تازہ ترین : 1
Agla Nishana Pakistan

اگلا نشانہ پاکستان؟

ایران میں رنگین انقلاب کی امریکی سازش ناکام۔۔۔۔۔۔۔ شام اور افغانستان میں شکست کا بدلہ ایران و پاکستان سے لینے کی حکمت عملی!

امتیاز الحق:
پاکستان سے لیکر افغانستان اور لبنان سے لیکر عراق‘شام‘لبنان‘یمن‘سعودی عرب اور ایران سے لیکر سنکیانگ‘روس‘افریقہ‘مشرقی وسطیٰ تک سب سرحد ی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں سرحدوں اور اندرون سرحدات طوائف الملو کی کا ایک وسیع تر منظر ہیں مصر‘سوڈان لیبیا افریقی ممالک ہوں جو بین الاقوامی سرحد بندیوں سے آزاد ہوچکے ہیں ان ملکوں میں عمومی و خصوصی طور پر ہر قسم کا اسلحہ بارود سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت جاری و ساری ہے وہاں سپر پاور اس کے جنگجو موجود ہیں خانہ جنگی کے علاوہ پر تشدد رجحانات اور دندناتے لڑاکوں اور گوریلوں کے گروہ ور گروہ ان خطوں کو جنگ کے شعلوں تشدد دہشت گردی اور عسکریت پسندی میں جکڑ لیتا ہے ان علاقوں میں کرائے کی افواج خفیہ ایجنٹوں میں اضافہ محض تاریخی اتفاق نہیں ہے بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔
غریب علاقوں میں بے روز گاروں مایوس نوجوانوں کو زیادہ اجرت کی جھلک دکھا کر ایک عالمی اجرتی فوج تیار کی گئی ہے ان کرائے کے اجرتی لڑاکوں کو افغانستان افریقہ‘مشرقی وسطیٰ(عراق و شام) میں حکومتوں کو اکھاڑنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے سوڈان اور لیبیا میں بیرونی مداخلت کے ذریعے سیاسی افراتفری پیدا کی گئی کثیر الملکی کمپنیاں بعض علاقائی قوتوں کے ساتھ ساز باز کرکے مشرقی وسطیٰ اور افریقی ممالک کا تیل اور دیگر وسائل کی لوٹ مار کررہی ہے امریکی و عالمی اشرافیہ شام میں شکست کے بعد مشرقی و سطیٰ میں نئی جنگ کا آغاز اب ایران سے شروع کررہی ہے عراق شام افغانستان میں جنگ کا تجربہ ایران اور پاکستان میں مختلف انداز سے شروع کیا جارہا ہے ،امریکہ کی خارجہ پالیسی سفارت کاروں تھک ٹینک انسانی ضابطوں کی پاسداری رکھنے والوں کی بجائے پیشہ ور جنگجوؤں کے ہاتھ چلی گئی ہے امریکہ ایک عالمی طاقت کی حیثیت میں عالمی قوانین پر عملدرامد کرانے دنیا کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگیا ہے افغانستان میں امن قائم کرنے کی بجائے پاکستان کے خلاف کسی بھی وقت بھی کوئی بھی منفی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے افغانستان اور عراق و شام میں امریکی جنگیں امریکی جنگجو اشرافیہ کے لیے تربیتی مراکز ثابت ہوئی ہیں ان جنگجوں میں لاکھوں جنگجوؤں کو گوریلا طریق جنگ اور بڑے اسلحہ کا استعمال سکھایا گیا ہے ان گوریلوں نے ریاستوں حکومتوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کو توڑ دیا ہے اور اقتدارِاعلیٰ کو خطرہ میں ڈالا ہے پُر اسرا ر اور طاقتور کھلاڑی ان علاقوں میں نامعلوم جگہوں سے حملہ آورہوئے مختلف تشدد پسند گروپوں کے منظم کرکے ہنگاموں کے لیے تیار کیا اور طویل جنگی منصوبہ بندی کرکے حکومتوں کے خلاف صف آرائی کرائی جارہی ہے منصوبے کو منظم کرنے والے اسی زمین کے باشندے ظاہر کیے گئے ہیں اور وہ وجودی طور پر موجود ہے لیکن یہ باشندے کون ہیں۔
کون تھے؟کچھ معلوم نہیں البتہ ان میں سے نقاب پوش جو داعش کے نام سے متعارف کرائے گئے نقاب پوش ہی رہے ہیں جنہوں نے دو درجنوں حکومتوں کو تباہ کرنے میں کسر نہیں چھوڑی ہے یہ عسکری نقاب پوش جنگی کیمو فلاج کا انوکھا شاہکار ہیں کیونکہ جنگی کمان کرنے والے پردے کے پیچھے سے انہیں احکامات جاری کرتے ہیں مبصرین تجزیہ نگاروں اور محققین نے ان نقاب پوشوں کو کارپوریٹ چور کا نام دیا ہے جو مشرقی وسطیٰ اور افریقہ تیل چوری کرنے کے لیے ریاستی عملدرامد ختم کرنا چاہتے ہیں ان عسکری چوروں کو منظم کرکے ان کی سرپرستی کی جارہی ہے سرمایہ اور افرادی قوت اور ہر قسم کے حربوں کئے لیے تیار کیا گیا ہے پورے خطے میں ایک خوفناک اور ڈراؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔
2010 میں افریقہ و مشرقی وسطیٰ میں بظاہر بے سمت اور بے قیادت بغاوتیں ہوئیں تاہم ان کے آپس پر وہ کوئی نہ کوئی خفیہ ملاقات ضرور موجود تھی جو اس سارے کھیل کی تاریں بلارہی تھی اگرچہ بظاہر ان بغاوتوں کے پیچھے بیروزگاری غربت افلاس قدیم آمریتوں کے خلاف نفرت غصہ کرپشن سماج میں جہموری اقدار کا فقدان ان جیسے جذبات کا ر فرماتھے لیکن یہ عوامل تو پہلے ہی موجود تھے اور موجود بھی رہتے ہیں کئی ممالک میں اب بھی صورتحال سنگین ہے لیکن اب تک دنیا اس بات سے بے خبر ہے کہ یہ آگ کس نے جلائی مسلح لڑائیوں کے کمانڈر کون تھے یا کون ہیں لڑاکوں کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟عرب ممالک میں اور آبادیوں تاریخی طور پر سیکولر جہموری مذہبی کیمپوں میں تقسیم رہے ہیں لیکن مضبوط حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے سیکولر جہموری و مذہبی گروہ اچانک اکٹھے ہوگئے تازہ ترین مثال ایران کی دی جاسکتی ہے جہاں مہنگائی بے روز گاری کے خلاف سپریم کمانڈر آیت اللہ شریعتی نے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت کی حجاب سے پابندی اٹھائی گئی تاہم عوام کی ایک تعداد نے احتجاجی مظاہرے کئے جن کا مطالبہ یہی تھا کہ بیروزگاری مہنگائی ختم کی جائے تاہم مظاہروں میں مذکورہ مطالبہ سے بڑھ کر یہ نعرہ دیا گیا کہ حالات کی خرابی کی وجہ فلسطین کی حماقت لبنان کی مدد اور شام میں دہشت گردی کے خلاف شام و روس کے ساتھ تعاون سے ہاتھ اٹھایا جائے جو ایران کے اندرونی حالات کی خرابی کی وجہ ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی کثیر تعداد کا مطالبہ و مظاہر اقتصادی حالت بہتر بنانے کی حد تک درست اور جائز ہے لیکن اچانک ان مظاہروں میں ریاست اور قیادت کے خلاف نعرے بازی اور پُرامن مظاہروں میں تشدد سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا ایسے نعروں کا عوامی مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں بعد ازاں انقلاب کی بات کرنا چائے کہ پیالی میں طوفان کس نے مچایا؟منظم حکمت عملی کے تحت خفیہ ہاتھوں ایجنٹوں نے حکومتوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ خطرے کی گھنٹی بجادی کہ ایران ہی نہیں پاکستان ترکی سنکیانگ اور روس کے کئی حصوں میں یہی کچھ ہونے والا ہے روس میں موجود صدر پیوٹن کی انتخابی مہم بعدازاں انتخابات کے بعد ایک منصوبی بحران پیدا کرنے کی کوشش کے ساتھ یوکرائن کی سرحد لٹویالا تو یاپری ریاستوں کے ذریعے روس میں کچھ نہ کچھ ہوگا یا کئی انوکھے واقعات رونما کئے جائیں گے ایران کسی بڑے منصوبے کی ریہرسل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ایران ہی کی طرح افغانستان پاکستان عراق و شام کے علاوہ کردستانی علاقوں میں دیگر”خفیہ عناصر“ کو متحرک کرکے خطہ کے ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جائیگا ایسی کاروائیوں میں مقامی اور غیر ملکی عناصر کی مشترکہ ملی بھگت اور ساز باز کرکے خانہ جنگی کرائی جائیگی نداے ملت کی گزشتہ تحریروں میں قارئن کو اگاہ کیا گیا تھا کہ غالب امکان ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ایسے ہی کسی گروہ کی جانب کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ایسے ہی کسی گروہ کی جانب سے ایران پر حملہ کرایا جائے اور علاقے کے سیاسی منظر نامہ کو تبدیل کردیا جائے کھیل واضح ہے کہ خطے کے تیل و گیس کے ذخائز پر کنٹرول اور روس و چین کا علاقے میں اثرو رسوخ کم کیا جائے علاقائی ریاستوں کے بڑھے تعلقات میں رکاوٹ پیدا کی اور انہیں مقامی بحران کشیدگی اور افراتفری میں الجھادیا جائے عالمی سازش جرائم پیشہ گروہ کرائے کی افواج اورخفیہ ایجنسیوں کے خطے کی حکومتوں کو غیر مستحکم کرکے انہیں زیر وزبر کای جاسکتا ہے جو ان خطوں کے سیاسی توازن کو درہم برہم کرکے رکھ دے گی،پاکستان کی سرحد پر افغان علاقہ میں داعش کی جانب سے کئی ایک لڑاکوں کو دکھایا گیا تاہم ظاہر کیا گیا ہے کہ داعش پاکستان کے اندر ہے اس تصویر کا واضح یہ ہے کہ آئندہ پاکستان میں ہونے والی پردہ خفیہ کاروائیاں داعش کے نام سے کرائی جائیں گی علاوہ ازیں اندرون ملک ایسے عناصر کی جانب سے کاروائیاں کرائی جائیں گی جنہیں عسکری و حکومت مخالف ظاہر کیا جائے گا ایران میں اقتصادی اصلاح کے نعرے کو حکومت کی تبدیلی میں بدلنے کی کوشش کی گئی سیاسی قیدیوں کی رہائی صدر حسن روحانی اور آیت اللہ خامنائی کے استعفیٰ کی جانب مظاہرین کا رخ موڑنے کی کوشش کی گئی بیروزگاری عدم ادائیگی تنخواہوں میں اضافہ کے نعروں کو انقلاب میں بدلنے اور بغاوت کی جانب رخ موڑنے کی کوشش کی گئی صدر ٹرمپ نے سیاسی اخلاقی پہلوؤں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوری طور پر مظاہرین کی حمایت شروع کردی بلکہ ایران اور سرمایہ کی فراہمی کے علاوہ افراد کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ایران میں احتجاج سے مغربی ممالک میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی سوشل میڈیا پر ایران کیخلاف احتجاج کو اہمیت دی گئی لیکن اسی سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو سینسر کیا گیا جس میں امریکی اشرافیہ جنگجوؤں اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا جاتا ہے ایران کی 10 فیصد دیگر اندازوں کے مطابق 12 فیصد بیروز گاری کا چرچا کیا جاتا ہے لیکن ہمسایہ ملک میں 10 ملین بیروزگاروں نے اپنے روزگار کے لیے مطالبات رکھے ہوئے ہیں لیکن ان ملکوں میں ایران کی طرح سڑکوں پر آکر مظاہرہ کرنے کی آزادی نہیں ہے اگر شاذونادر مظاہرہ ہو بھی جائے تو عوام پرفائرنگ کردی جاتی ہے 2009 کے احتجاج میں ایرانی پولیس کو بھی سب سے زیادہ نقصان ہو اتھا ایران میں بدامنی میں بیرونی عناصر کا ہاتھ ہے امریکہ اسرائیل معاہدہ کسی سے ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے جس میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر خفیہ معاہدہ کیا ہے جس ملک کی حکومت اسرائیل مخالف ہو اس ملک کو اندرونی وسائل کا شمار بنادیا جائے جیسا کہ عراق شام ،لیبیا اور یمن ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں ایران میں امریکی اسرائیلی منصوبہ ناکام ہوگیا ہے اس منصوبے میں ایران مکں عرب بہار ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور اسے ایرانی بہار کا نام دیا گیا کہا گیا کہ ایران میں انقلاب آرہا ہے سپین کی ایک وڈیو جو سپین کے شہر کٹونیا میں مظاہرے کے دوران کی تھی ایرانی پولیس کے طور پر پیش کی گئی جس مین ہسپانوی زبان اور آوازیں واضح آرہی تھیں 2011 میں بحرین میں جہموریت کی خاطر ملین مارچ کی وڈیو ایرانی مطاہرین کا مارچ بنا کر پیش کی گ ئی سوشل میڈیا مہم عراقی کردستان کے اربیل شہر کے آپریشن روم میں بیٹھے امریکی اسرائیلی ایک عرب ملک کے تھنک ٹینک نے کوشش کی کہ ایران میں لیبیا جیسی صورتحال پیدا کردی جائے لیکن ناکام کوشش ہونے پر جعلی وڈیوز دکھائی گئیں مگر ذرائع ابلاغ او ر ٹیوٹرہنڈلز نے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑدیا یو ٹیوب پر بحرین ملین مارچ کی وڈیو موجود ہے اس وڈیو کو بھی چھپایا گیا تھا لیکن جلدی میں یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ بحرین کی یہ پوشیدہ وڈیو بھی منظر عام پر آگئی اور دنیا کو بحرین بارے بھی معلوم ہوگیا جسے دبایا گیا تھا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں داعش کی جاری تصویر جاری کرائی گئی ہے اور آئندہ ہدف پاکستان روس ترکی چین ہونگے ،پاکستان کے عوام عسکری قیادت اور سیاسی قیادت کوتیار رہنا ہوگا کہ آنے والے حالات کا کسی طور پر آنکھیں بند کرکے نہیں کھول کر مقابلہ کرتا ہے اور حالات اس حدتک چلیں جائیں کہ آئندہ الیکشن میں ملک کے اندرونی نہیں بیرونی حالات چیلنجز بارے موضوع زیر بحث ہوگا کیا ہم اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں یا پھر ایران کی مانند پاکستان میں رنگین انقلاب کی سازش کا راستہ ہموار ہوگا ایران نے تو اسے ناکام بنادیا باقی پاکستان کے لیے اللہ بہتر جا نتا ہے۔

وقت اشاعت : 2018-01-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں