تازہ ترین : 1
Ch Nisar Ne Karkardagi Report Parliman Main Paish Kar Di

چودھری نثار نے کارکردگی رپورٹ پارلیمان میں پیش کردی

رینجرزاختیارات،گیندسندھ حکومت کے کورٹ میں

نوازرضا:
قومی اسمبلی کا27واں سیشن دوہفتے تک جاری رہنے کے بعد غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی ہوگیا ہے۔یہ2015میں قومی اسمبلی کاآخری سیشن تھا اور اب شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کا28واں سیشن جنوری 2016ء میں طلب کیاجائے گا۔دو ہفتے تک جاری رہنے والے اس سیشن میں کوئی قابل ذکر بزنس نہیں نمٹایاگیا۔حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی اجلاس کی کارروائی میں عدم دلچسپی کی وجہ سے باربار کورم ٹوٹتارہالیکن کورم کی نشاندہی پرحکومت شرمندہ ہوئی اور ڈیلی الاؤنس لینے والے ارکان کواس بات کا احساس ہواکہ ان کی عدم شرکت اور غیرحاضری سے پارلیمنٹ کی کارروائی متاثرہوتی ہے۔
البتہ27 ویں سیشن کی اہم بات یہ ہے کہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بارنوازشریف کابینہ کے طاقتور وزیرچوہدری نثار علی خان نے اپنے آپ کواحتساب کیلئے پیش کرکے جہاں ایک قابل تقلید مثام قائم کی ہے تووہاں انہوں نے نوازشریف کابینہ کے دیگر ارکان کومشکل صورتحال سے دوچار کردیا۔اب ان کوبھی چاروناچار اپنے آپ کواحتساب کے لئے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرناپڑے گا۔
ویسے بھی وزیراعظم نواز شریف نے اپنی کابینہ کے ارکان کواڑھائی سال کی کارکردگی رپورٹ تیارکرنے کی ہدایت کررکھی ہے۔اب سب کوباری باری اپنی کارکردگی رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے لانا پڑے گی۔اس سے جہاں حکومت کی ”گڈاوربیڈگورننس“ سامنے آئے گی وہاں اصلاح احوال کی کوئی صورت بھی نکلے گی۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان شروع ون سے وفاقی کابینہ کی کارکردگی کی بنیاد پروزراء کیلئے ”جزاوسزا” کانظام وضع کرنے زور دے رہے ہیں۔
بالآخر انہوں نے خود ہی پہل کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کاجرات مندانہ اقدام کیا۔شاید انہیں اس بات کااندازہ نہیں تھا کہ رپورٹ پیش کرنے پرتمام پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کی طرف سے اس قدرپذیرائی ملے گی۔ انہوں نے انتہائی عرق ریزی سے اپنی نگرانی میں وزارت داخلہ کی رپورٹ تیارکرائی اور جب اس بات کااطمینان ہوگیاکہ رپورٹ جامع ہے اور اس میں تمام پہلوؤں کوپیش نظر رکھاگیاہے توانہوں نے ایوان میں رپورٹ پیش کردی۔
دلچسپ امریہ ہے کہ کسی رکن نے ان کی تیارکردہ رپورٹ میں کوئی نقص نکالنے کی بجائے”تعریف وتوصیف“ کے پہاڑ کھڑے کردئیے اور کسی رکن نے کوئی بات کی تووہ نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمدکی تھی جس کے بیشتر نکات پر عملدرآمد تعلق صوبائی حکومتوں سے ہے۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ چوہدری نثار کی پیپلز پارٹی سے شروع دن سے نہیں بنتی۔مسلم لیگ(ن) میں انکاشمار پیپلزپارٹی مخالف“ لیڈروں میں ہوتاہے جواپنی قیادت کوبھی پیپلزپارٹی سے فاصلہ رکھنے کامشورہ دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم نوازشریف سے پیپلزپارٹی کے دورحکومت کے 5میگا اسکینڈلزکی تحقیقات کامطالبہ منواکرچھوڑا۔یہی وجہ ہے کہ آج پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کیخلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات زیرسماعت ہیں۔پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں کی توپوں کارخ چوہدری نثار کی طرف محض انکی ”پیپلزپارٹی کی وجہ سے ہوتاہے اور وہ بھی اس بات کی پرواہ کئے بغیر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پربرستے رہتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سیدخورشیدشاہ کی توکئی سالوں سے نہیں بن رہی۔ لہٰذا وہ بھی چوہدری نثار پرتنقید کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔لیکن جب وفاقی وزیرداخلہ نے قومی اسمبلی میں وزارت داخلہ کی اڑھائی سالہ کارکردگء ہیش کی توخورشیدشاہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ ممکن ہے وہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے سکھرگئے ہوں لیکن انکی ایوان میں عدم موجودگی کاسب نے نوٹس لیا ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ خورشید شاہ دانستہ ایوان سے غائب رہنے تاہم ان کی عدم موجودگی میں سید نوید قمر نے پیپلزپارٹی کی طرف سے وزارت داخلہ کی کارکردگی پراظہار خیال کیا۔وہ بھی چوہدری نثار کے سامنے بچھے جارہے تھے۔ چوہدری نچار چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی حیثیت سے بھی پارلیمنٹ میں پی اے سی کی رپورٹیس پیش کرچکے ہیں۔پارلیمانی حلقوں میں چوہدری نثار علی خان کومحض ان کے کام اور کمٹمنٹ کی وجہ سے عزت وتوقیر سے دیکھا جاتا ہے۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ جوخود بھی اس منصب پر5سال تک فائز رہے نے پیپلزپارٹی کے دورحکومت کے وزیرداخلہ سے موازنہ کیاکہ وہ بولتے زیادہ تھے کام کم کرتے تھے۔لیکن چوہدری نثار علی خان نظر کم آتے ہیں لیکن کام زیادہ کرتے ہیں۔بیشترارکان نے نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کوموضوع بحث بنایاتوچوہدری نثار علی خان نے کہاکہ اگرچہ نیشنل ایکشن پلان ان کی وزارت کاتیارکردہ ہے وہ اس پر الگ سے بریفنگ دینے کیلئے تیارہیں۔
پیپلزپارٹی کے سیدنوید قمر پی ٹی آئی کی شیریں امزاری ،ایم کیوایم کے عبدالوسیم،قومی وطن پارٹی کے آفتاب خان شیرپاؤ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ اورجے یوآئی کے مولانامحمدخان شیرانی کی تقاریرکا محورچوہدری نثارکی ذات رہی۔چوہدری نثارنے پارلیمانی سیاست میں نواز شریف کابینہ کے روایت شکن وزیرکی حیثیت حاصل کرلی ہے۔انہوں نے قومی اسمبلی میں لگائی گئی عدالت میں پنا کیس جیت لیاہے،اب انہیں اپنی وزارت کی کارکردگی سینیٹ میں پیش کرناہوگی۔
یہ بات کہہ جاسکتی ہے کہ وزارت داخلہ کی کارکردگی وزیراعظم کی نیک نامی کاباعث بنی ہے۔چوہدری نثار نے جہاں اپنی وزارت کی کامیابیوں میں کاذکرکیا ہے تووہاں بعض اہداف کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جوان کے خیال میں ابھی مکمل نہیں ہوسکے۔ وفاقی وزیرداخلہ کاکراچی میں رینجر کی تعیناتی اوراس کے اختیارات کے ایشوسے براہ راست تعلق ہے۔اس سلسلے میں ان کاوزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ سے رابطہ رہتاہے۔
جب کبھی کوئی تنازعہ کھڑا ہوتاہے توچوہدری نثار سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ پچھلے دواڑھائی ہفتوں سے سندھ حکومت کوکراچی میں رینجرزتعیناتی اوراسے خصوصی اختیارات دینے کانوٹیفکیشن جاری کرنے کیلئے کہہ رہے تھے۔لیکن حکومت سندھ اس بارے میں لیت ولعل سے کال لیتی رہی اور معاملہ سندھ اسمبلی میں لے گئی۔ اس ایشوپروفاقی وزیرداخلہ او پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان سخت جملوں کاتبادلہ ہوا۔
حکومت سندھ نے صوبائی اسمبلی سے جوقرارداد منظور کرائی اس میں رینجرز کے اختیارات محدود کردیے گئے۔ ابھی تک سندھ حکومت نے رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات کے بارے میں نوٹیفیکشن جاری نہیں کیاہے۔ ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک سندھ حکومت نوٹیفیکیشن جاری کرچکی ہوگی۔سروست وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اعلی سیاسی وعسکری قیادت کااجلاس منعقد ہوچکاہے جس میں کراچی میں رینجر کی تعیناتی کامعاملہ بھی زیرغور آیا۔
اجلاس میں رینجرز کے اختیارات محدود کرنے پرتشویش کا اظہارکیاگیا۔ چوہدری نثارعلی خان نے سندھ حکومت سے اس ایشوپرہونیوالی بات چیت کے بارے میں اجلاس کے شرکارکوبریفنگ دی۔اجلاس میں سندھ حکومت کے طرز عمل کابھی جائزہ لیاگیا اور فیصلہ ہواکہ سندھ حکومت کورینجرز کے اختیارات محدود کرنے کے فیصلے پرنظر ثانی کرنے کیلئے کہاجائے گا۔
وقت اشاعت : 2015-12-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں