تازہ ترین : 1
Valentine Day per Pemra Ka Qabil Sataish Iqdam

ویلنٹائن ڈے پر پیمرا کا قابل ستائش اقدام

ویلنٹائنز نشریات پر پابندی کا حکم ہماری معاشرتی راویات و اقدار ، اسلامی تعلیمات ا ور شرم و حیا کے عین مطابق ہے

مصنف : رومانہ فاروق
گزشتہ چندسالو ں سے ہمارے پاکستانی معاشرے میں ویلنٹائن ڈے کا بخار متعدی مرض کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔جس سے یہ حقیقت تو عیاں ہوتی ہے۔ کہ دیگر بیسوں رسموں اور عادات کی طرح ہم مسلمان وسعت قلبی کا ثبوت پیش کرنے کے لیے اسے بھی قبول کرتے جا رہے ہیں۔ یہ جانے بنا کہ ان غیر اسلامی رسموں کو قبول کرنے کا اصل اور حقیقی سبب وسعت قلبی نہیں بلکہ دینی جہالت ہے۔
اسی لیے فی زمانہ پاکستان سمیت دیگر کئی اسلامی ممالک میں یہ دن اسی جوش وجذبہ سے منایا جاتا ہے جسطرح مغربی ملکوں کے جوان مناتے ہیں۔
 کیا یہ علم وحق کی مفلسی نہیں کہ ہم جس رسم اور عادات کو اپنائے ہوئے ہیں۔ نہ تو اسکی اصلیت اور تاریخ کے بارے میں جانتے ہیں اور نہ ہی اس حقیقت کو کہ معاشرے پر اس کے کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاریخ میں کچھ اسطرح تذکرہ ہے کہ۔
۔۔۔۔
تیسری صدی میں کلوڈیز II(Claudius) جب روم کا حکمران تھا وہ اپنی فوج کو بڑھانا اور مضبوط کرنا چاہتا تھا۔ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ لوگ فوج میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیں جب کہ بہت سے مرد حضرات اپنی بیویوں اور خاندان کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے جس کی وجہ سے فوج میں اضافہ نہ ہو سکا اور وہ خوف زدہ ہو گیا اور اس کے ذہن میں ایک بات آگئی کہ غیر شادی شدہ آدمی کے لئے فوج میں شرکت کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
لہٰذا اُس نے اپنی اس سوچ کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے قانون بنا دیا کہ اب مزید شادیاں نہیں ہو نگیں۔ بہت لوگوں نے اس نئے قانون کے خلاف آواز اٹھائی اور احتجاج کیا کیونکہ یہ قانون نہ صرف انسانیت کی تذلیل تھی بلکہ معاشرے میں بیگاڑ پیدا کرنے کا ایک جواز بھی تھا۔جن لوگوں نے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی انہی لوگوں میں ایک پادری بھی تھاجس کا نام ویلنٹائن تھا اور اسکی پسندیدہ سر گرمی محبت کرنے والوں کی شادیاں کروانا تھا۔
ویلنٹائن نے نئے قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے چوری چھپے اپنے کام کو جاری رکھااور وہ شادیاں کراتا رہا،حکومت وقت کے فیصلے کی خلاف وہ مسلسل سرگرم رہا اوراُس نے فوجیوں کے قدموں کی مسلسل آواز وں میں بھی رسومات کی ادائیگی سر گوشیوں میں جاری رکھی۔
معمول کے مطابق ایک رات ویلنٹائن کسی شادی کی رسومات سے فارغ ہوا ہی تھا کہ کم روشنی کی وجہ سے اپنی طرف بڑھتے قدموں کو نہ دیکھ سکا اور وہ پکڑا گیا جبکہ شادی شدہ جوڑا بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔
حکومت وقت نے قانون پرعمل نہ کرنے اور مسلسل شادیاں کرانے کے جرم میں ویلنٹائن کو سزائے موت کا حکم دیا لیکن وہ اپنے کئے پر نادم نہیں تھااور وہ گرفتار ہونے کے بعد اپنی باقی زندگی کو سکون سے گزارنا چاہتا تھا۔ لیکن اس دوران ایک حیران کن بات یہ ہوئی کہ جوان لوگ اس سے ہمدردی کے لئے جیل آنے لگے اورلوگ کھڑکی سے اس پر پھولوں کے ساتھ ساتھ کاغذ پر یہ لکھ کر پھینکتے ”کہ وہ بھی محبت پر یقین رکھتے ہیں “ انہی لوگوں میں یہاں کے جیلر کی بیٹی بھی شامل تھی۔
جسے جیلر نے ویلنٹائن کے پاس جانے کی اجازت دے رکھی تھی اورلڑکی اُس سے گھنٹوں باتیں کرتی اور ہمت وحوصلہ دیتی رہتی اور اُس کے خفیہ شادی کروانے کے عمل کو صحیح کہتی۔طویل جیل کاٹنے کے بعد آخر ویلنٹائن کو پھانسی دینے کا مقررہ دن آ گیا جو کہ 14فروری (A.D269) تھا۔ اسی دن ویلنٹائن نے مرنے سے پہلے اپنی تنہا ئیوں کی ساتھی دوست کی پر خلوص اور وفادار دوستی کا شکریہ یہ لکھ کر ادا کیا۔
”Love from your Valentine“۔یعنی تمہارے ویلنٹائن کی طرف سے محبت“۔اور اسے یہ امید بھی تھی کہ اس مختصر تحریر کو یاد رکھا جائے گااور اسے بھی ،کیونکہ محبت کبھی دفن نہیں ہو سکتی ۔ویلٹنائن کی پھانسی کے بعد لوگوں نے اس کی موت کو قربانی سے تعبیر کیا اور پھر ہر سال لوگوں نے اس دن کویوم محبت کے نام سے منانا شروع کردیا۔
ویلٹنائن ڈے اور ویلٹنائن کی قربانی کی مقبولیت اور اس رسم کو اہتمام کے ساتھ منانے کے عمل میں بے پناہ اضافہ 15صدی سے شروع ہوا۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ(Agincourt) کی لڑائی میں فرانسی جوان (Arlean)گرفتاری تھی اور اسے کئی سال تک لندن ٹاور میں مقید رکھا گیا۔ اُس نے اپنی قید کے دوران اپنی بیوی کے لئے بہت سی نظمیں لکھیں ان میں قریباً60 کو شاہی صفحے پر محفوظ کر کے برطانوی میوزیم میں رکھا گیا ہے، اس سے بھی اس دن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ 18صدی میں انگلستان میں لوگوں نے اپنے پیاروں کے لئے اپنے ہاتھوں سے کارڈ بنانے شروع کر دیے۔
جبکہ 1840میں امریکہ میں ویلنٹائن ڈے پر کارڈ کی کمر شل ترسیل شروع ہو ئی۔ سب سے پہلا امریکی کارڈ اسیتراے ہولینڈ(Eather-A-holand)نے اصلی جھالر، ریسبن اور رنگین تصویروں سے بنایا۔ ہو لینڈ کی ویلنٹائن ڈے پر اس خاص کاوش سے امریکہ میں اسے بہت فروغ حاصل ہوااور پھرصدی بہ صدی مقبول ہوتے ہوتے اسکی اہمیت و مقبولیت کے پیش نظر دنیا کے بیشتر ممالک نے سرکاری چھٹی کی مہر لگا دی اور دنیا کے چند ملک ایسے بھی ہے جہاں ویلٹنائن ڈے کے موقع پر چھٹی کی جاتی ہے۔
یہ ویلنٹائن کی وہ کہانی ہے جو مغرب میں بے انتہا مقبول ہے
اس پس منظر کو جاننے کے نعد مسلمانوں میں اس دن کے لیے دلچسی حیرت انگیز بلکہ افسوس ناک معلوم ہوتی ہے۔کہ ایک ایسا دن جس میں انسانی قدروں کو روندا اور مسلا جاتا
 ہے۔جبکہ ایک مسلمان کی شان تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ہر قدم کا رشتہ دین سے جوڑ کر چلے۔
 پاکستان میں بھی یہ دن منانے کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔
ٹی وی چینلز پر اِس دن کی خصوصی نشریات دکھائی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کو تحائف دینا، تفر یحی مقامات پر جانا اور کھانے کی دعوت دینا اِس دن کی مناسبت سے عام ہے ۔پہلے محبت قربانی کا جذبہ مانگتی تھی، اب خرچہ مانگتی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اِسے بھر پور اندازا میں منانے والے اِس بات سے
لاعلم ہیں کہ اِسے کیوں منایا جاتا ہے ۔ اِس دن شہر کی سڑکوں پر عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
پھولوں کی دکانوں سے پھول اچانک غائب ہوجاتے ہیں، بس اسٹاپ پر منچلے لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ خانی کرتے اور پھول پھینکتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں جب کہ تما م پارکوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور اِس دن کے لحاظ سے لڑکیوں نے سرخ لباس زیبِ تن کئے ہوتے ہیں تاکہ اِس دن بھر پور انداز میں لطف اندوز ہوا جاسکے ۔ اِب یہ ایک فیشن بن گیا ہے اور پاکستان میں ہرکوئی اِس فیشن کو اپنانے کے لئے سرگرداں ہے ۔

اسے میں یا آپ نہیں روک سکتے ۔لیکن اس ویلنٹائن ڈے پر ہم پیمرا کے اس اقدام کو یقناقا بل ستائش تو کہہ سکتے ہیں جس نے ماہ فروری کے آغاز پر ایک نوٹیفیکیشن جاری کیااور تمام الیکٹراک اور پرنٹ میڈیا کو اس دن کی تشہیر سے روکااور اس سے متعلق کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری خبر نہ دینے کا بھی پابندکیا۔ یقینا ویلنٹائنز نشریات پر پابندی کا حکم ہماری معاشرتی راویات و اقدار ، اسلامی تعلیمات ا ور شرم ہ حیا کے عین مطابق ہے۔

اسلام میں ویلنٹائن ڈے کی کو ئی گنجاش نہیں ہے۔لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی وضات ضروری ہے ۔کہ اسلام محبت کا دشمن نہیں بلکہ وہ تو محبت کا داعی ہے۔اور محبت ایک دائمی جذبہ ہے۔ایسا آ فاقی جذبہ جسکی سارے جہان پر حکومت ہے۔ماں باپ کی محبت،بھائی بہن کی محبت، دوستوں کی محبت اور میاں بیوی کی محبت، غرض ہر رشتے میں محبت کا ہی عمل دخل ہے۔یہ پاکیزہ جذبہ انسانوں میں ہی نہیں بلکہ انسانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
محبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی ۔۔۔۔یہ تو عطا ہے۔۔۔۔یہ تو نصیب ہے۔۔۔
 جو لفظوں اور رشتوں کی قید سے آزاد ہے۔ا بھی تک نہ تو کوئی ایسا آلہ ایجاد ہوا ہے اور نہ ہوگا جو محبت کی وسعت گہرائی کی پیمائش کر سکے کیونکہ زندگی خود ہی معراج محبت ہے۔ اور زمین کے سفر میں ا گر کو ئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہی ہے۔
وقت اشاعت : 2018-02-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

Romana Farooq

مصنف کا نام : رومانہ فاروق

رومانہ فاروق کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں