تازہ ترین : 1
Aqwam e Muthida Kay 70 Baras

اقوام متحدہ کے 70برس

عالمی ادارہ بے انصابی کاگڑھ بن چکا ہے

شیخ عثمان یوسف قصوری:
اقوام متحدہ کاادارہ اپنی 70برس سالگرہ مناچکا ہے۔ 25اپریل سے 25جون 1945ء تک سان فرانسکو امریکہ میں پچاس ممالک کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی جس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پرغور کیاگیا۔ چنانچہ کافی غور وخوض کے بعد 24اکتوبر 1945ء کو ایک عالمی ادارہ معرض وجود میں آیا جس کانام اس وقت کے امریکی صدر، فرینکلن ڈی روز ویلٹ، نے ” اقوام متحدہ“ تجویز کیاتھا۔
اس ادارے کامنشوراور مقصد آنے والی نسلوں کوجنگ کی تباہ کاریوں سے بچانا، انسانی حقوق کی پاسداری، معاشرتی اقدار کی قدرومنزلت، مساوات اور برابری کوفروغ دیناتھا۔ اس ادارے کی بنیاد رکھنے والوں نے طے کیاکہ ایسے حالات پیداکئے جائیں گے کہ عہدناموں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کونبھایاجاسکے۔ دنیا میں آزادی کی فضا قائم کی جائے تاکہ اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور شہریوں کامعیار زندگی بہتروبلندہو۔
اقوام متحدہ کے آئین کی شق نمبر 1کے تحت ادارے کے بنیادی مقاصد یہ ہیں:
مشترکہ مساعی سے بین الاقوامی سطح پرقیام امن کویقینی بنانا۔ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کوفروغ دینا۔ بین الاقوامی اقتصادی، سماجی، ثقافتی، سیاسی معاملات میں بین الاقوامی تعاون پیدا کرنا۔ بنیادی انسانی حقوق کیلئے عزت و احترام پیداکرنا۔ اقوام متحدہ کی صورت میں عالمی سطح پر ایسا مرکز قائم کرنا جس کے ذریعے قومیں رابطہ عمل پیداکرکے ان مشترکہ مقاصد کوحاصل کرسکیں۔
اقوام متحدہ کے آرٹیکل نمبر2کے تحت اس کے تمام رکن ممالک کادرجہ اور مرتبہ برابری کی بنیاد پر ہوگا۔ اقوام متحدہ کارکن بننے کامعیار یہ ہے کہ ہروہ امن پسند اس ادارے کارکن بن سکتا ہے جواس کے چار ٹرکی شرائط تسلیم کرے اور اقوام متحدہ کی عائد کردہ ذمہ داریوں کواداکرنے کیلئے تیار ہو۔ ابتداء میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 51تھی جواب بڑھ کر 195ہوچکی ہے۔
اقوام متحدہ کے آئین میں یہ درج ہے کہ اگرکوئی رکن ملک چارٹرکی مسلسل خلاف ورزی کرے توسکیورٹی کونسل کی سفارش پرجنرل اسمبلی اراکین کی رکنیت معطل یاخارج کی جاسکتی ہے تاہم بعدازاں سلامتی کونسل معطل شدہ اراکین کی رکنیت بحال کرسکتی ہے۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیااقوام متحدہ گزشتہ برسوں میں ا پنے طے شدہ مقاصد حاصل کرپایا؟ اس کاجواب سوائے مایوسی اور افسردگی کے کچھ نہیں ملتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ اپنے منشور کی کامیابی اور مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام ہوچکاہے اقوام متحدہ کی بنیاد کاسب سے بڑا مقصد یہ تھاکہ دنیا کے تمام ممالک میں امن، بھائی چارے اور رواداری کوفروغ دیاجائے تاکہ آئندہ نسلوں کوجنگ سے بچایا جاسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ ایک ایسا خود مختار ادارہ نہیں ہے جس کوآزادانہ فیصلوں کی اجازت دی گئی ہوبلکہ یہ سکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، اور چین کادم چھلابنا ہواہے۔
دنیاکی بڑی طاقتیں ہونے کے باعث یہ ممالک اس کے فیصلوں پراثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ ان مستقل رکن ممالک کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنا ہواہے جواسے اپنے اشاروں پرنچا کر اپنی مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں۔ اقوام متحدہ کواپنی بے اختیاری کااحساس کوریاکی جنگ میں ہوگیاتھا۔ اس جنگ کورکوانے میں ناکامی اس بات کابڑا ثبوت ہے کہ اقوام متحدہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایا۔
اس جنگ میں امریکہ نے جنوبی کوریا اور روس نے شمالی کوریا کاساتھ دیاتھا۔ امریکہ نے ہمیشہ دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے منافقت کامظاہرہ کیا۔ اس نے شمالی وجنوبی کوریا کے درمیان جنگی ماحول پیداکرکے دونوں میں ہونے والی ممکنہ جنگ میں جنوبی کوریا کے دفاع کے نام پر اقوام متحدہ سے عسکری کارروائی کی اجازت حاصل کرلی۔ دوسری جانب روس نے عارضی طور پر سکیورٹی کونسل کابائیکاٹ کردیا لیکن خفیہ طور پرشمالی کوریا کوبھرپور طریقے سے فوجی سازوسامان بھی مہیاکردیا۔
یہ عالمی ادارہ اپنے دوسرے بڑے مقصد کو حاصل کرنے میں بھی بری طرح ناکامی سے دوچار ہواکیونکہ یہ دنیا کے ممالک میں مشترکہ مفادات پر مشتمل معاشی نظام تشکیل نہیں دے پایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیاترقی یافتہ، ترقی پذیر اور پسماندہ غریب ممالک میں بٹ ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی طرح آج بھی استعماری طاقتیں دنیاکے غریب اور پسماندہ ممالک پراپنی اجارہ داری ختم کرنے پرتیار نہیں ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے من مرضی کے تجارتی معاملات طے کرکے اُن پراقوام متحدہ سے مہر تصدیق ثبت کرالیتی ہیں۔
امیر ممالک کے من مانے فیصلوں اور لوٹ مارکے باعث ترقی پذیر اور غریب ممالک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوپارہے اور یوں جوادارہ عالمی سطح پرانصاف فراہم کرنے کیلئے قائم کیاگیا تھاوہ خود بے انصافی کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ کشمیر، فلسطین، عراق، شام، افغانستان سمیت کئی دیگر مماک میں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور آج بھی اُن کاخون پانی کی طرح بہایاجارہاہے لیکن قوام متحدہ خاموش تماشائی بنابیٹھاہے۔
سب جانتے ہیں کہ بھارت اقوام متحدہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے منظور کی جانے والی قرادادوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔ آج بھی مقبوضہ وادی میں معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم ڈھائے جارہے ہیں۔ امریکہ ویورپ کاپرور دہ اسرائیل فلسطینیوں پرقہر ڈھارہاہے لیکن اقوام متحدہ میں اتنی جرات نہیں کہ وہ اس کاہاتھ روک سکے یااس مسئلے کاکوئی مستقل حل نکال سکے۔
انسان حقوق کے علمبردار اور جمہوریت کے چیمیئن امریکہ نے نائن الیون کے ڈرامائی حملوں کوجواز بناتے ہوئے افغانستان، عراق، لیبیا پر حملہ کر کے دنیا کے امن کوتباہ وبرباد کرکے رکھ دیا اور اس سلسلے میں اس نے اقوام متحدہ کے آئین وقانون کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی کے وقار کوبھی پامال کیالیکن اقوام متحدہ یہاں بھی مکمل بے بسی کی تصویر بنی رہی۔
وقت اشاعت : 2016-01-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں