تازہ ترین : 1
Signal Free Sarkain

سگنل فری سڑکیں

یہ پیدل چلنے والوں کیلئے عذاب بن گئی ہیں۔۔۔۔۔اس وقت لاہور فلائی اوور سے لیکر جین مندر تک فیروز پور روڈ سگنل فری قرار دے چکی ہے جس سے شہریوں کے وقت کی بہت بچت ہورہی ہے۔ 45منٹ کا سفر صرف 12منٹ میں طے ہورہا ہے

شہریار اشرف:
ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان ایک واضح فرق قوانین اور اصولوں کی پاسداری ہے ترقی یافتہ ممالک میں قانون پر عمل کیا جاتاہے جبکہ ترقی پزیر ممالک میں ایسا نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے یہاں امن و امان کی صورتحال خراب رہتی ہے اور لوگوں کی جان کو کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ اب ٹریفک حادثات کو ہی دیکھ لیجئے۔ پاکستان میں ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ہلاکت کو اتنا اہم مسئلہ نہیں سمجھا جاتاہے۔
تیز رفتار کاریں پیدل چلنے والوں کو یوں روند دالتی ہیں جیسے ہاتھ پر کیڑا رکھ مسل دیا جائے۔ صورتحال اس وقت اور بھی تشویشناک ہوجاتی ہے جب کار سوار کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پیدل چلنے والے کو قصور وار ٹھہرادیا جاتا ہے۔
اگر سڑکیں نہ ہوں تو سفر انتہائی مشکل ہوجائے بلکہ ناممکن ہی ہوجائے۔ کشادہ اور صاف ستھری سڑکوں کی بدولت گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوجاتا ہے۔
ٹریفک کا بہاؤ مسلسل رکھنے کیلئے سڑکوں کی بحالی پر خاص توجہ دی جاتی ہے تاکہ ٹریفک جام نہ ہو۔ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت پاکستان میں نہ صرف پختہ سڑکوں کا فقدان ہے بلکہ ان کی تعمیر و مرمت پر بھی دھیان نہیں دیا جاتا۔ سالہا سال سے ٹوٹی ہوئی سڑکیں متعلقہ محکمے کی توجہ کی طلب گار ہیں لیکن ان کی طرف کسی کا دھیان نہیں نہیں جاتا ۔ صوبہ پنجاب کا اگر دیگر صوبوں سے موازنہ کیاجائے تو یہاں تعمیر و ترقی کے کاموں کی رفتار کچھ زیادہ ہے جس کی ایک بڑی وجہ حکومت پنجاب کا ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی لینا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔
اسی وجہ سے اس صوبے میں سڑکوں کا جال دن بدن پھیلتا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا تعلق لاہور سے ہونے کے باعث لاہوریوں کی قسمت بھی جاگ اٹھی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور کو بین الاقوامی معیار کا شہر بنانے کی ٹھان لی ہے۔ آئے دن یہاں کسی نئے ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے سابقہ دور میں صوبہ پنجاب کے اکثر شہروں اور خصوصاََ لاہور شہر میں سڑکوں کی لمبائی میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ ان کی توسیع اور بحالی کا کام بھی کروایا اور رواں دور میں بھی وہ سڑکیں، پل، انڈرپاسز اور سگنل فری روڈز بنانے میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔

فیروز پور روڈ لاہور کی ایک مرکزی شاہراہ ہے دیگر سڑکوں کی نسبت یہاں ٹریفک کا دباؤ غیر معمولی طور پر زیادہ ہے لیکن معروف چوراہوں پر سگنل ہونے کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے گاڑیوں کی طویل قطاریں بن جاتی تھیں۔ سکول اور دفاتر کے اوقات میں تو اس سڑک پر ٹریفک کا ایک طوفان امڈ آتا تھا۔ پورے دن میں شاید ایک آدھا گھنٹہ ہی ایسا ہوتاتھا جب یہاں ٹریفک معمول سے کچھ کم نظر آتی۔
اس صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب نے چند ماہ قبل فیروز پور روڈکو سگنل فری روڈ بنانے کا حکم دیا تا کہ شہریوں کا قیمتی وقت بچ سکے اور وہ وقت پر اپنی منزل پر پہنچیں۔ فیروز پور روڈ سگنل فری منصوبہ تقریباََ 90 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔
اس وقت لاہور فلائی اوور سے لیکر جین مندر تک فیروز پور روڈ سگنل فری قرار دے چکی ہے جس سے شہریوں کے وقت کی بہت بچت ہورہی ہے۔
45منٹ کا سفر صرف 12منٹ میں طے ہورہا ہے لیکن دوسری طرف اس کے کچھ نقصانات بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔ فیروز پور روڈ پر سگنل فری ہونے سے یہاں گاڑیوں کی رفتار بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے جس سے پیدل سڑک پار کرنے والے لوگ ایک بہت بڑی مصیبت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں فیروز پور روڈ پر کئی ایک حادثات رونما ہوچکے ہیں جس میں پیدل چلنے والے تیز رفتار کاروں کی زد میں آکر ہلاک ہونے کے علاوہ زخمی بھی ہوئے۔
فیروز پور روڈ پار کرنے والے زیادہ ترلوگوں کا یہ کہنا ہے کہ کار سواروں کو یہ احساس نہیں کہ پیدل چلنے والے بھی انسان ہیں اگر ان لوگوں کو اس چیز کا احساس ہوتا وہ یقیناََ اپنی کاروں کی رفتار کم رکھیں۔ کار سوار شاید اس وجہ سے بھی بریک لگانا گوارہ نہیں کرتے کہ حادثہ کی صورت میں پیدل چلنے والے کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہ دائیں بائیں دیکھے بغیر سڑک پار کررہا تھا۔

پیدل چلنے والے ایک نوجوان علی رضا کا کہنا تھا کہ پیدل چلنے والوں کیلئے پل بنانا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ایک بوڑھا شخص کیسے 70، 80سیڑھیاں چڑھ کر اس پل تک پہنچے گا او دوبارہ اتنی ہی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئے گا۔ اتنی مشقت کرنے کے بعد تو اس میں پیدل چلنے کی ہمت ہی نہیں رہتی۔ ملتان روڈ کے رہائشی ندیم اقبال کا کہنا تھا کہ ملتان روڈ کشادہ کرنے سے ٹریفک کیلئے تو آسانی ہوگئی لیکن پیدل چلنے والے ایک بڑی مشکل میں مبتلا ہوگئے ہیں رات کے وقت صورتحال اور بھی گھمبیر ہوجاتی ہے جب سٹریٹ لائٹ روشن ہی نہیں ہوتیں اور پیدل چلنے والے تیز رفتار کاروں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
لیکن اس میں کچھ قصور پیدل چلے والوں کا بھی ہوتا ہے جو لاپرواہی کا ثبوت دیتے ہیں۔ اگر ترقی یافتہ ممالک کا موازنہ پاکستان سے کیا جائے تو پاکستان ابھی بہت پیچھے ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کارسواروں سے بہت زیادہ پاکنگ فیس لی جاتی ہے۔ ماحولیاتی امور کے وکیل احمد سلیم کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ سڑکیں بناتے وقت پیدل چلنے والوں کی سہولیات کا خیال ہی نہیں رکھا جاتا ۔
شہر میں اکثر جگہ پیدل چلنے والوں کیلئے پل اور انڈر پاسز بنائے گئے ہیں لیکن بوڑھے اور معزور افراد ان سے فائدہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر لائن اینڈلین کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ ایک کار سوار اچانک اپنی لین میں سے نکل کر دسری لین میں آجاتا ہے جو حادثہ کا موجب بنتا ہے۔
یونیورسٹی آف انجینئرنگ کے شعبہ ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر تنویر اقبال قیام کا کہنا ہے کہ اگر میرٹ کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو لاہور میں کوئی سگنل فری روڈ نہیں ہے جبکہ ایسی چند ایک سڑکیں کراچی میں ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سالانہ 12لاکھ افراد حادثات کا شکار ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں 60فیصد پیدل چلنے والو ہوتے ہیں۔ سڑکوں کو سگنل فری کونے سے واقعی بہت فائدہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ قوانین پر عملدرآمد بھی ضروری ہے اور ساتھ ہی پیدل چلنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ صورتحال اس وقت اور بھی خطرناک ہوجاتی ہے جب پیدل چلنے والے بچے اور نوجوان سڑک کے درمیان لگا ہوا جنگلا پھلانگ کر دوسری طرف بھاگ کر جاتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ حادثے کا شکار بھی ہوجاتے ہیں لیکن ترقی پزیر ممالک میں ایک لین سے دوسری لین میں جانا بہت بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-06-26

(2) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں