بند کریں
پیر مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وارڈنز کے رویوں میں شدت کا رجحان
حکمرانوں اور افسروں کے لئے قانون کا استثنیٰ دیکھ کر کبھی کبھی عام شہری کا دل بھی للچاتا ہے کہ وہ بھی سگنل پر رکے نہ لین اور لائن کا خیال کرے
شاہ نواز تارڑ:
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اکثر و بیشتر حادثے کا سبب بنتی ہے جن میں تیز رفتاری، غلط اوورٹیکنگ اور سگنل کی خلاف ورزی کے باعث بسا اوقات قیمتی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ معاشرہ ابھی اتنا با شعور نہیں ہوا کہ قوانین پر عملدرآمد کیلئے فورس کی ضرورت پیش نہ آئے۔ کیونکہ جس معاشرے میں قوانین کا اطلاق چہرے اور منصب دیکھ کر کیا جائے وہاں یہ توقع عبث ہے کہ ہر شہری کما حقہ، عمل کریں گے کیونکہ جب اشرافیہ قانون سے مستثنٰی ہوگی تو عوام پر نفاذ فورس کے ذریعے ہی کرانا پڑے گا۔
وی وی آئی پیز کے لئے سگنل بند رکھنا استثنٰی ہی کی ایک صورت ہے۔ اعلیٰ حکومتی عہدیدار اور سرکاری منصب دار کو تو قانون ”خدمت“ کا موقع ہی نہیں دیتا۔ اگر کبھی ٹریفک سگنل پر رکنا بھی پڑ جائے تو نہ صرف سیکورٹی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ سسٹم کے ”ڈیل ریل“ ہونے کے بھی خدشات لاحق ہو جاتے ہیں اس لئے پولیس اور وارڈنز سمیت تمام عملہ وی وی آئی پیز کے لئے موم کی ناک بنے قانون کے ”خدوخال درست“ کرنے میں لگا رہتا ہے اور کسی دانستہ یا نادانستہ کوتاہی کی صورت میں فوری ازالے کیلئے مستعد رہتا ہے تاکہ کسی بڑی ”آزمائش“ سے بچ سکے۔
ایسا ہی منظر میں نے ہائیکورٹ چوک میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ایک اہلکار کو دوسرے سے کہتے ہوئے سنا ”او بوٹیا سی سی پی او اشارے تے کھلا (کھڑا) اے چھیتی نال سگنل بند کر دے“۔
جب ایسے حالات ہوں اور قانون و اہلکار اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سرکاری منصب داروں کی کوئی ”خدمت“ نہ کرسکیں تو ظاہر ہے پھر قانون سازی اور اہلکاروں کی فوج ظفر موج تو ”عوامی خدمت“ کے لئے ہی ہو گی ورنہ تو سب کچھ بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
اسی لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں (پولیس، وارڈنز اور دیگر فورسز) کی خدمات لی جاتی ہیں۔ حکمرانوں اور افسروں کے لئے قانون کا استثنیٰ دیکھ کر کبھی کبھی عام شہری کا دل بھی للچاتا ہے کہ وہ بھی سگنل پر رکے نہ لین اور لائن کا خیال کرے تو ایسی صورت میں ڈیوٹی پوائنٹ سے دور موبائل فون پر خوش گپیوں میں مصروف وارڈن اس پر یوں جھپٹتا ہے جیسے عقاب چڑیا کو دبوچتا ہے اور وہ پھر کاغذ قلم کی زبان میں بات کرنے کی بجائے ہاتھوں، لاتوں، مکوں اور گھونسوں سے ”سمجھانا“ شروع کر دیتا ہے آس پاس ”چھپے“ وارڈنز بھی پیٹی بند بھائی کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں شہری کی خوب ”خاطر تواضع“ کے بعد موٹر سائیکل یا گاڑی بند کر دی جاتی ہے اور اس کو کار سرکار میں مداخلت کا ملزم ٹھہرا کر حوالات میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
دنیا کے کسی مہذب ملک کو تو کیا ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ والے کسی خطے میں بھی کوئی ایسا قانون نہیں ہو گا جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر وارڈنز کو شہریوں پر تشدد کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ لیکن یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالہ ہے۔ زمانہ جاہلیت کے شہسوار عنترہ عبسی کی طرح دو چار اہم شخصیات کو خوب ”رگڑا“ دینے کے بعد وارڈنز کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔
”منہ پھٹ اور ہتھ چھٹ“ تو وہ پہلے ہی تھے لیکن کرکٹر عمر اکمل اور سینئر سیکرٹری پنجاب اسمبلی پر ”فتح“ پانے کے بعد تو وارڈنز نے روزانہ 10 چالانوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کی تذلیل، پٹائی، خواتین سے بدتمیزی اور لڑکوں پر تشدد کو بھی وطیرہ بنا لیا۔ معمولی کوتاہی پر چالان چٹ تھما دینے کے خلاف شہری اکثر سراپا احتجاج رہتے ہیں، چند روز قبل بھی ایک شہری نے مسلسل تیسرے دن چالان ہونے پر احتجاجاً موٹر سائیکل جلا دی تھی اور ایک بزرگ شہری نے وارڈن کے رویے کے خلاف سڑک پر لیٹ کر احتجاج کیا تھا۔
ہفتہ کے روز جی پی او چوک میں اشارے پر رکی ویگن کا چالان کرنے پر ڈرائیور نے وجہ پوچھی تو رمضان نامی وارڈن نے ہیلمٹ مار کر اس کا سر پھاڑ دیا تھا۔ ایسے واقعات کی باقاعدہ انکوائری ہونی چاہئے اگر وارڈن قصور وار ہو تو اس کو بھی سلاخوں کے پیچھے جانا چاہئے کیونکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ٹریفک وارڈنز کیلئے ”قابل دست اندازی“ ضرور ہے لیکن ”قابل دست درازی“ نہیں۔
اس کے باوجود شہریوں کے تشدد کا نشانہ بننے کے واقعات عام ہیں۔ اگر وارڈنز کے خلاف شہریوں کی شکایات پر کارروائی ہو تو آئندہ کسی وارڈن کو چالان کرنے کے ساتھ ساتھ کسی شہری پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ ورنہ پولیس کی طرح وارڈنز اور عوام میں بھی خلیج بڑھتی جائیگی پھر یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ
گماں تم کو ہے کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو ہے کہ منزل کھو رہے ہو
اور اگر یہی کچھ ہی کرانا تھا تو بھاری تنخواہوں اور مراعات پر وارڈنز بھرتی کرنے کی ضرورت کیا تھی ان سے تو پہلی ہی ٹریفک پولیس ہی بہتر تھی۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان