تازہ ترین : 1
Azeem Quaid e Azam Rehbar

عظیم قائدعظیم رہبر

جس نے قوم کو عزت سے جینا سکھایا

سرمدآزاد:
زندہ قومیں کبھی اپنے اساسی نظریات سے اغماض کی مرتکب نہیں ہوتیں۔اپنے بانیان کے وضع کردہ اصولوں اور نظریات پر کاربند رہنے والی اقوام پر تعمیر وترقی کے دورواہوتے چلے جاتے ہیں اور عالمی برادری میں عزت واحترام ان کامقدر بن جاتی ہے ۔بانی پاکستان کے یوم دفات پر ہم سب کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم “قائداعظم زندہ باد کے نعرے تولگاتے ہیں لیکن کیاعظیم قائد کے نظریات پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ قائداعظم  نے برصغیر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اس خطہ میں ایک آزاداور خود مختار مسلم مملکت کا حصول یقینی بنایا انگریز اور اسکے ٹوڈی متعصب ہندوؤں کی غلامی کے شکنجے میں جکڑے برصغیر کے مسلمانوں کے معاشی اور اقتصادی حالات سنوارنے اور انہیں اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق آبرومندی کے ساتھ زندگی بسرکرنے کاچلن سکھایا اور مملکت خدادادمیں بطور قوم ان کا تشخص اجا گرکرنے کیلئے ایک واضح سمت متعین کی۔
متعصب ہندو اکثریت نے مسلم دشمنی کے باعث برصغیر کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرکے اور انہیں اپنے سے کمتر انسان کا درجہ دیکر خوددوقومی نظریے کی بنیاد رکھی تھی جوتحریک پاکستان کی بھی بنیاد بنی اور بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی جس میں قائداعظم کی بے بدل قیادت میں ایک ایسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی تشکیل اور اس آزادہ خود مختار پاکستان کا تصور متعین ہوا،جس میں مسلمانوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی بلکہ انہیں اقتصادی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے والی ہندوبنیاء ذہنیت اور انگریز کے ٹوڈی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے استحصال سے بھی نجات ملے گی اور اس خطہ کے مطلوب مسلمانوں کی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں قائم ہونیوالی اس مملکت خداداد میں خلق خداکے راج کاخواب بھی شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔

جہاں برصغیر کے مسلمانوں کے اقتصادی ، معاشی استحصال اور انکی بدحالی نے ان کیلئے الگ مملکت کے حصول کی سوچ کو پروان چڑھایا‘ وہیں مذہبی نظریاتی تفاوت بھی حصول پاکستان پر منتج ہوئی جس میں مسلمانان برصغیر کے قائدین علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے نہ صرف اپنی سوچ مشن اور منشور کے تحت مسلمانوں کو منظم ومتحرک کیا بلکہ انہیں ہر مرحلے پر اپنی الگ مملکت (پاکستان) کے مقاصد سے بھی آگاہ کرتے رہے۔
علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد کے ذریعے تصور پاکستان کو اجاگر کرکے اسکے منشور کے خدوخال بھی نمایاں کردیئے اور انکی رحلت کے بعد انکے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں قائداعظم نے منظم اور پرامن تحریک چلا کرسات سال کے مختصر عرصہ میں اقبال کے الگ خطہ ارضی کے حصول کو ممکن کردکھایا۔قیام پاکستان کے مقاصد اسکے نظریہ اور نظام کے حوالے سے قائداعظم کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں تھا۔
چنانچہ وہ قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوران ہرمرحلے پت مسلمانان برصغیر اور دنیا کو قیام پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کرتے رہے۔
قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے قائداعظم کی 13جنوری 1948ء کی تقریر کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں جس میں انہوں نے فرمایا تھا: ہم نے پاکستان کامطالبہ ایک زمین کاٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے ،جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔
اسی طرح قائداعظم نے قیام پاکستان نے قبل 8مارچ 1944ء کو مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ میں واضح طور پر باور کرادیاتھا کہ پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندومسلمان ہواتھا۔ انہوں نے قیام پاکستان کی تحریک پیداکرنیوالے دوقومی نظریے کو پانی متعدد تفاریر میں اجا گرکیا۔23مارچ 1940ء کو منٹوپارک لاہور میں معقدہ مسلم لیگ کے اجلاس میں جس میں قراردادلاہور منظور ہوئی اپنی تقریر میں قائداعظم نے فرمایا: اسلام اور ہندودھرم محض مذاہب نہیں فی الحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں چنانچہ اس خواہش کو خواب وخیال ہی کہنا چاہیے کہ ہندواور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قومیت تخلیق کرسکیں گے۔
اسی طرح قائداعظم نے26مئی 1940ء کو بمبئی میں مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب میں دوقومی نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا، قدرت نے پہلے ہی ہندوستان کو تقسیم کررکھا ہے اور اسکے ٹکڑے ٹکڑے کررکھے ہیں ہندوستان کے نقشے پر مسلم ہندوستان اور ہندوستان پہلے ہی موجود ہیں۔انہوں نے 25اکتوبر 1947ء کو ایک غیرملکی نامہ نگار کو انٹرویودیتے ہوئے بھی دوقومی نظریے کو ان الفاظ میں اجاگرکیا کہ جہاں تک دوقومی نظریے کاتعلق ہے یہ کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے اور ہندوستان کی تقسیم اسی حقیقت کی بنیاد پر ہوئی۔

اسی طرح قائداعظم نے ملک خداداد کے نظام تمام خدوخال بھی واضح طورپر نمایاں کردیئے تھے جو ایک جمہوری نظام کے تابع اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے پرمبنی تھا۔ اس سلسلہ میں 25جنوری 1948ء کو کراچی بارایسوسی ایشن کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ، اسلام نے مساوات سکھائی ہے ہر شخص سے انصاف اور رواداری کا حکم دیاہے کسی بھی شخص کے پاس کیاجواز ہے کہ وہ عوام الناس کیلئے انصاف اور دواداری پر اور دیانت داری کے اعلیٰ معیار پر مبنی جمہوریت مساوات اور آزادی سے گھبرائے۔
آج جو عناصر اسلام اور جمہوری نظام کو اپنے مقاصد کے تحت گڈمڈ کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں متذکرہ پریس کانفرنس میں ادا ہونیوالے قائداعظم کے یہ الفاظ بہر صورت پیش نظر رکھنے چاہئیں کہ آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔ہم نے جمہوریت 13سوسال پہلے سیکھ لی تھی۔قیام پاکستان کے مقاصد اور اسکے نظام کے حوالے سے قائد کی سوچ میں کسی قسم کاابہام نہیں تھا اور پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی قیادتوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ بانیان پاکستان قائدواقبال کے افکار ونظریات کے ساتھ خود بھی جڑے رہتے اور انکے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں ہی پاکستان کی ترقی واستحکام کیلئے اپنا کردار بروئے کارلاتے مگر ہمارایہ المیہ ہے کہ بانیان پاکستان کے افکار ونظریات ہی نہیں انکے تشکیل دیئے گئے پاکستان کو بھی مسلم لیگی قیادتوں کے ہاتھوں ہی سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔
قائداعظم کی رحلت کے بعد مسلم لیگ کے وہ قائدین جو ہندواور انگریز کے استحصالی نظام کے پروردہ تھے اور جنہیں قائداعظم نے کھوٹے سکے قرار دیا تھے اسی استحصالی نظام کو پروان چڑھانے کے ایجنڈے پر اپنے اپنے مفادات کے تحت باہم متحدہوگئے اور اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کرکے نوآزاد مملکت خداداد کو آغاز ہی میں پٹڑی سے اتار دیا۔انکی اس مفادپرستی نے ہی وطن عزیز میں جرنیلی آمریتوں کی راہ ہموار کی جبکہ ان آمریتوں کی چھتری تلے پروان چڑھنے والے بونے سیاست دانوں نے مسلم لیگ کو بھی ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔

ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی قائداعظم کی سوچ واضح تھی۔انہوں نے 11 مارچ 1948ء کو سوئٹزرلینڈ کے ایک صحافی کوانٹرویو دیتے ہوئے قراردیا تھا کہ اگربھارت احساس برتری ختم کردے پاکستان کو برابر کا سمجھے اور اصل حقائق کاسامنا کرے تو پاکستان اور بھارت اپنے اختلافات اور تنازعات پرامن طور پر حل کرلیں گے۔قائد کے ان ارشادات کی روشنی میں بھارت سے تعلقات کیلئے اسکے ساتھ تنازعات کا حل ہونا شرط اول ہے جبکہ کشمیر کا تنازعہ بھارت کا اپنا پیدا کردہ ہے جس کی موجودگی میں بھارت کی جانب دوستی اور تجارت کا ہاتھ بڑھانا ملک کی خود مختاری سے دستبردار ہونے کے مترادف ہوگا۔
حکمران مسلم لیگ کے قائدین اگر خود کو قائد کا جانشین سمجھتے ہیں تو انہیں قائداعظم کے ان الفاظ کو پلے باندھ کررکھنا چاہیے جوانہوں نے اپنی وفات سے چند روزقبل ادا کئے تھے کہ کشمیر سیاسی اور فوجی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے کوئی خوددار ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اپنی شہ رگ دشمن کی تلوار کے حوالے کردے۔کیابھارت پاکستان کی اسی شہ رگ کو اپنا ٹوٹ انگ بناکر پاکستان کی سالمیت ختم کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کئے بیٹھا؟ قائداعظم نے تو 7اگست 1947ء کو جمتہ الوداع کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کا معاشی نظام بھی ان الفاظ میں واضح طور پر اجاگرکر دیا تھا کہ اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح وبہیود پر مرکوز کرنا پڑیگی۔
آج وطن عزیز میں بالخصوص پاکستان کی خالق جماعت کی حکمرانی میں ملک کے پسے پسماندہ غریب طبقات اور عوام الناس، جس طرح سنگین اقتصادی مسائل سے دوچار اور روٹی روزگار کے وسائل سے محروم کرکے راندہ درگار بنائے جارہے ہیں اس سے قیام پاکستان کے مقاصد پر ہی زدپڑرہی ہے اس لئے قوم اپنے حکمرانوں اور سیاسی قائدین سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ بانی پاکستان نے جن افکارونظریات اور مقاصد کے تحت پاکستان کا قیام حقیقت بنایاتھا؟ کیا مملکت خداداد میں یہ مقاصد پورے ہوپائے ہیں یانہیں۔
پاکستان مخالف قوتوں کا تو اس وطن عزیز کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا اپنا ایجنڈا ہے، جس کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہیں مگر کیا ہم خود بھی اس مملکت خداداد کے نگہبان کا کردارادا ہرپارہے ہیں من حیث القوم ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کراس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔
وقت اشاعت : 2015-09-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں