بند کریں
بدھ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
الطاف حسین کے مستقبل پر سوالیہ نشان‘ جانشین کون ہو گا؟
متحدہ پر جو الزامات ملک کے اندر لگتے تھے ان کی نوعیت اور طرح کی تھی مگر بھارت سے مالی معاونت لینااور اپنے کارکنوں کی وہاں تربیت کرواناایسے الزامات ہیں کہ ہر پاکستانی کے کان کھڑے ہیں

سلیم بخاری:
متحدہ قومی مومنٹ اور اسکے قائد الطاف حسین کے لئے حالات لمحہ بہ لمحہ تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ہر گزرتے دن ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اگر یہ صورتحال کچھ عرصہ جاری رہی تو الطاف حسین کے لئے عرصہ حیات تنگ ہو تا چلا جائے گا۔ متحدہ اور اسکی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ ہے متحدہ کی خاموشی اور ان الزامات کا جواب نہ دینا معاملے کو مزید الجھا رہا ہے۔

ایم کیو ایم کا یہ موقف کہ الطاف حسین کو جن مقدمات کا برطانیہ میں سامنا ہے انکی سماعت کی تاریخیں قریب ہیں اس لئے متحدہ کے وکلاء کی مصروفیت کے پیش نظر کوئی بیان جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ موقف کوئی زیادہ جاندار نہیں۔ متحدہ پر جو الزامات ملک کے اندر لگتے تھے ان کی نوعیت اور طرح کی تھی مگر بھارت سے مالی معاونت لینااور اپنے کارکنوں کی وہاں تربیت کرواناایسے الزامات ہیں کہ ہر پاکستانی کے کان کھڑے ہیں اوروہ جلد از جلد حقائق جاننے کے لئے بیقرار ہیں۔
یہ ایک فطری عمل ہے قوم کچھ بھی برداشت کرسکتی ہے مگر کسی کو بھارت کا ایجنٹ یا اسکا حلیف ہوتا دیکھ کر وہ چپ نہیں سادھ سکتی متحدہ کی طرف سے ان حقائق کا انکار اور انہیں صرف الزامات قرار دینے سے نہ تو زمینی حقائق تبدیل ہونگے نہ ہی اسکی قیادت کو بے گناہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ چھ سے سات ماہ کے دوران الطاف حسین نے جو تقاریر کی ہیں اور جن حوالوں سے بھارت کو مخاطب کر کے سوال اٹھائے ہیں اس سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔
ایک تقریر میں وہ بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔” را والوں ایک مرتبہ ہمارا ساتھ دے دو پھر دیکھیں گے دریائے سندھ میں کس کا خون بہتا ہے“۔ ذرا ملاحظہ کریں کہ وہ کس سے کسی کے خلاف مدد مانگ رہے ہیں۔ پھر انکا یہ بیان ”بھارت والو ہم مہاجر اگر واپس آجائیں تو کیا ہمیں قبول کر لوگے“ کس نے نہیں سنا اور اسے سن کر کس پاکستانی کا سر شرم سے جھک نہیں گیا ہوگا۔
یہ انداز بیان کسی صورت بھی ایک محب وطن پاکستان کا نہیں ہوسکتا۔ زرا اور پیچھے چلئے، دہلی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین یوں گویا ہوئے ”1947ء میں بر صغیر کی تقسیم کا عمل ایک بہت بڑی غلطی تھی“۔ کیا یہ بیانان بذات خود متحدہ اور بھارت کے باہمی روابط کے کافی ثبوت نہیں ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر متحدہ کے را سے تعلقات کی کہانی اتنی پرانی اور واضح تھی تو ہمارے سکیورٹی ادارے کیوں خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے اور بروقت مناسب اقدام کیوں نہیں اٹھائے گئے۔
کیا یہ ان اداروں کی نا اہلی اور ناکامی تھی یا اس کے پیچھے مصلحتاً نظر اندازی کا پہلو پوشیدہ ہے۔ دوسری اہم ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں کی ہے جنہیں اپنے اقتدار کے لئے متحدہ کی مدد درکار تھی جس کے صلے میں متحدہ کے را سے مبینہ رابطوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا اس کے لئے بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں ہی موردالزام ٹھہریں گی اور یوں اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ چھوٹے سے وقتی سیاسی مفاد کی خاطر ملک کے وسیع تر مفاد کو قربان کردیا گیا۔
اسی طرح فوج کا ادارہ بھی اپنی ذمہ داری سے پہلوہی نہیں کرسکتا۔ عام تاثر یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں آئی ایس آئی نے ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد سندھ کے شہری علاقوں میں پاکستان پیپلزپارٹی کا سحر ختم کرنا اور مہاجر کا لفظ استعمال کر کے ایک تیسری سیاسی قوت کو سامنے لاتا تھا کیونکہ جماعت اسلامی اپنا اثر ور سوخ کھو رہی تھی۔
فوج کی حمایت سے متحدہ جہاں مالی اعتبار سے مضبوط ہوئی وہیں اسکی گن پاور میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین کے لئے ایک خوف کی علامت بن گئی بے نظیر کے دور حکومت میں متحدہ کی قوت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی اور جنرل نصیر اللہ بابر کی نگرانی میں کراچی میں پہلا فوجی آپریشن کیا گیا جس کی تلخ یادیں آج بھی تازہ ہیں۔
اس آپریشن سے پہلے ایم کیو ایم کے ٹارچر سیلز اور جناح پور کے نقشے منظر عام پر آئے جس کے بعد اس کے راسے تعلق کی باتیں تواتر سے ہونے لگی، یہ ہے وہ پس منظر جس کے ذریعے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ بھارتی خفیہ ادارے سے متحدہ کی قربت ایک کھلا راز تھا۔ حال ہی میں بی بی سی کی ڈاکو منٹری سے جو بات شروع ہوئی تھی وہ اب متحدہ کی اعلیٰ قیادت کے دو ارکان کے اقبالی بیانات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
جس نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ان بیانات میں جہاں بھارت سے متحدہ کو رقوم کی فراہمی کا ذکر ہے وہیں اسکے ارکان کی بھارت میں تربیت کی بات بھی کی گئی ہے ابتداء میں خاموشی اختیار کرنے کے بعد اب الطاف حسین نے قسم کھا کر را سے تعلق کی تروید کردی ہے تاہم برطانوی پویس کو ریکارڈ کرائے گئے بیانات سے انحراف ممکن نہیں اور اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے کافی محنت اور طویل مدت، درکار ہوگی دوسری طرف سکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیشی ٹیم کی پاکستان میں موجودگی نے متحدہ کے لئے صورت حال کو اور بھی گھمبیر بنا دیا ہے کیونکہ وہ دونوں افراد جو کئی مہینوں سے سکیورٹی اداروں کی تحویل میں تھے ان تک برطانوی پولیس اہلکاروں کو رسائی دے دی گئی ہے جو ان کے بیانات ریکارڈ کر کے انہیں عمران فاورق قتل کیس کا حصہ بنائیں گے اور اس طرح یہ مقدمہ اپنی تکمیل تک پہنچ پائے گا۔
اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کیس بھی الطاف حسین کے لئے مسلسل ایک لٹکتی تلوار ہے اور دونوں مقدمات میں کوئی بھی فیصلہ ایم کیو ایم کے قائد کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ الطاف کے مستقبل پر سوالیہ نشان کے باعث پارٹی میں پاور سٹرگل کا آغاز ہو چکا ہے اور کون ان کا جانشین بنے گا اس پر بحث جاری ہے۔ خیال یہ ہے کہ متحدہ کے اندر کئی مضبوط دھڑے ہیں جو کسی منفی صورت حال کے پیش نظر پارٹی کی قیادت پر قبضہ کرنے کے لئے بر سر پیکار ہو جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ الطاف حسین جو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کرتے نظر آتے تھے اب مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت قیادت سے علیحدہ نہیں ہونگے اور اگر زبردستی انہیں ہٹایا گیا تو گلی گلی کوچے کوچے میں جنگ ہوگی۔ الطاف حسین کو اس خوشی فہمی سے فی الغور باہر نکل آنا چاہئے کیونکہ گلی کوچوں میں جنگ تو شاید ہو لیکن وہ ان کی خاطر نہیں ہوگی۔
بلکہ مختلف دھڑے اپنے حصول قیادت کے لئے لڑیں گے۔ متحدہ میں ایک گروپ ایسا بھی ہے جو جنرل پرویز مشرف کو رہنما تسلیم کرنے پر آمادہ ہے اور اسکو الطاف حسین کی آشیر باد بھی حاصل ہوگی۔ پرویز مشرف کو متحدہ کے رینگ اینڈ فائل میں پذیرائی اس لئے ملی کہ ان کے دور میں نہ صرف 5 ہزار کے لگ بھگ کارکنان کے خلاف مقدمات این آر او کے ذریعے ختم ہوئے، متحدہ مالی طور پر مضبوط ہوئی اور اسے سرکاری تحفظ بھی مل گیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی کراچی آمد پر جو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا اس پر جنرل مشرف نے ایک عوامی جلسہ میں کہا” تم نے میری قوت کا مظاہرہ دیکھ لیا“۔
کراچی میں اس وقت رینجرز کی زیر نگرانی آپریشن جاری ہے اس پر متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایم کیو ایم کے خلاف ہے۔ یہ آپریشن آل پارٹیز کانفرنس کے اتفاق رائے کے فیصلے کے تحت شروع کیا گیا تھا اور چوہدری نثار علی نے اس کا اعلان کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کو ضعف پہنچ سکتا ہے لیکن قومی مفاد میں اسے برداشت کرنا ہوگا۔
لیکن متحدہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور وہ ہر روز اپنے کارکنوں کی گرفتاریوں اور دوران تفتیش ان پر تشدد کے واقعات سے پریشان ہے۔ اب صورتحال اور بھی ابتر ہو گئی ہے کیونکہ اب ایف آئی اے اور رینجرز نے سرکاری دفاتر میں گھس کر ریکارڈ قبضے میں کرنا اور افسران کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے جو یقینا پارٹی قیادت کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔
ایم کیو ایم کی قیات کی طرف سے میڈیا ٹرائل کا رونا رونے کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ چینلز نے قائد تحریک کی تقاریر کو برائے راست دکھانا بند کردیا ہے اور اب اس بنیاد پر کیبلز آپریٹر چینلز دکھانا بند نہیں کر رہے۔ کل تک الطاف حسین کے ایک اشارے پر کراچی، حیدر آباد اور سکھر میں پہیہ جام ہو جاتا تھا۔ شاید اس حوالے سے بھی حالات اتنے سازگار نہیں رہے۔
ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی ہے اسے یک جنبش قلم دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم متحدہ کی قیادت پر بھی یہ فرض ہے کہ وہ ایسے تمام عناصر سے قطح تعلق کرے جو مجرمانہ پس منظر کے حامل ہیں۔ انکے پکڑے جانے کے بعد ان سے لاتعلق ہونا قطعاً بے اثر ہے۔ رابطہ کمیٹی کو مزید موثر بناکر اس کے ذریعے سیکٹر لیول پر پارٹی کی تنظیم نو کا عمل جاری کیا جانا چاہئے۔
وہ سیاسی حلقے جو جلد ایم کیو ایم کا خاتمہ چاہتے ہیں انہیں ابھی انتظار کرنا ہوگا کیونکہ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ کیا ایم آئی 6 کو الطاف کی ضرورت ہے جس کے بغیر پاکستان میں انکا کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔ برطانیہ کو الطاف اور متحدہ کی کس ضمن میں ضرورت ہے اس کا آ ئندہ کسی کالم میں ذکر ہوگا۔

تاریخ اشاعت: 2015-07-03

(1) ووٹ وصول ہوئے