تازہ ترین : 1
Caroron Ki Khurd Bard

کروڑوں کی خوردبرد، سینکڑوں کیس نیب کے حوالے

گلگت بلتستان میں ایک طویل عرصے سے سرکاری محکموں میں فنڈز کی خورد برد کرنے والے عناصر کے خلاف آخرکار کروائی کا آغاز کر دیا گیا پیر کی شام نیب کے اہلکاروں نے اپنی اولین کاروائی میں گلگت بلتستان ایکسائزانڈٹیکسیشن کے سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور ایکسائزوٹیکسیشن افسر کو حراست میں لے لیا ہے

اقبال عاصی:
گلگت بلتستان میں ایک طویل عرصے سے سرکاری محکموں میں فنڈز کی خورد برد کرنے والے عناصر کے خلاف آخرکار کروائی کا آغاز کر دیا گیا پیر کی شام نیب کے اہلکاروں نے اپنی اولین کاروائی میں گلگت بلتستان ایکسائزانڈٹیکسیشن کے سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور ایکسائزوٹیکسیشن افسر کو حراست میں لے لیا ہے ان افسران پر 2012 میں محکمے کے لیے اسلحے کی خریداری سمیت دیگر مدات میں کروڑوں روپے خورد برد کرنے کا الزام ہے۔
مبینہ ملزمان کو منگل کے روز نیب کورٹ سے جج مہرا اعجاز علی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے تینوں ملزمان کو 15 روز کی جسمانی ریمانڈ پرنیب انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیاہے۔گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری محکموں میں کرپشن کے سینکڑوں کیسوں میں سے 40 کسی نیب کو دئیے گے ہیں اسلئے اگلے چند روز میں مزید گرفتاریوں کا امکان بتایا جاتا ہے۔
گلگت بلتستان میں نیب کے ذریعے شفاف تحقیقات اور لوٹی گئی دولت واپس حاصل کرنے کے لیے نیب کے ادارے کو وسائل کی فراہمی وقت اہم ضرورت ہے کیونک موجودہ حالت میں نیب کو علیحدہ وفتر تک فراہم نہیں کیا گیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گلگت میں نیب کے حرکت میں آتے ہی کرپشن میں ملوث افسران اور سابق کرپٹ وزراء کی نینداڑ کر رہ گئی ہے اور وہ مجنونانہ حرکتوں پر اتر آئے ہیں۔
ایک مقامی اخبار کے مطابق سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں یا ان کی سابق کا بینہ کے کسی وزیر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو زلزلہ آجائے گا۔ مہدی شاہ نے کہا کہ اگر ہم کھانسیں گے تو بھی زرداری اور بلاول آواز بلند کریں گے۔ اخباری بیان میں سید مہدی شاہ نے نیب کی طرف سے گرفتار کی کوشش پر مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب کا اگلا نشانہ کون بنتا ہے۔ گلگت بلتستان میں یوں تو بہت سارے مسائل سر اٹھائے کھڑے ہیں اور ایک عرصے سے چلنے آنے والے مسائل مسلم لیگ کی نوزائیدہ حکومت اور وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے لیے درد سربن کر رہ گے ہیں جن کو سلجھانے کی حتی المقدور کوشش کی جار ہی ہے لیکن ہر طرف آوے کا آوا ہی بگڑا ہو ا ہے جن کو ڈگر پر لانے کے لیے وقت لگے گا۔
ان مسئلوں میں سے ایک بڑا مسئلہ محکمہ تعمیرات کے ملازمن کی صورت میں صوبائی حکومت کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماضی میں محکمہ تعمیرات میں کی جانے والی اندھا دھند بھرتیوں کی وجہ سے ملازمین کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس محکمے کے تقریبا سات ہزار ملازمین میں سے 1818 ملازمین کی عمر 18 سے کم یا 60 ساس سے زیادہ کی نکلی جبکہ پانچ سو ملازمین کا وجود ہی نہیں تھا اور جعلی ناموں سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی رقم متعلقہ افسران کے جیبوں میں چلی جاتی تھی۔
تحقیقات کے نتیجے میں جن ملازمین کی عمر کم یا زیادہ نکلی ان کو کسی نہ کسی طریقے سے ملازمت میں ایڈجسٹ یا فارغ کرنے کے لیے اورنگ زیب ایڈووکیٹ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون وپارلیمانی امور کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سفارشات کی روشنی میں ان ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سارے معاملے کا تاریک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے جاری چھان بین کے دوران ان تمام ملازمین کی تنخواہ صوبائی حکومت نے روکی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس محکمے کے فرض شناس ملازمین کے چولہے بھی بجھ کر رہ گے ہیں۔
صوبائی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ تحقیقاتی عمل کے بعد کلئیر ہونے والے غریب ملازمین کو فوری طور پر روکے گئے بقایا جات کی ادائیگی کا حکم دیاجائے تاکہ گلگت بلتستان کے شدید ترین سردی کے موسم میں یہ قریب ملازمین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ میرغضنفر علی خان کے گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ھنزہ میں خالی ہونے والی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے سینتیس امیدوار میدان میں آگے ہیں۔
ریٹرننگ افسر ھنزہ کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں میں سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سولہ اور پی پی پی د س امیدوار شامل ہیں۔ اس طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے حصول کے لیے امیدواروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے جنوری کی خون منجمد کرنے والی سردی سے محفوظ رہنے کے لیے ھنزہ کے بالائی علاقوں کی آدھی سے زیادہ آبادی ملک کے گرم شہروں کا رخ کرتی ہے اس طرح جو لوگ حلقے میں موجود بھی ہونگے ان کے لیے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے سے پہلے سوبار سوچنا پڑے گا اس طرح ھنزہ کے ضمنی انتخابات میں ٹرن اوورانتہائی کم رہنے کا امکان ہے۔
وقت اشاعت : 2016-01-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں