تازہ ترین : 1
Afghan Qiyadat Ka Baharat Ki Taraf Jhukao

افغان قیادت کابھارت کی طرف جھکاوٴ

افغان باشندے ایک طویل عرصے سے پاکستان میں رہائش پذیر ہیں وہ اپنے وطن میں مشکل حالات کا شکار ہو کر پاکستان آئے تھے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دے کر بے مثال کردارادا کیا ہے۔لیکن افغان مہاجرین پاکستان کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ انہی کے ذریعے ہو رہی ہے۔بھارت افغانستان میں پاکستانی مفادات کے خلاف سرگرم ہو چکا ہے

افغان باشندے ایک طویل عرصے سے پاکستان میں رہائش پذیر ہیں وہ اپنے وطن میں مشکل حالات کا شکار ہو کر پاکستان آئے تھے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دے کر بے مثال کردارادا کیا ہے۔لیکن افغان مہاجرین پاکستان کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ انہی کے ذریعے ہو رہی ہے۔بھارت افغانستان میں پاکستانی مفادات کے خلاف سرگرم ہو چکا ہے۔
افغان پناہ گزین وطن عزیز میں مختلف تخریب کاری کی وارداتوں میں پکڑے جا چکے ہیں۔جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی (را)کے ایجنٹ ہیں۔اسی کے پیش نظر نیشنل ایکشن پلان میں اہم شق غیر ملکی باشندوں کے انخلاء کے بارے میں بھی شامل کی گئی تھی ، جس کی وجہ یہ تھی کہ ان غیر ملکیوں میں دشمن قوتوں کے ایجنٹ بھی شامل ہیں ۔ وطن عزیز میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں افغان باشندے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت مل چکے ہیں،ملک میں لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی جن میں دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر بھی شامل ہیں۔
مہاجر ین کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن کلچر متعارف ہوا۔یہ امر حقیقی ہے کہ پاکستان میں منشیات افغانستان کی سرحدسے آتی ہیں ۔ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین گزشتہ تیس برسوں سے مہاجرین کیمپوں میں رہائش پذیر ہونے کے بجائے عام آبادی میں رہ رہے ہیں اور آزادنہ طور پر کاروبار زندگی کے معاملات میں مگن ہیں۔
اس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں اور وہ بار بار مردم شماری سے بائیکاٹ کا کہتی رہتی ہیں۔پاکستان طالبان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہا ہے۔ پاکستان کے لئے اچھا اور برا طالبان نہیں۔لیکن افغانی حکومت نے پاکستانی مزدوروں کے نکالنے کا سلسلہ شروع کیا اور پاکستان مخالف بھارت سے دوستی پر مبنی تعلقات بنائے، پاکستان سے تعلقات بارے ہاتھ کھینچ لیا۔
افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کی پاکستان نے ہمیشہ بھرپورانداز میں کھل کر مذمت کی ہے۔ رواں سال کے وسطی میں کابل میں ایک دہشت گردانہ بڑے واقعہ کی بھی پاکستان نے مذمت کی تھی۔ تاہم باوجود اس کے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اپنا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کیا اور پاکستان کے خلاف بیان بھی دیا تھا۔ ادھرحالیہ” ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس“ میں بھی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے مودی اور بھارتی رہنماوٴں کی پسندیدہ باتیں کیں۔
حالانکہ پہلے پہل افغانستان لاکھوں ٹن گندم اور آٹا پاکستان سے خریدتا اس نے پھر یہ چیزیں انڈیا سے لینا شروع کر دیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کا کوئی قصور نہیں افغان قیادت نے پاکستان بارے پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور تیز ی کے ساتھ بھارت نواز جھکاوٴ پر مبنی اقدامات اور پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں۔پاکستان کو افغانستان کے مفادات کے تحفظ اور اس کی مدد کے عیوض صرف الزام تراشیاں ہی ملی ہیں۔
پاکستان ہمیشہ افغانستا ن بارے نرم گوشہ رکھتاآیا ہے افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی فری سہولت میسر ہے۔ جس کی بناء پر افغان تاجر غیر ملکی اشیاء سرحد سے ہی واپس پاکستانی علاقوں میں بھیجوا کر اسمگلنگ کو فروغ دیتے ہیں جس سے ملکی خزانے کوماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ باوجود اس کے افغانستان بھارت نواز مبنی پالیسیوں پر اتر آیا ہے ۔
افغان قیادت بھارتی حکمرانوں کے جال میں پھنس کر پاکستان دشمنی پر اتر آئی ہے۔بھارت افغانستان کو سرمایہ کاری اور مختلف منصوبوں کا جھانسہ دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ان حالات وواقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب افغان مہاجرین کی واپسی ناگزیر ہو چکی ہے افغان مہاجرین کو جلد یا بدیر پاکستان سے واپس اپنے وطن جانا پڑے گا جتنی جلدی جائیں گے اتنی تیزی سے پورے خطے میں امن وامان کی صورتحال بہتری ہوگی۔لہٰذا ان کی واپسی کے لئے اقوام متحدہ کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں پاکستان کی بڑی معیشت افغان مہاجرین پر خرچ ہو رہی ہے۔ان کی وجہ سے ملکی معیشت پر بڑا بوجھ پڑا ہے۔ ان کی واپسی کے بعد یہ رقم پاکستانیوں کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو گی۔
وقت اشاعت : 2017-01-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں