بند کریں
جمعہ مارچ

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چھ ستمبر تجدید عہد کے مثالی جذبے
یقیناپاکستان کے لئے حالات مشکل تو ہیں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ لیکن الحمد اللہ حکومت اور فوج مل کر دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے درپے ہے
محمد ریاض اختر:
چھ ستمبر یوم پاکستان جذبے پوری طرح جوا ں ‘ کیا چھوٹا‘ کیابڑا ‘ ہر کوئی اپنے دیس پر جانثار ہونے کو ہمہ وقت تیار ‘ یہ دیس کی برکت ہے جس سے ہم سر اٹھا کر فخر سے اور افتخار سے جی رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں‘ اس بار یوم پاکستان عجیب سے حالات میں آرہا ہے۔ وطن عزیز کو اندرون وبیرونی سطح سے کئی خطرات کا سامنا ہے پاک فوج ہر محاذ پر امن دشمن اور پاکستان دشمن عناصر سے نبردآزما ہے۔
قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اسی لیے کامیابیاں سمیٹی جارہی ہیں آج کا پاکستان ہم سے کیا تقاضا کررہا ہے؟ اس حوالہ سے ممتاز سیاسی اور عسکری راہنماؤں کی گفتگو کے منتخب حصے نذر قارئین ہیں۔
یقیناپاکستان کے لئے حالات مشکل تو ہیں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ لیکن الحمد اللہ حکومت اور فوج مل کر دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے درپے ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کے وسط ایشیائی ریاستوں سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ روس سے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ پاک افغان تعلقات خاصے بہتر ہیں۔ چین اور پاکستان کا تعاون بے مثال ہے۔ ہمارے یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دشمن کی فرسٹریشن کا سبب ہے وہ چاہتا ہے کہ پاکستان غیر مستحکم رہے لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ یوم دفاع پاکستان اس بار خوشگوار ماحول میں ہو رہا ہے۔
2016 ء کے حالات انشاء اللہ اس سے بھی بہتر ہوں گے۔ پاکستان عوامی اور عسکری لیڈرشپ کے بے مثال تعاون کے باعث مسائل و مشکلات سے بتدریج نکل رہا ہے ۔
یوم دفاع پاکستان دراصل تجدید عہد کا وہ یوم سعید ہے جس پر قوم نازاں ہے‘ عوام جانتے ہیں کہ پاکستان کی بہادر فوج نے ہر دور میں پاکستان اور قوم کی امیدوں کو جلا بخشی۔ 1965 میں پاک بھارت جنگ کے وہ سترہ دن ناقابل فراموش تھے فوج اور پاکستانی قوم نے مل کر نئی تاریخ رقم کی اور یہ ثابت کر دیا کہ قوم اپنا دفاع کرنا جانتی ہے ہماری نصرت میں اللہ کریم اور اس کے رسول عظیمﷺ کا خاص کرم و فضل شامل رہا۔
مقام شکر ہے کہ قوم آج بھی 65 کے جذبے سے بھرپور ہے فوج دفاع وطن کے محاذ پر قوم کی آرزوئیں پوری کر رہی ہے۔ ان شاء اللہ اب دشمن کبھی آنکھ اٹھا کر پاک سرزمین کی طرف نہیں دیکھ سکے گا۔یہ درست ہے کہ اس وقت پاکستان کو ایک طرف تو بیرونی خطرات کا سامنا ہے جس میں بھارت سمیت دیگر بیرونی طاقتیں پاکستان کو کمزور کرنے کی ہر ممکن سازشیں کر رہی ہیں آئے روز ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن کی خلافورزیاں ہو رہی ہیں جس میں نہ صرف ہمارے فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں بلکہ سویلین کی بے تحاشہ ہلاکتیں اور املاک کی تباہی بھی ہو رہی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نر یندری مودی اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران وہاں خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ہم نے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو توڑا اور بنگلہ دیش بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری طرف یہی پاکستان دشمن عناصر ملک کے اندر دہشت گردی کی مختلف شکلوں میں سرگرم ہیں۔مساجد، امام بارگاہیں، مزارات مقدس، سیاسی و مذہبی شخصیات سے لے کر ہر طبقہ فکر کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقصد صرف یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی، سیاسی اور ہر طرح سے کمزور کیا جائے، خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر کے ہمیں ہی ایک دوسرے کے خلاف لڑایا جائے۔ستمبر 1965 میں پاکستانی فورسز نے بھارتی جارحیت کو جس شاندار طریقے اور جوانمردی سے منہ توڑ جواب دیا تھا اگر دیکھا جائے تو اس میں پاکستانی قوم کا بھی بڑا کردار تھا ساری پاکستانی قوم بلا امتیاز رنگ و نسل و علاقائیت پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔
آج پاکستان کو اس سے بھی سنگین صورتحال کا سامنا ہے پاک فوج ضرب عضب کے ذریعے ایک طرف تو اندرون ملک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مصروف جہاد ہے تو دوسری طرف سرحدی کشیدگی کا سامنا۔وقت کا تقاضا ہے کہ اس وقت پاکستان میں جہاں علاقائیت کے نعرے لگ رہے ہیں وہاں صرف اور صرف پاکستانیت کا نعرہ لگایا جائے کیوں کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں ہمیں پہلے پاکستان کے متعلق سوچنا چاہیے، ہم پہلے پاکستانی پھر سندھی ، پنجائی ، بلوچی ، کشمیری یا جو بھی ہیں وہ ہیں۔
سیاسی جاعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپنا ایجنڈا اور منشور تو بناتی ہیں مگر آج تک کسی نے کوئی ایسا ایجنڈا یا منشور نہیں بنایا جس پر ساری قوم متفق ہو کر استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ اس چیز کو اجاگر کرنے اور پاکستان میں سیاسی ، معاشی استحکام لانے کے لیے ایسی جہد مسلسل کی ضرورت ہے جس میں ساری قوم کو متحد کر کے تمام خطرات کا مقابلہ کیا جائے۔
اسی کے پیش نظر ہم نے استحکام پاکستان تحریک کا آغاز کیا ہے اور قوم کو دہشت گردی اور بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ جدو جہد کا حصہ بنانے کے لیے پاکستان بھر میں صوبائی، ڈویڑنل اور ضلعی سطح پر استحکام پاکستان کنونشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔جس کا آغاز فیصل آباد اور پھر لاہور میں عظیم الشان استحکام پاکستان کنونشن کے انعقاد سے ہو چکا ہے اور اب ستمبر میں آزاد کشمیر میں کل پاکستان آزاد کشمیر استحکام پاکستان کنونشن منعقد ہو رہا ہے اور بتدریج اس جدو جہد کو آگے بڑھایا جائے گا۔
آج اگروقت کی ضرورت کے پیش نظر یہ کام نہ کیا گیا یا اس نازک صورتحال پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا اور کوئی بہتر لائحہ عمل طے نہ کیا گیا توخدا نخواستہ آج جو حشر کشمیر اور فلسطین کا ہو رہا ہے وہی حال اس خطے کا بھی ہو سکتا ہے۔نظریہ پاکستان ایک ایسی موثر تحریک تھی جس سے پاکستان وجود میں آیا تھا اب انشاء اللہ استحکام پاکستان ایک ایسی تحریک ثابت ہو گی جس سے پاکستان میں سیاسی، معاشی استحکام اور خوشحالی آئے گی۔

1965 ء کی جنگ میری پیدائش سے قبل ہوئی ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ سترہ دن کی پاک بھارت جنگ میں قوم نے اپنی بہادر اور دلیر فوج کے ساتھ مل کر دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے۔ پاکستان کا قیام 1947 ء میں ہوا اور اپنے قیام سے کچھ عرصہ بعد جنگ نے تاریخ کا پانسہ پلٹ دیا۔ پاکستان کی فوج نے وہ کارنامہ انجام دیا جو جدید ممالک کی 500 سو سالہ فوج بھی کرنے سے قاصر رہی۔
آج بھی پاکستان کو اطراف سے دشمنوں کا سامنا ہے کچھ سامنے ہیں اور کچھ خفیہ طور پر وطن عزیز کو غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارے یہاں مختلف شہروں میں دہشت گردی اور سرحدوں پر فائرنگ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ قوم متحد ہے وہ یکجہتی اور اخوت سے اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہے جس نے بھی پاک سرزمین کے خلاف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھا قوم اپنی فوج کے ساتھ مل کر وہ آنکھ ہی پھوڑ دے گی۔
اس بار یوم دفاع عجیب ماحول میں آ رہا ہے۔ مگر قوم بے مثال اخوت کی دوڑی میں بندھی ہوئی ہے۔ پاکستا ن کی تعمیرو ترقی اور اس کی حفاظت کیلئے پارٹی‘ فرقہ اور مذہب سے بے نیاز ہو کر 22 کروڑ عوام ایک ہیں۔ اس مرتبہ قوم یوم پاکستان 50 سالہ یکجہتی کی گولڈن جوبلی کے طور پر منائے گی۔ ہم پاکستان سویٹ ہومز کے پلیٹ فارم سے نشان حیدر کے حامل 10 شہداء و چار ہزار کے قریب بچوں کے ساتھ خراج عقیدت پیش کریں گے۔
پاکستان سویٹ ہومز میں شہداء کے بچے H/9 پارک اسلام آباد میں طمطراق سے شہداء کو خراج تحسین پیش کریں گے۔
1965 ء میں قوم اور مسلح افواج نے پاکستان کی بقاء اور سلامتی کی جنگ لڑی اس موقع پر عالمی استعماری قوتیں جو پاکستان دوستی کا دم بھرتی تھیں وہ بے نقاب ہو گئیں آج بھی 1965 ء کا ماحول ہمارے گرد و پیش میں موجود ہے پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے کی ”جنگ“ جاری ہے۔
جبکہ پاکستان دشمن قوتیں ظاہر ہو گئی ہیں۔ دہشت گردی کے آلہ کار ہمارے اطراف میں موجود ہیں۔ فوج ان سے بھی نبردآزما ہے۔ دوسری طرف بھارت ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ بلکہ جارحیت کر رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے ڈھاکہ دورے کے دوران پاکستان توڑنے کا اعتراف بھی کیا آج پھر بے مثال قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ حکومت‘ فوج اور عوام سب مل کر دفاع وطن کے لئے متحد ہو جائیں حکومت معاشی دہشت گردی ختم کرے گی تو لوگ آسودہ حال ہو کر قومی تعمیرو ترقی میں حصہ لیں گے۔
سیاست دان قوم کو متحد کریں یہ چند مسافر جو فوج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں انہیں باز آ جانا چاہئے۔
اللہ پاک کی خاص عنایت اور کرم نوازی ہے جس طرح پاکستانی قوم عظیم ہے اسی طرح پاک فوج کی شان وتوقیر بھی عظمت سے بھرپور ہے۔ 1965ء میں جس بے مثال جذبے نے دشمن کو ناکوں چبوائے الحمداللہ آ ج وہ جذبہ پوری طرح روشن‘ جاوید اور قابل رشک ہے ‘ اللہ پاک اس جذبے کو سلامت اور دوم بخشے مقام شکر ہے کہ فوج کو ہر دور میں عوام کی تائید حاصل رہی۔
اس عوامی وسیاسی قوت سے دشمن خوف زدہ ہے۔ اسی لیے وہ چھپ چھپ کر ہماری قومی وحدت اور یکجہتی پر حملہ اور ہے یاد رکھیں ملک وقوم ترقی وخوشحالی سے ہمکنار اس وقت ہوتی ہے جب وہ معاشی ‘ سماجی ‘ سیاسی اور دفاعی طور پر قابل رشک پوزیشن پر ہے۔ الحمداللہ ہم دفاعی طورپر بہت مضبوط ہیں‘ اور معیشت واقتصادیات کو درست کرنے کی طرف مسلسل گامزن ہیں۔
انشاء اللہ آنے والے وقتوں میں صورتحال تسلی بخش ہوجائے گی۔ 1965ء کی جنگ میں قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ تھی ‘ جس کا نتیجہ عوامی فتح کی صورت میں نکلا اس کے بعد ہماری یکجہتی اور اخوت پر کاری ضرب تھی جس کا نتیجہ ہر دور میں ہمارے سامنے تھا۔ آج یوم پاکستان عجیب حالات میں آرہا ہے۔پاکستان کو کئی محاذ پر مشکلات کا سامنا ہے۔ قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاوٴآتا رہتا ہے ان شاء اللہ قوم متحد ہو کر معاشی قوت بن کر ہر محاذ پر کامران ہوگی۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان