ڈیسک بجتے اور گونجتے رہے ۔
یہ مناظر اس قدر متاثر کن تھے کہ معزز مہمان شی جن پنگ کے خیالات کی تائید میں ساتھ آئے ہوئے صحافیوں کے لئے اسے قلمبند اور کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا مشکل تھا۔چینی صدر شی جن پنگ نے پار لیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ،ان کا خطاب پارلیمنٹ کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان کی پارلیمنٹ سے مختلف شخصیات خطاب کر چکی ہیں لیکن سب سے زیادہ چینی رہنماؤں کو خطاب کر نے کا موقع ملا ہے۔
چینی صدر نے اپنے دورہ کے دوران پارلیمنٹ میں ایک گھنٹہ گذارا جس میں ان کا 35منٹ کا خطاب شامل ہے انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے عوام سے جس طرح اظہار یک جہتی اور محبت کا اظہار کیا اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے دوسری طرف سے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جس طرح کھل کر چین کی سلامتی اور یک جہتی کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کا اعلان کیا ہے ، چشم فلک اس کی وسعت کی گواہ ہے۔
اگرچہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی جس میں خوبصورت الفاظ کا انتخاب کیا گیا تاہم قومی ا سمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر کی بجائے فی البدیہہ تقریر کرتے تو بہتر ہو تا۔ پارلیمنٹ کے درو دیوار میں چوہدری نثار علی خان کی فی البدیہہ تقریر کی گونج ابھی تک سنائی دے رہی ہے جس میں انہوں نے مئی 2013ء کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے چینی قیادت کے لئے جن الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور اس پر چینی وزیر اعظم ان کے سامنے احترام میں جھک گئے۔
وفاقی وزیر داخلہ اپنے خیر سگالی جذبات کے اظہار میں مضطرب مگر خاموش اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی نشست سے ان کی نشست جتنی قریب ہے وہ ان سے اتنے ہی” دور“ نظر آرہے ہیں پارٹی کے اندر مسلم لیگی حلقوں میں یہ بات برملا کہی جا رہی ہے یہ”عاشق اور معشوق “ کی لڑائی ہے جو بالآخر ختم تو ہو جائے گی لیکن وزیر اعظم محمد نواز شریف جو اپنی ٹیم کے” کپتان“ ہیں ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ان کا ”اوپننگ بیٹسمین“ ا ن سے اس طرح دور کیوں ہوتا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر پاکستان کی سیاسی قیادت نے” مہمان خاص “ کو جس طرح عزت و توقیر دی اس کی بازگشت سال ہا سال تک سنی جائتی رہے گی۔چینی صدر کا دورہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ پا کستان کی تقدیر بدلنے کا باعث بن جائے گا۔ جب چینی صدر شی جن پنگ پارلیمنٹ کے ایوان میں سیاسی قائدین سے ملاقات کے لئے آئے تو وزیر اعظم محمد نواز شریف نے عمران خان کو یہ کہہ کر ڈھیر کر دیا کہ چینی صدر کا دورہ آپ کے دھرنے کی وجہ سے ملتوی ہوا ہے لیکن عمران خان یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ان کا کوئی قصور ہے۔
پاکستانی پارلیمنٹ کی جانب سے شاندار استقبال سے چینی میڈیا بھی حیران و ششدر دکھائی دیا قبل ازیں بھی چینی قیادت کو پارلیمنٹ سے خطاب کر نے کو مواقع حاصل رہے ہیں لیکن جس قدر چینی صدر کی عزت افزائی کی اس کی مثال پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں نہیں ملتی ہے انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان چین دوستی میں قوس ِ قزح کے رنگ بھر دئیے ہیں پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون سے خطے کے بعض ممالک کے اقتصادی مفادات اور عزائم کو دھچکا لگا ہے۔
بھارت میں چینی صدر کے دورہ پر سب سے زیادہ تشویش پائی جاتی ہے اور پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی ،توانائی اور دفاعی معاہدوں کو بھارتی ذرائع ابلاغ پاکستان کو خطے کا ” اسرائیل “ بننے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ پاکستا ن اور چین کی دوستی صدا بہار ہے جو ہمالیہ کے پہاڑوں سے بلند سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ صدر شی اپنے دو روزہ دورے کے نتیجے میں اس کی بلندیوں میں اضافہ اور سمندر سے مزید گہرا اور شہد سے زیادہ میٹھا کر گئے ہیں اس سے نہ صرف پاکستان کا مقدر سنور جائے گا بلکہ اسے ایشیا کا ٹائیگر بننے کا بھی موقع ملے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان