تازہ ترین : 1
Anar Kali

انار کلی

مغلیہ خاندان کی پُر شکوہ تاریخ ایسی محبتوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جن کا انجام بخیر اور خوشگوار ہوا۔ شاہجاں ممتاز محل،جہانگیر نور جہاں کی محبتوں کی مشہور کہانیوں پر نگاہ کیجئے

مغلیہ خاندان کی پُر شکوہ تاریخ ایسی محبتوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جن کا انجام بخیر اور خوشگوار ہوا۔ شاہجاں ممتاز محل،جہانگیر نور جہاں کی محبتوں کی مشہور کہانیوں پر نگاہ کیجئے تو ان کے ساتھ ہی ایک ایسا نام بھی نگاہ میں آجاتا ہے جس سے وابستہ محبت کی کہانی گداز دلوں کو آج بھی اداس کر دیتی ہیں ۔ وہ انار کلی کا ہے۔
انار کلی کی داستان کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ ایران کا یاک سودا گر اپنے گھرانے کے ہمراہ عازم ہندوستان ہوا۔
راستے میں وہ ڈاکووٴں کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کی خوبرو بیٹی راجہ مان سنگھ حاکم کابل کو فروخت کر دی گئی۔ راجہ مان سنگھ نے اسے شہنشاہِ اکبر کو تحفتاََ پیش کیا۔ اکبر نے اس کے حسن سے متاثر ہو کر اسے انار کلی کا نام دیا اور اسے دربار میں رقاصہ خاص کا درجہ دیا گیا۔
1599 میں اکبر کے وزیر خاص ابوالفضل نے اکبر کے سامنے انار کلی اور شہزادہ سلیم کے محبت کے تعلقات کے بارے میں شبہ کا اظہار کیا۔
ایک موقع پر شیش محل میں جہاں شہنشاہ اکبر نے شاہی دربار لگا رکھا تھا، اکبر نے آئینے میں انار کلی کو سلیم کی طرف بڑی محبت سے دیکھتے ہوئے پایا اور اس کے شبہات کو یقین میں بدل گئے۔ نیتجتاََ شہنشاہ نے انار کلی کو دیوار میں زندہ چنوا دیا۔ شہزادہ سلیم کی محبوبہ کو موت کے گھاٹ اتارنے سے پہلے شہزادے کو ایک مہم پر دارالحکومت سے باہر بھیج دیا گیا تھا تاکہ کسی طرح کا تنازعہ نہ کھڑا ہو سکے۔

انار کلی اور شہزادہ سلیم(جہانگیر) کے عشق کی داستان ایک ختم نہ ہونے والی بحث میں تبدیل ہو گئی ہے۔ تاریخ دانوں اور عوام کی آراء بالکل مختلف ہیں۔ ان مختلف النوع خیالات وقیاس آرائیوں کی بدولت اس امر کا فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ یہ واقعہ حقیقت تھایا محض افسانوی حیثیت رکھتا ہے۔
کیاانار کلی کے دل میں شہزادہ سلیم کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار کرنے کاخیال تھا تاکہ وہ آئندہ تخت پر بیٹھنے والے سے منسلک ہو کر ہندوستان کی ملکہ کی حیثیت اختیار کرے؟ یا کیا انار کلی کا کوئی وجود بھی تھا یا نہیں۔
؟ یہ سب باتیں متنازعہ ہیں۔
نور احمد چشتی اپنی کتاب تحقیقاتِ چشتی میں لکھتے ہیں کہ انار کلی اور شہزادہ سلیم کی محبت کی داستان میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق شہنشاہ اکبر نے نادرہ بیگم یا شریف النساء کو اس کے حسن کی وجہ سے انار کلی کا خطاب دیاتھا۔ اپنے مسحور کن حسن کی وجہ سے دوسری بیگمات کے حسد کی شکار ہوئی اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
ایک اور روایت کے مطابق جب اکبر دکن کی مہم پر تھا تو یہ حسین عورت کسی بیماری میں چل بسی۔
ایس ایم لطیف اپنی کتاب تاریخ لاہور اور اس کے آثارِ قدیمہ میں لکھتے ہیں کہ کسی موقع پر شہنشاہ اکبر نے اسے اور شہزادہ سلیم کی مسکراہٹوں کو آئینے میں دیکھا اور اس بناء پر اسے دیوار میں زندہ چنوا دیا۔
انار کلی کے بارے میں سب سے پہلا تذکرہ ایک انگریز ولیم فنچ کا ملتا ہے جو کاروبار کے سلسلے میں 1611 میں لاہور آیا تھا ۔
فقیر سید اعجاز الدین نے ولیم فنچ کا ذکر اپنی کتاب ”لاہور“ میں کیا ہے کہ فنچ نے لاہور میں ایک مقبرہ دیکھا جس کے بارے میں اسے بتایا گیا یہ ایک عورت نادرہ کامقبرہ ہے جسے اکبر کے حکم سے دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا۔
ایک اور وقائع نگار ٹیری (Terry) نے اپنے رسالہ ٹیری جرنل میں 1655 میں لکھا کہ شہنشاہ اکبر نے شہزادہ سلیم کو تخت سے الگ کرنے کی دھمکی دی تھی اور اس کی وجہ اکبر کی منظور نظر کنیز انار کلی تھی۔

ان تمام باتوں کے باوجود کہانی کا اصل کردار شہزادہ سلیم اس معاملہ میں بالکل خاموش ہے۔ اس نے اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں اپنے دوسرے بے شمار مشاغل اور دلچسپیوں کا ذکر بے باکی سے کیا ہے لیکن انار کلی کے واقعہ کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔
بیشتر تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ انار کلی کی داستان محض ایک افسانہ ہے جسے امتیاز علی تاج کے ڈرامے انار کلی نے لازوال شہرت بخش دی ہے۔

کچھ موٴرخوں کا خیال ہے کہ وہ جگہ جسے انار کلی کا مقبرہ کہا جاتا ہے (موجودہ پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور) دراصل جہانگیر کی ایک ملکہ صاحب جمال کا مقبرہ ہے۔ اس جگہ کے اطراف میں انار کلی باغ تھا اسی مناسبت سے اس مقبرے کو انار کلی کا مقبرہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس مقبرے میں موجود قبر کی سل پر فارسی کا ایک شعر تحریر ہے جو جہانگیر نے خود تصنیف کیا۔
اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ کاش میں اپنی محبوبہ کا چہرہ ایک بار پھر دیکھ سکتا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو میں قیامت تک کے لئے خدا کا شکر گزار ہوتا۔ نیچے سلیم اکبر لکھا ہوا ہے جو جہانگیر کا حقیقی نام تھا۔
انار کلی وہ بدنصیب خاتون تھی جس کے حقیقی مقام کا تعین اس کی دوامی شہرت کے باوجود نہ ہو سکا۔ اسے زندگی میں محبت کا سکون نہ مل سکا اور مرنے کے بعد بھی اس کا وجود حقیقت اور افسانے کی بھول بھلیوں میں کھو کر نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔
وقت اشاعت : 2015-06-13

(1) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں