بند کریں
اتوار مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹریفک قوانین کی پابندی‘ حادثات سے بچاتی ہے
ایک اندازے کے مطابق زیادہ تر حادثات موٹر سائیکل سواروں اور سائیکل سواروں کو پیش آتے ہیں جو بڑی گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں سے ٹکرا جاتے ہیں تبھی خوفناک اور دلخراش حادثات آئے دن سڑکوں پر رونما ہوتے ہیں
نائیلہ شبیر:
پاکستان ایک کثیر آبادی والا مْلک ہے۔ اس کے مجموعی وسائل میں اس رفتار سے اضافہ نہیں ہو رہا ہے جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے جس کے باعث ملکی وسائل پر آبادی کا دباوٴ روز بروز بڑھا رہا ہے اور ملک میں افراطِ آبادی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سے مسائل جنم لینے لگتے ہیں جن کو دور اندیشی اور حکمت عملی سے حل کرنے کے لئے موثر اقدامات نہایت ضروری ہیں۔
صحت، صفائی اور تعلیم کی سہولتوں میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ، نئی بستیوں کا قیام، خوراک میں کمی، ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں بد نظمی اور دیگر مسائل کا سامنا آج کل کی نسل کر رہی ہے۔ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو ہی لے لیں، جس طرف نگاہ ڈالو سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کی بھیڑ نظر آتی ہے اور اسی بے ہنگم ٹریفک اور بد نظمی کے باعث بہت سے ٹریفک حادثات جنم لے رہے ہیں کئی معصوم جانیں لْقمہ اَجل بن جاتی ہیں اور بہت سے لوگ عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو کر دوسروں کے محتاج ہو جاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق زیادہ تر حادثات موٹر سائیکل سواروں اور سائیکل سواروں کو پیش آتے ہیں جو بڑی گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں سے ٹکرا جاتے ہیں تبھی خوفناک اور دلخراش حادثات آئے دن سڑکوں پر رونما ہوتے ہیں۔ٹریفک کے حادثات میں کئی طرح کے حادثات دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں، کار کے حادثات، بس کا پیدل راہ گیروں کو کچل دینا، ٹرک کا کار یاموٹر سائیکل سے ٹکرا جانا، اوور سپیڈنگ اور بے جا اوور ٹیکنگ کے باعث ہونے والے حادثات آج کل عام روٹین کی باتیں لگتی ہیں۔
بڑھتے حادثات کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔ زیادہ تر حادثات موٹر سائیکل سواروں کو پیش آتے ہیں۔ موٹر سائیکل عام متوسط طبقہ کے لئے سستی اور موثر سواری ہے مگر یہ سواری اب محفوظ معلوم نہیں ہوتی۔ایک تحقیق کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ لاہور شہر میں ہونے والے ٹریفک حادثات میں زیادہ حادثات موٹر سائیکلوں کے باعث ہوئے۔ خبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے اعداد و شمار اکھٹے کئے جائیں تو یہ حقیقت واضح ہو گی کہ یکم اکتوبر 2015 سے15 نومبر2014 کے درمیانی عرصہ میں ہونے والے حادثات کی شرح کے بارے ریسرچ کے مطابق صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں حادثات کی تعداد 60 تھی جن میں سے موٹر سائیکل سے ہونے والے حادثات تقریباََ 35 تھے اور ان حادثات میں 40 افراد جاں بحق جبکہ50 سے 60 افراد معمولی اور سنگین نوعیت کے زخمی ہوئے۔
ان اعداد و شمار کے علاوہ حادثات کی مجموعی رپورٹ کی خبریں بھی ان اخبارات میں موجود تھیں جن میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔
اگر چہ موٹر سائیکل سواروں کے علاوہ سڑکوں پر دوسری ٹریفک لین تو ہیں مگر ان کی پابندی کرنا ڈرائیور کی ذمہ داری ہے تو دوسری طرف ٹریفک رولز پر عمل درآمد کروانا بھی ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے مگر تاحال کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آرہے مگر حادثات کی اسی رفتار کو دیکھتے ہوئے اب موجودہ وقت میں موٹر سائیکل لین کے قانون کی ضرورت در پیش ہے۔
ان حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لئے اور لوگوں کی اس سستی سواری کو محفوظ بنانے کے لئے سڑکوں پر ان کی لین کے لئے قوانین پر عمل کروانے کی بھی ضرورت ہے۔ لاہور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں تقریباََ ہر سڑک پر ہیوی لائٹ ٹریفک کے لئے سڑکوں پر نشانات بھی لگائے جاتے ہیں اور موٹر سائیکل سوارکے لئے علیحدہ لین پر سختی سے عمل درآمد کروانا بھی متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔

لین کے قانون پر عمل کر نے سے نہ صرف بڑے حادثات میں کمی واقع ہوگی بلکہ گاڑیوں اور موٹر سایئکلوں کے درمیان ہونے والے حادثات کی شرح بھی کم ہوتی جائے گی۔ اور اگر متعلقہ حکام میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو صوبائی دارالحکومت کی بے ہنگم ٹریفک کے بہاوٴ اور نظام میں بھی واضح بہتری اور تبدیلی نظر آئے گی۔
متعلقہ حکام کو ٹریفک قوانین کے بارے میں اب سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور مستقبل میں معصوم زندگیوں کو ہولناک حادثات سے محفوظ بنانے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ تاکہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو اور انسانی جانیں بھی بچ جائیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-28

(1) ووٹ وصول ہوئے