تازہ ترین : 1
Air Marshal Asghar Khan Aik Nakam Siasat Dan

ائیر مارشل اصغر خان،،،،،ایک ناکام سیاستدان!!

روایتی اصول میں وہ اصول پسندی کی شمع روشن کرنے کی بے ثمر کوشش کرتے رہے،۔۔۔ 70 ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی میں پہنچ جاتے تو ملک کی تاریخ مختلف ہوتی،۔۔۔۔۔۔۔ وہ جنوری میں پیدا ہوئے اور جنوری میں ہی اس دنیا سے نیک نام واپس گئے،

اسرار بخاری:
موت سے کس کو رستگاری ہے جو اس دنیا میں آیا ہے اسے واپس ان دیکھی دنیا میں جانا ہے جسے انسان سمجھا جاتا ہے وہ تو دراصل ہڈیوں اور گوشت پوست سے بنا ڈھانچہ ہے ایک خاص معینہ وقت پر جب انسان اس ڈھانچے سے نکل کر ابدی سفر پر روانہ ہوتا ہے توا س ڈھانچے کو منوں مٹی تلے دبادیا جاتا ہے کچھ نذر آتش کردیتے ہیں کچھ چیل کوؤں اور گدھوں کی خوراک بنا دیتے ہیں انسان اس ڈھانچے میں مقید رہ کر جو اعمال و افعال انجام دیتا ہے وہ ہی اس کے آخرت میں یا قبر میں دائمی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں اور یہی اعمال و افعال اس سے اچھی بری یادوں کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں ،ائیر مارشل اصغر خان کی صورت میں جو ایک انسان 96 برس جسمانی ڈھانچے میں قید رہا وقت آنے پر اپنی اصل منزل کی جانب روانہ ہوگیا،بطور اخبار نویس میری ان سے بہت ملاقاتیں رہیں جو کبھی ذاتی تعلق میں نہیں ڈھلیں ہاں میرے کئی عشروں سے دوست رحمت خان وردگ کا ان سے بہت گہرا تعلق رہا رحمت خان وردگ نے ان کے ساتھ سیاسی سفر کا آغاز کیا آج بھی وہ تحریک استقلال کا پرچم تھامے ائیر مارشل اصغر خان کی یاد زندہ رکھے ہوئے ہیں انگریزی کا ایک لفظ ہے ”مس فٹ“ اس کا اردو میں تشریحی معنی یہ ہو سکتا ہے کہ ایسا شخص جو معاشرے میں روایات کی صورت اختیار کرجانے والی قباحتوں اور مصلحتوں سے سمجھوتہ نہ کر سکے میرے نزدیک وہ مس فٹ ہی تھے کہ روایتی سیاست سے سمجھوتہ کرکے مسند اقتدار تک نہ پہنچ سکے حالانکہ 1979 ء کے انتخابات میں اصغر خان کو آئندہ وزیر اعظم سمجھا جارہا تھا اور ان کی پارٹی کے رہنما اقتدار سنبھالنے کی تیاری کررہے تھے جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نواب اکبر بگٹی خورشید محمود قصوری،مخدوم جاوید ہاشمی، مشیر احمد پیش امام،اعتزاز احسن،مہناز رفیع اور دیگر شامل تھے۔
ائیر مارشل اصغر خان کو کشمیری سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کی پیدائش جموں میں ہوئی لیکن درحقیقت وہ قبائلی تھے ان کے والد بریگیڈیز رحمت اللہ خان کا تعلق شمالی وزیر ستان کی وادی تیراہ سے تھا ان کی تاریخ پیدائش 17 جنوری 1921 ہے اور اپنی پیدائش کی تاریخ سے 16 روز قبل جنوری کی ہی 5 تاریخ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے رائل ملٹری کالج ڈیرہ دون سے 1940 میں گریجوایشن کے بعد نوین رائل دکن ہارس میں کمیشنڈ آفیسر مقرر ہوئے 1941 میں انڈین ائیر فورس میں چلے گئے 1947 میں پاکستان ائیر فورس میں پہلے کمانڈنٹ مقرر ہوئے پاک فضائیہ کی تعمیر و ترقی میں ان کی بنیادی اور تاریخ کردار رہا۔
صدر جنرل ایوب خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے دوران وہ سیاست میں آئے تب ذوالفقار علی بھٹو زیر حراست تھے اصغر خان نے اگرچہ سیاست میں بڑا عروج حاصل کیا عوامی مقبولیت بھی ان کا مقدر بنی لیکن میری ذاتی رائے میں ان کی سیاست کی الٹی گنتی کا آغاز میں ہی اس لمحے شروع ہوگئی تھی جب انہوں نے پیشاور میں بیان دیا میں بھٹو کو بچانے آیا ہوں کیونکہ اس سے یہ سمجھا گیا کہ اصل لیڈر بھٹو ہے اور اس بیان کا بھٹو کو بہت سیاسی فائدہ ہوا ان کی سیاست کو دوسرا دھچکا 1970 کے انتخابات میں شکست کے باعث لگا انہوں نے راولپنڈی سے قومی اسمبلی کا انتخابات لڑا۔
پیپلز پارٹی کے خورشید حسن میر اور جماعت اسلامی کے مولانا فتح محمد ان کے مدمقابل امیدوار تھے تحریک استقلال اور دیگر بھٹو مخالف لیڈروں نے بہت کوشش کی اور جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت سے رابطے کئے گئے کہ مولانا فتح محمد کو ائیر مارشل کے حق میں دستبردار کرادیں کیونکہ مولانا نے جیتنا تو ہے نہیں ان کی شکست میں حصہ دار ضرور بن جائیں گے لیکن جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت اس یقین سے سرشار تھی کہ مولانا فتح محمد ان کے ایسے امیدوار ہیں جو ائر مارشل اصغر خان اور خورشید حسن میر دونوں کی ضمانتیں ضبط کرادی گے مجھے بطور اخباری رپورٹر مولانا مفتی محمود مولانا شاہ احمد نورانی نوابزادہ نصر اللہ خان عبدالولی خان،سردار شوکت حیات اور دیگر لیڈروں کی گفتگو سننے کا موقع ملا ایک عمومی تاثر تھا کہ اگر جماعت اسلامی تعاون کرتی اور ائیر مارشل اصغر خان قومی اسمبلی میں پہنچ جاتے تو تاریخ بہت مختلف ہوتی اور شاید جنرل یحییٰ خان کو ڈھاکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کرنے کی جرات نہ ہوتی جس سے سقوط ڈھاکہ کی بیرونی سازش کی کامیابی میں لاشعوری طور پر ہی سہی اہم کردار ادا کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک کا آغاز 1977 میں ائیر مارشل اصغر خان نے بنیلا گنبد لاہور سے جلوس کی قیادت کرتے کیا بھٹو کی قائم کردہ فیڈرل سکیورٹی فورس اور لاہور پولیس بڑی تعداد میں حصہ بنائے کھڑی تھی وہ قرآن پاک کے گلے میں حائل کئے اس احصار کو توڑتے ہوئے آگے بڑھے جس سے شرکاء جلوس میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ وہ اس احصار کو روند کر اسمبلی ہال کی جانب سے روانہ ہوگئے اسی جوش و خروش سے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء تک یہ تحریک جاری رہی۔
برطانوی ائیر فورس میں شمولیت کے دوران حکم ملا کہ سندھ علاقے میں باغیوں کا لشکر جارہا ہے بمباری کرکے اسے تباہ کردیا جائے وہ جنگی طیارہ لے کر آڑے اورمقررہ مقام پر جاکر دیکھا کہ پیر پگاڑہ کے مریدین حروں کا قافلہ تھا جس میں عورتیں اور بچے شامل تھے چنانچہ کورٹ مارشل کی پرواہ کئے بغیر وہ واپس آگئے اگرچہ اس سلسلے میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑا جنرل ایوب خان سے اختلافات کے باعث 1965 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ان کی جگہ ائیر مارشل نور خان نے لی جن کی سربراہی میں 65 کی پاکستان بھارت جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا راولپنڈی کے کالج روڈ پر انتخابی کارنر میٹنگ میں جس میں پٹھان بھی کا فی تعداد میں موجود تھے ایک صاحب نے پیشکن کی وہ ان کے خطاب کا پشتو میں ترجمہ کردے جس پر ائیر مارشل اصغر خان نے واقعہ سنایا کہ کہ1948 میں کشمیر پر مجاہدین کی یلغار کے دوران ایک موقع پر انہیں ہیلی کاپٹر کمشری کے علاقے میں اتارنا پڑا بہت سے کشمیری مجاہدین ان کے گرد جمع ہوگئے ایک صاحب جوان کے کمانڈر بنے ہوئے تھے انہوں نے اصغر خان سے کہا جناب یہ لوگ بات نہیں مانتے آپ انہیں نصیحت کریں جس پر انہوں نے چند لفظوں میں انہیں ڈسپلن کی اہمیت سے آگاہ کیا جس پر کمانڈر صاحب نے کہا جناب یہ کشمیری جانتے ہیں اس لئے میں آپ کی باتوں کا ترجمہ کردیتا ہوں ائر مارشل نے کہا ٹھیک ہے پھر انہوں نے کہا میں نے چند الفاظ کہے تھے مگر کمانڈر صاحب نے کئی منٹ ترجمہ کیا بعدازاں ان میں سے ایک نے جو اردو جانتا تھا بتایا کہ جناب آپ نے ڈسپلن کی بات کی ہے مگر اس کمانڈر نے کہا کہ یہ اصغر خان پاکستان ائیر فورس کا سربراہ ہے اور اس نے کہا کہ تم میں سے جو میری بات نہیں مانے گا یہ اس جہاز ہیلی کاپٹر سے بمباری کرکے اسے مار دے گا پھر انہوں ن ے پشتو ترجمہ کرنے کی پیشکش کرنے والے سے کہا بھائی آپ پشتو ترجمہ ضرور مگر اس کشمیری کی کمانڈر جیسا ترجمہ نہ کرنا جس پر قہقہے بلند ہوئے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ان کے جنازے کو سرکاری اعزاز دینے کی منظوری دی جو پاک فضائیہ کے لیے شاندار خدمات کا اعتراف ہے جناب شاہد خاقان عباسی کا پاک فضائیہ سے خصوصی جذباتی تعلق یو ں ہے کہان کے والد جناب خاقان عباسی پاک فضائیہ میں ائرکموڈور تھے راولپنڈی اوجڑئی کیمپ میں آتشزدگی کے دوران اسلحہ کو آگ لگنے سے جو میزائل کیمپ کے باہر سڑکوں پر آکر گرے وہ ان کی زد میں آکر شہید ہوگئے تھے وہ گھر میں موجود تھے صورتحال دیکھنے باہر آئے تو موت کے فرشتے نے دبوچ لیا بہر حال ائر مارشل اصغر خان کے انتقال سے بلاشبہ اصول دیانت شرافت اور شائستہ سیاست کا عہد تمام ہوا وہ دنیا سے نیک نام واپس گئے اگرچہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کی روش کے باعث روائتی سیاست میں وہ ناکام سمجھے جائیں گے۔

وقت اشاعت : 2018-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں