بند کریں
جمعہ مئی

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجلی صارفین پر چار روپے سرچارج عائد
رمضان سے پہلے ہی اشیائے ضروریہ و خورد ونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ۔۔۔۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی سرپرستی میں گرانی کی شکایات، آڑھتیوں کی من مانی
احمد جمال نظامی
نیپرا نے وزارت پانی و بجلی کی درخواست پر بجلی کے صارفین پر ایک سے چار روپے تک فی یونٹ سرچارج عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نیپرا کے فیصلے کے باعث بجلی ٹیرف موجودہ سطح پر برقرار مگر صارفین 90 ارب روپے کے ریلیف سے محروم ہو گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق نیپرا نے مالی سال 2014-15ء کے ٹیرف پر وزارت پانی و بجلی کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
نیپرا نے سبسڈی میں کمی اور سرچارج نفاذ کو ٹیرف شیڈول میں شامل کر لیا ہے۔ نیپرا نے دو روپے پچاس پیسے فی یونٹ تک سبسڈی میں کمی منظور کر لی ہے۔ دراصل حکومت سمیت سب کو علم ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ آئی ایم ایف سے جاری قرض ہے اور اسی بنا پر آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن ہے۔ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے بھی اسی سلسلے کی بدترین کڑیاں ہیں جس کا اعتراف سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی کر لیا تھا۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2015-16ء کو بھی ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کا تیارکردہ بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ تاحال حکومت ختم نہیں کر سکی اور حکومتی اعدادوشمار اور دعووٴں کے برعکس صنعتی اور تجارتی حلقوں کی طرف سے بغیر کسی تعطل کے اس پر احتجاج کیاجا رہا ہے۔ شعبہ زراعت بھی اسی باعث بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔
حکومت پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوے کر رہی ہے اور صرف زبانی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم آئی ایم ایف، ورلڈبینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت تمام غیرملکی مالیاتی اداروں سے جان چھڑوالیتے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ماہ مقدس رمضان المبارک کی آمد ہے اور حکومت کی طرف سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے اس ماہ کے لئے اعلان کے باوجود بجلی کے صارفین پر ایک سے چار روپے فی یونٹ سرچارج عائد کرنے کی نیپرا کی طرف سے منظوری دے دی گئی ہے۔
جس کے تحت گھریلو صارفین کے ٹیرف میں تین اور جبکہ کمرشل اور صنعتی صارفین پر چار روپے یونٹ سرچارج عائد کیا جائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت عوام کو راضی کر لے یا آئی ایم ایف کو، دونوں میں سے کسی ایک کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ سب سے بہتر ہے حکمران اللہ کو راضی کر لیں کیونکہ انہیں حکمرانی بھی اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہے۔ ہمارے حکمران اپنے اسلاف کی تاریخ کی ہی ورق گردانی کرنے کی زحمت گوارا کر لیں۔

رمضان المبارک کی بہت زیادہ فضیلت ہے اور ہر سال کی طرح افسوس اس مرتبہ بھی رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی بجلی کے ٹیرف میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے اور اس کے علاوہ تمام تر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تیسرے آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اب حکومت کے اپنے اقدامات کے باعث ہر چیز کے ریٹ کئی گنا بڑھ گئے ہیں اور پھر محض حکومت کارکردگی دکھانے کے لئے سستے رمضان بازار لگانے جا رہی ہے۔
بڑے بڑے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ کیا رمضان المبارک میں توانائی ذرائع کی قیمتوں کے ساتھ مہنگائی بھی آئی ایم ایف کے اشاروں پر کی جاتی ہے، ایسا بظاہر تو نظر نہیں آتا لیکن شاید حکومت سرمایہ رکھنے والے آڑہتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کو راضی کرنے کے لئے بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر خاموش رہتی ہے اور پھر ایک دو روپے کمی کر کے سستے رمضان بازار کا حکومتی تماشا شروع کیا جاتا ہے۔
حسب سابق اس رمضان کے موقع پر بھی بڑے سرمایہ داروں، آڑھتیوں اور بیوپاریوں کو اور اسی طرح صنعت کاروں کو جن میں آٹا، گھی، چینی وغیرہ کے صنعت کار شامل ہیں ان کو اپنی من مرضی کے مطابق نرخ بلند کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اور پھر رمضان بازاروں اور رمضان المبارک کے نام پر حکومت کی کارکردگی دکھانے کا ڈرامہ شروع کرتے ہوئے جس بھی چیز کے نرخ دس بیس روپے یا زیادہ بڑھے ہیں ان میں دو سے تین روپے کمی کر کے حکومت عوام کو ریکارڈ ریلیف دینے کے دعوے کر رہی ہے۔
ایسے رمضان بازاروں کا کیا فائدہ جس کی تشہیر پر حکومت کروڑوں اربوں روپے خرچ کر دے اور غریب آدمی کو کچھ میسر نہ آ سکے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ سستے رمضان بازار کا ڈرامہ ہی نہ رچایا جائے ۔ ہر سال سستے رمضان بازاروں میں کبھی بھی کوئی معیاری چیز عوام کو دستیاب نہیں ہوتی اور حکومت کو یہ بات اپنے ذہن نشین رکھتے ہوئے تسلیم کرنی ہو گی کہ اس مرتبہ بھی ماہ صیام سے پہلے ہی تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔
پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کاغذی کارروائیوں کے چرچے عوام اخبارات میں پڑھ پڑھ کر تنگ آ چکے ہیں اور ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے ذمہ داران کی سرپرستی میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بدترین اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں رمضان المبارک سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی جا رہی ہے اور وہاں کی حکومتیں عوام کو سبسڈی فراہم کر رہی ہیں لیکن ہمارے ہاں رمضان سے پہلے بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بدترین اضافہ سامنے آ چکا ہے۔
ناجائزمنافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ چینی، دالیں، پھل، سبزیاں، آٹا، دودھ ہر چیز کی قیمتیں ایک دم بلند کر دی گئی ہیں۔ پرائس کنٹرول اور مارکیٹ کمیٹیاں دونوں ہی اپنا کام اور ذمہ داریاں سرانجام دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں اور نیرو بانسری بجا رہا ہے اور روم جل رہا ہے کے مصداق حکمران اور تمام اضلاع کی انتظامیہ اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے ایسے تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے انہوں نے رمضان سے پہلے دودھ اور شہد کی نہریں جاری کر دیں۔
ماہ صیام کی بہت فضیلت ہے اور اس مرتبہ بھی روزے شدید گرمی میں آ رہے ہیں۔ گویا جتنی مشقت ہو گی اتنا اجر اور مقام اللہ کے ہاں زیادہ ہو گا۔ ہم میں سے ہر کوئی دنیا و آکرت میں اپنے اپنے اعمال کا جواب دہ ہے اور اس سے بچ نہیں سکتا۔ لہٰذا جیسی عوام ہو گی حکمران ویسے ہی آتے رہیں گے۔اس لئے ہم سب کو اپنے اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان