تازہ ترین : 1
Bhaio Dengue Nehin Aya

بھائیو! ڈینگی نہیں آیا

محکمہ صحت اور پنجاب آئی ٹی بورڈنے مُک مُکا کرلیا

چند سالوں سے پاکستان میں ڈینگی خوف کی علامت بن چکا ہے۔ ہرسال لوگ ڈینگی بخار میں مبتلا ہوکرمرجاتے ہیں۔ ابتدا میں تو اس کے حوالے سے کئی بے بنیاد باتیں بھی گردش کرتی رہی ہیں۔ حکومت اور این جی اوز کی جانب سے گزشتہ برس بھی آگاہی مہم کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کئے گئے ۔ اسی طرح ڈینگی سپرے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں الگ سے ڈینگی وارڈ بھی قائم کیے گئے تھے۔
گزشتہ برس ڈینگی پرقابو پانے کی خبریں بھی سنائی جارہی تھیں لیکن اس برس پھر ڈینگی سراٹھائے کھڑا ہے۔ حکومت کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں ڈینگی سیل قائم کیے جاچکے ہیں جو مکمل ڈیٹا حاصل کرکے حفاظتی اقدامات کررہے ہیں۔ اس ڈیٹا کابڑا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ جن علاقوں میں ڈینگی کے کیسز سامنے آئیں وہاں احتیاطی تدابیر بڑھادی جائیں۔
سپرے کروانے کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم اور علاقے کے ہسپتالوں میں سہولیات کے انتظام کویقینی بنایاجائے۔ اس بار بھی وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈینگی کے حوالے سے رپورٹ طلب کی تھی لیکن معلوم ہوا ہے کہ سرکاری ادارے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی ”ماموں“ بنارہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت اور پنجاب آئی ٹی بورڈ، لاہور کے ہسپتالوں سے ڈینگی کامکمل ڈیٹا اکٹھا نہیں کرسکے۔
لہٰذا لاہور کے 200ہسپتالوں سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی بجائے چند ہسپتالوں کی رپورٹ ہی وزیراعلیٰ کوبھجوائی جارہی ہے۔ اس کاایک مطلب یہ بھی ہے کہ افسران اپنی اچھی کارگردگی ظاہر کرنے کے لیے غلط رپورٹ تیار کررہے ہیں جس میں 100سے زائد مریضوں کی تعداد محض 50بتائی جارہی ہے تاکہ ان کی ناقص کارکردگی بجائے” سب اچھا“ ہی ظاہر ہو۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں محکمہ صحت اور آئی ٹی بورڈکاآپس میں گٹھ جوڑہوچکاہے جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی کی اصل صورت حال واضح نہیں ہوپارہی البتہ ڈینگی کے مریضوں کی ہلاکت کاسلسلہ شروع ہوچکاہے۔
بدقسمتی سے ہماری افسر شاہی کایہ معمول رہاہے کہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے فائلوں میں فرضی کارروائیاں لکھ کر”سب اچھا“ کاٹھپہ لگادیتی ہے۔ وزیراعلیٰ کاشاید خیال ہے کہ پنجاب اور خصوصاََلاہور میں ڈینگی پرقابوپایا جاچکا ہے اور چند ایک کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ سچ یہ ہے کہ زیادہ ترمریض اب سرکاری ہسپتالوں پر اعتبار ہی نہیں کرتے۔
ہمارے ہاں ایسے معاملات میں تو ویسے ہی سرکاری ڈاکٹروں کی بے حسی اور لاپروائی سے ڈرے لوگ زندگی بچانے کے لیے نجی ہسپتالوں کارخ کرتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیامحض چند سرکاری ہسپتالوں سے اکٹھا کیاگیا ڈیٹا ہی اصل سچ ہے؟ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ معطل ہونے کے خوف میں مبتلا افسران اور ڈاکٹرز کیادرست اعدادو شمار بتارہے ہوں گے؟ آخر کب تک ہم ایسی رپورٹس کی بنیاد پر گڈگورننس کے نعرے لگاتے رہیں گے اور کب تک عام شہریوں کوجھوٹ بکنے والے عملہ کی صوابدیرچھوڑا جاتا رہے گا۔
ہمارے ہاں توسرکاری ہسپتالوں کی مفت فراہم کی جانے والی ایمرجنسی ادویات تک نجی میڈیکل سٹورز پر بکتی پائی گئی ہیں۔ محکمہ صحت کی کرپشن تو پہلے بھی کئی بارسامنے آچکی ہے۔ لیکن آئی ٹی بورڈ بھی ایسی ہی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو پھر کس پر اعتبار کیا جائے۔
وقت اشاعت : 2015-12-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں