تازہ ترین : 1
Teenagers Main Cigratte Noshi Kiyon

ٹین ایجرز میں سگریٹ نوشی کیوں؟

ڈاکٹر صداقت علی کا کہناہے کہ والدین بھی قصوروار ہیں کیونکہ جہاں انہوں نے بچوں کو جدید سہولیات دی ہیں۔وہیں ان کی زندگی میں بے مقصدیت کو بھی فروغ دیاہے۔انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جب اس کی زندگی میں کوئی چیلنج نہ ہو

زارامصطفی:
ٹین ایج (Teenage) زندگی کا وہ مرحلہ ہے جب انسان اپنے ارد گرد کے ماحول اور مختلف چیزوں کے بارے میں متجس ہو تا ہے اور ایڈونچر ازم(Adventurism) یعنی مہم جوئی کا جنون اسے مختلف تجربات کرنے پراکساتا ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہاس عمر میں سوچ پختہ نہیں ہوتی اور نہ ہی عملی زندگی کا کوئی تجربہ ہوتا ہے ۔شایداسی لئے عارضی پن میں زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے ۔
دوسری طرف آج کل ہمارے معاشرتی رویوں مین بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں جن کی وجہ سے ٹین ایجرزاپنے اردگرد کے ماحول سے اکتاہٹ اور بیزاری سی محسوس کرنے لگے ہیں ۔اس حوالے سے والدین بھی قصور وار ہیں ۔ کیونکہ جہاں انہوں نے بچوں کو روز مرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جدید سہولیات دی ہیں ۔وہیں ان کی زندگی میں بے مقصد کو بھی فروغ دیا ہے۔انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جب اس کی زندگی میں کوئی چیلنج (Challenge) نہ ہوتووہ اپنی روزمرہ زندگی سے بیزار ہوجاتا ہے اور کچھ نیا کرنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے ۔
پہلے وقتوں میں والدین بچوں پرذمہ داریاں ڈالتے تھے جس سے وہ اپنی توجہ اور صلاحیتیں درست سمت میں استعمال کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج سے چار سو برس پہلے آٹھ سے برس کے بچے بھی کام کاج کرکے اپنے والدین کا سہارا بنتے تھے ۔مگر آج کل والدین بچوں کو آرام دہ زندگی دینے کے لئے خود محنت کرتے ہیں۔اور بغیر کہے بچوں کی ہر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ان کی زندگی میں کوئی چیلنج نہیں رہتا ۔
اکثر ٹین ایجرز یکسانیت سے تنگ آکر بھی سگر یٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے بعض والدین بچوں کو ان کی کمزوریوں اور غلطیوں پرہر وقت کوستے رہتے ہیں وہ ان کی اصلاح کے لئے باقاعدہ کو ئی لائحہ عمل اپنانے کی بجائے ڈانٹ ڈپٹ کر کے انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔پھر وہ اپنی بوریت اور ڈپریشن کو دور کرنے کے لئے ایسی سر گرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جن سے انہیں خوشی اور سکون محسوس ہو اور یوں سگریٹ نوشی کاآغاز ہوتا ہے۔
میں ہمیشہ نوجوانوں سے یہ کہتا ہوں کہ اگر کسی مشکل ک کاسامنا کرنا پڑے تو اپنی تمام صلاحیتیں اس کا حل تلاش کرنے میں صرف کر دیں مگر ایسی منفی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو ضائع نہ کریں۔
والدین محتاط رہیں
-1والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی روز مرہ سرگرمیوں پر نظر رکھیں انہیں علم ہونا چاہیے کہ بچے گھر سے باہر کن لوگوں کے ساتھ کتنا وقت گزراتے ہیں ؟ان کی سر گرمیوں کیا ہیں؟ اور جب وہ گھر پر ہوتے ہیں تو اپنا وقت کیسے گرارتے ہیں
-2عام طور پر جن بچوں پر والدین کو انھا اعتبار ہو وہ ان کی روز مرہ سر گرمیوں پر نظر نہیں رکھتے اور ان کی کسی بات کی تصدیق بھی نہیں کرتے مگر اکثر وہی بچے والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتاتے ہیں اس لئے بچوں پر کبھی اندھا اعتبار نہ کریں۔

-3اگر آپ کے بچے کا کمرہ الگ ہے تو اس کی الماری اور دراز وغیرہ بھی چیک کرتی رہا کریں۔وقتا فو قتا اس کے کپڑوں کی جیبیں والٹ اور کتابوں والا بیگ بھی ضرور چیک کریں اور اگر بچے کے والٹ لیپ ٹاپ یا کپڑوں پر ہلکا سا جلنے کا نشان بھی ہو تو وجہ جاننے کی کوشش کریں۔غیر محسوس کن انداز میں بچوں کی انگلیاں ناخن اور دانت وغیرہ بھی ضرور چیک کیا کریں بعض اوقات سمو کنگ کی وجہ سے ان کی رنگیت تبدیل ہو جاتی ہے۔

-4آپ کے بچے کے رویے میں اچانک آنے والی تبدیلی کو بھی ہر گز نظر انداز کریں مشلأٴ اگر آپ کو بچے کے مزاج میں بلاوجہ چڑ چڑاپن غصہ اور برہمی نظرآئے۔
-5اگر نئے دوست بنائیں تو ان سے ضرور ملیں اور یہ بھی اطمینان کر لیں کہ وہ سمو کنگ یا کسی اور بڑی عادت میں مبتلا تو نہیں ہیں ؟ -6سموکنگ کی وجہ سے کپڑوں سے بھی سگریٹ کی مہک آنے لگتی ہے ایسا ہو تو ضرور سوال کریں۔

-7اپنے آپ کو رول ماڈل بنائیں۔آپ چاہے جتنے بھی روشن خیال کیوں نہ ہوجائیں مگر بچوں پر نفسیاتی طور پر والدین کارعب اور دبدبہ قائم رہنا چاہیے ۔یاد رکھیں اگر والدین کا رعب نہ ہو تو بچے ان کے کہنے پر کبھی اپنی کوئی سر گرمیوں ترک نہیں کرتے۔
-8خود کو انرجیٹک(Energetic) رکھیں تاکہ بچوں کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں یوں انہیں من مانی کا موقع ملتا ۔

-9بچوں کو غیر ضروری حد تک سہولتیں نہ دیں یعنی والدین کو خود اندزا ہو نا چاہیے کہ بچے کو کس وقت کیا چیز چاہیے ؟ایسا نہ ہوبچہ جس چیز کی ضدکرے بنا سوچے سمجھے اسے دے دی جائے۔یہ بھی خیال رہے کہ بچے کے مطالبات غیر مشروط طور پر پورے نہ کئے جائیں یعنی بچے کی جو فرمائش پوری کریں اس کے بدلے کوئی شرط بھی ضرور رکھیں یااس کے استعمال کا وقت اور حد مقر کریں اس طرح بچوں کا قواعد وضو ابط پر عمل کرنے کی عادت ہوتی ہے۔

-10اگر دیکھا جائے تو سکول جانے والے بچوں کو موبائل فون کی قطعات ضرورت نہیں ہوتی اور اگر کبھی انہیں ضرورت پڑے تو والدین یا کسی بڑے بھائی یا بہن کا فون استعمال کر سکتے ہیں۔میراخیال ہے اس حوالے سے لینڈ لائن فون (Landline Phone) کا بہت فائدہ ہے کیونکہ بچے کس بات کرتے ہیں اور کتنی دیربات کرتے ہیں یہ گھر کے سبھی افراد کے نوٹس میں رہتا ہے۔اس طرح ان پر نظر بھی رکھی جا سکتی ہے۔

-11بچوں کی تعلیمی کا کردگی معلوم کرنے کے لئے اساتذہ کے ساتھ ربطہ بھی ضروری ہے۔کہیں ایسا نہ ہو بچہ گھر سے سکول جانے کے لئے نکلے اور سکول جانے کی بجائے دوستوں کے ساتھ مل کر آوارہ گردی کرتا رہے۔
-12بچوں پر بلاوجہ طنزوتنقید کرنے کی بجائے ان سے دوستی کریں بچوں کے مستقبل کے بارے میں غلط پیش گوئیاں کرنے سے بھی گریز کریں کہیں ایسا نہ ہو وہ آپ سے بدظن ہو جائے۔

سگریٹ نوشی کی عادت پختہ کیسے ہوتی ہے؟
دراصل سگریٹ میں400 مضرصحت کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن میں سے ایک نکو نین بھی ہے۔ اس کے علاوہ60 کیمیکلز اسیے ہیں جو کینسر کی بڑی وجہ ہیں جبکہ دیگر کیمیکلز دل جگر اور منہ کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ۔ذہنی الجھن یا کشکش میں مبتلا افراد تو سگریٹ پینے کی طلب محسوس کرتے ہیں ۔
کیونکہ سگریٹ میں موجود نکوٹین وقتی طور پر جسمانی توانائی فراہم کرتی ہے اور ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ذہن سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو مگر جیسے ہی سگریٹ ختم ہوتا ہے پہلے کی طرح تھکن اور بیزاری محسوس ہونے لگتی ہے یعنی وقتی سکون کی خواہش باربار سگریٹ پینے پرا کساتی ہے۔
غیر معمولی سرگرمیاں:
ایسے بچے اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزارتے ہیں اور انہی لوگوں کے دررہنا پسند کرتے ہیں ۔
جوان سے باربار سوال نہ کریں ۔گھر پر موجود ہوتے ہوئے بھی زیادہ تروقت تنہا رہتے ہیں پڑھائی کا بہنانہ بنا کر ہر وقت کمرے میں بند رہتے ہیں اندر سے کمرہ لک (Lock) رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تاکہ سگریٹ کی مہک سے ان کی خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں کسی کو پتہ نہ چلے ۔اسی بو کھلا ہٹ میں ٹین ایجرز کاوالدین کے ساتھ رویہ بہت خراب ہو جاتا ہے معمولی باتوں پر غصہ کرنا ہر بات پر چڑنا والدین سخت لہجے میں بات کرنا اضافی حیب خرچ کا تقاضا کرنا۔
اگر ان کی غیر موجودگی میں ان کے کمرے کی صفائی کی جائے یا ان کی چیزوں کو چھوڑا جائے تو وہ غصے میں آجاتے ہیں ۔انہیں یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں گھر کے کسی فرد کو سگریٹ کا پیکٹ یا سلگے ہو ئے سگریٹ نہ مل جائیں لیکن کسی کو سگریٹ نوشی کی عادت ہوتو وہ چاہے جتنا بھی محتاط ہو جائے کہیں نہ کہیں سے کوئی نشانی مل ہی جاتی ہے جس سے والدین کو ان کی سر گرمیوں کا علم ہو جاتا ہے۔

جب والدین کو بچوں کی سرگرمیوں کا علم ہو تا ہے تو وہ انہیں ڈانٹتے ہیں ۔ان پر طرح طرح کی پابندیاں لگاتے ہیں۔بعض اوقات ان کی ہراچھی بری عادت پر تنقید کر کے اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ہیں جس سے اصلاح تو نہیں ہوتی مگر بچے والدین سے مزید دور بھاگنے لگتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ بچے والدین کی آنکھ کے اشارے سے ڈرکر بیٹھ جائیں اور ایسا بھی ممکن نہیں کہ اب والدین بچوں پر ہاتھ اٹھائیں اور وہ سر تک نہ اٹھائیں ۔
آج کل والدین روشن خیال تو ہو گئے ہیں اور انہوں نے بچوں کی تربیت کے روایتی انداز بھی چھوڑ دیئے ہیں مگر افسوس کہ انہوں نے روشن خیالی سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے نئے طریقے ابھی تک نہیں سیکھے جس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل میں منفی رجحانات عام ہورہاہیں ۔
اساتذہ کی ذمہ داری:
بعض اوقات والدین سے بھی پہلے اساتذہ کو بچوں کی منفی سر گرمیوں کا علم ہو جاتا ہے اور جانتے ہیں ۔
کہ ان کیکون سی سر گرمیوں روز مرہ زندگی کو متاثر کررہی ہیں ۔ اس لئے اگر اساتذہ کو علم ہو جائے کہ ان کا کوئی طالب علم سگریٹ نوشی کرنے لگا ہے تو اس کی ہلکی پھلکی کا ؤ نسلنگ(Counselling) کریں۔اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے پاس بلائیں اور ہلکے پھلکے انداز میں بات کریں کیونکہ اگر آپ سختی کریں گے تو وہ آپ سے دور بھاگنے لگے گا۔ٹین ایجرز سے کوئی بھی بات کرنے کا سب سے مناسب وقت صبح کا ہوتا ہے کیونکہ اس وقت وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فریش ہو تے ہیں اور انہیں سمجھا یا جائے تو بحث وتکرارنہیں کرتے بلکہ بات کو سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے برعکس اگر شام کے وقت انہیں سمجھانے کی کوشش کریں تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرتے اور چڑتے ہیں اور اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے اس لئے انہیں قائل کر نا مشکل ہو تاہے اسی لئے ٹیچر کی بات بچے جلدی سنتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-05-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں