بند کریں
اتوار مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سینئرز مسیحاؤں کی جونیئرز کے ہاتھوں درگت
گزشتہ دنوں میو ہسپتال کے سنیئر پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز کی بدتمیزی دیکھ کر ہر باشعور شخص حیرت سے دنگ رہ گیاکہ نفسانفسی کے اس دور انسان کو بے راہ روی کا شکار کر دیا ہے
فرزانہ چودھری:
استاد کے مقام اور عزت و تکریم کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے .یہ وہ ہستی ہے جس کے احترام میں والدین بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ استاد ہی اپنے علم کی روشنی سے ہمارے دل و دماغ کو منور کرتا ہے اور جاہلیت کے اندھیروں سے باہر نکالتا ہے۔ گزشتہ دنوں میو ہسپتال کے سنیئر پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز کی بدتمیزی دیکھ کر ہر باشعور شخص حیرت سے دنگ رہ گیاکہ نفسانفسی کے اس دور انسان کو بے راہ روی کا شکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق میوہسپتال کے شعبہ اطفال کے ہیڈ پروفیسر اکمل لئیق کے ساتھ بدتمیزی اور کمرے میں بند کرنے کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے ساٹھ PGR کی میرٹ لسٹ جاری کی اور ان سب کی induction ہو گئی اس کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال کے عہدیدران نے وائس چانسلر پر دباووٴ ڈال کر بغیر انٹرویو کے مزید 32 ڈاکٹرز کے آڈرز حاصل کرلیے۔
اس سلسلہ میں ڈاکٹر انعام اللہ برکی اور ڈاکٹر عمیر رانا پروفیسرڈاکٹر فیصل مسعود سے چار جونیئرز ڈاکٹرز کے شعبہ اطفال میں PGR کے لیے آڈرز لے آئے اور پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق سے کہا کہ ان ڈاکٹروں کے جوائنگ آڈر پر دستخط کردیں۔ پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق نے کہا میں وائس چانسلر سے بات کرتا ہوں، یہاں تو PGR کی صرف ایک سیٹ خالی ہے اس پر ان میں سے ایک ینگ ڈاکٹر نے کسی کو فون کیا اور پروفیسر اکمل لئیق کانام لے کر گالیاں نکالنے لگا اور کام نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگا۔
پاس بیٹھے اسسٹنٹ پروفیسر طاہر جاوید اور دیگر میڈیکل آفیسرز نے ان کو گالیاں دینے سے منع کیا اور ان میں جھگڑا ہو گیا۔ اس دوران کچھs PGR نے آ کر ان ینگ ڈاکٹرز کو پروفیسر کے کمرے سے باہر نکال دیااور ان ینگ ڈاکٹرز نے کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر سے تالالگا دیا۔ ایک گھنٹہ بعد ایم ایس ڈاکٹرامجد شہزاد پولیس کے ہمراہ آئے اور ان پروفیسر صاحبان کو کمرے سے باہر نکالا۔
ایک استاد کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز کے ناروا سلوک پر سینئرز ڈاکٹرز سراپا احتجاج بن گئے۔ سینئرز ڈاکٹر صاحبان کا کہنا کہ ینگ ڈاکٹرز کو حکومتی اعلیٰ شخصیات کی آشیرباد حاصل ہے تب ہی تو ایک استاد کے ساتھ اس شرمناک سلوک پر انہوں نے مذمتی بیان تک نہیں دیا جن میں سیکرٹری ہیلتھ اور وزیر صحت سرفہرست ہیں۔ اس سے کمیونٹی میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو حکومتی حمایت حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز YDA کے بینر تلے ہسپتال میں بھتہ بھی لے رہے ہیں اور شْنید ہے وہ کینٹین کا بل نہیں دیتے اور نہ ہی ہوسٹل کے کمرے کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ملازموں کے ڈیوٹی روسٹر اور دیگر معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہیں اوران کے کام زبردستی کروا نے کی ان سے رشوت لیتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا عسکری ونگ یہ تمام کام کر رہا ہے۔
آجکل ہسپتال انتظامیہ نہیں بلکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن چلارہی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال کے عہدیداران کی طرف سے اپنے سینئر کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے تقریبا چار ماہ قبل شبعہ اطفال میں ہی پروفیسر ڈاکٹر طلعت سیال کوان کے کمرے میں بند کیا اور ان کے رجسٹرار کو مارا پیٹا وجہ یہ تھی کہ پروفیسر ڈاکٹر طلعت سیال نے ان ینگ ڈاکٹرز کو ڈیوٹی پر ٹائم سے آنے اور حاضری لگانے کو کہا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر صداقت کو بھی کمرے میں اس لیے بند کیا اور گالیاں دیں کہ انہوں نے ڈیوٹی نہ کرنے والے ڈاکٹر کے ڈیوٹی سرٹیفیکیٹ پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔ اسی طرح انتھسیزیا کی ڈاکٹر تنزیلہ کے ساتھ بھی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹرز نے بدتمیزی کی تھی۔ پروفیسر ڈاکٹر رخشاں شاہین نجمی اور پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود کے ساتھ بھی بدتمیزی کی جب وہ سروسز ہسپتال میں تھے۔
گوجرانوالہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی ینگ ڈاکٹرز کے ہاتھوں پٹائی ینگ ڈاکٹرز کے طاقت کے ناجائز استعمال کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ڈاکٹرز کو مسیحا کا درجہ حاصل ہے میڈیکل کے پروفیشن کو مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے مریض کی زندگی بچانے کا مسیحاحلف دیتے ہیں مگر عملی طور پر ہسپتالوں کی ایمرجنسی بند کرکے مریضوں کو زندگی سے محروم کر دیتے ہیں۔
دنیا میں ایسی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے ڈاکٹروں نے ہسپتالوں کی ایمرجنسی بند کی ہو۔ پنجاب کے ہسپتالوں کی 37 دن ایمرجنسی بند کرنے کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ کیا یہ ایک مسیحا کے شایانِ شان بات ہو سکتی ہے کہ وہ مریض کو زندگی دینے کی بجائے اس کو موت کے منہ میں دھکیل دے۔ کیا حکومت ینگ ڈاکٹرز کے ہاتھوں اتنی مجبور ہو چکی ہے؟ جب تک سزا اور جزا کا عمل نہیں ہو گا تب تک کوئی بھی بْرائی ختم نہیں ہو گی۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں ہر ناجائز کام کر کے راحت محسوس کرتا ہے۔ اگر اسے بروقت روکا نہ جائے تو اس کی طاقت اور اختیارات معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں۔ہڑتالیں کرنے والے ینگ ڈاکٹرز کو سوچنا چاہیے کہ وہ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ہی میڈیکل کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تنخواہیں وصول کرتے ہیں مگر ڈاکٹرز ہڑتالیں کرکے ان ہی کی زندگیوں سے کھیلنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
اگر عوام کی جان و مال کی حفاظت اور ان کی صحت و زندگی کے ضامن بننے والے ادارے ہڑتالیں کرنے لگ جائیں تو وہ انسانی جانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کا اندازہ 37 دن کی پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی بند ہونے کی وجہ سے درجنوں قیمتی جانوں کے ضائع ہونے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر نارمل حالات میں ان ایمرجنسیز میں ایک دن میں دو سو سے ڈھائی سو مریض زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور اگر ہسپتالوں کی ایمرجنسی بند ہوں تب کتنی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوں گی اور ایسا تجربہ 37 دن پنجاب کے ہسپتالوں کی ایمرجنسی بند رہنے سے ہو چکا ہے۔
اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے احتجاج کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن ہڑتالیں کرکے ہسپتال بند کرنا ان کے پروفیشن کے تقدس کی نفی کرتا ہے۔ آج کے ینگ ڈاکٹرز کل کے سینئرز ڈاکٹرز ہوں گے۔ ان کو اپنے بعد آنے والے ینگ ڈاکٹرز کے لیے اچھی مثالیں قائم کرکے جانا چاہئے ورنہ قدرت کے اس قانون سے کوئی بالا تر نہیں کہ آج جو بوئے گے کل وہی کاٹے گا۔ میڈیکل کے شعبہ کی طرح پولیس کا شعبہ بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت کے فرائض انجام دیتا ہے اگر پولیس والے بھی اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ہڑتالیں کرنا شروع کردیں تو ایک منٹ کے لیے سوچیں اس کا کیا رزلٹ نکلے گا۔
اگر ڈاکٹرز ، پولیس، اساتذہ، وکلاء وغیرہ ہڑتالیں کرنا شروع کردیں گے تو پورا سسٹم collapseکرجائے گا۔ وکلاء کوبھی احساس ہوچکا ہے کہ ہڑتالیں براہ راست سائلوں کو متاثر کرتی ہیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر اظہار چودھری کا کہنا ہے کہ اگست 2008ء میں ہم نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اس وقت بنائی جب میوہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک واقعہ پیش آیا تھا کہ گولیاں کھا کر خود کشی کرنے والی لڑکی کو میو ہسپتال اس وقت لایا گیا جب زہر اس کے سانس اور دل کے سسٹم کو متاثر کر چکا تھا جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی ، اس کے لواحقین نے سارا غصہ ایمرجنسی میں موجود ڈیوٹی ڈاکٹر رابعہ راٹھور اور عملے پر نکال دیا۔
ایمرجنسی کے شیشے توڑ دیئے ، سٹاف کو مارا پیٹا اور ایمرجنسی بند کر دی۔ اس پر وزیر اعلیٰ صاحب نے واقعہ کی حقیقت کو جانے بغیر ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر رابعہ راٹھور سمیت تمام ڈیوٹی سٹاف کو معطل کر دیا۔ اس ناانصافی کی وجہ سے سینئر ڈاکٹرز اور ینگ ڈاکٹرز انصاف کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ، وزیر اعلیٰ کو حقیقت کا پتہ چلا تو معاملات ٹھیک ہوگئے۔
PMA نے ینگ ڈاکٹرز کو establish اس لیے کیا تھا۔ وہ چھ سات ماہ PMA کی چھت کے نیچے رہے۔ PMA کی خواہش تھی کہ ان کو ڈسپلن میں لائیں تاکہ یہ اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کریں اور اپنے حقوق کے لیے ایک پلیٹ فارم سے آواز بھی بلند کر سکیں۔ اس کے بعد ان کو ہائی جیک کر لیا گیا اور وہ کچھ سیاسی پرنسپلز اور اس وقت کے پارلیمانی صحت کی سرپرستی میں چلے گئے اور اپنا راستہ خود اختیار کیا۔
مگر آجکل وہ خود مختار ہیں۔ PMA اس افسوس ناک واقعہ کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ انصاف ملنے تک پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب یہ معاملہ اکیڈمک کونسل کے پاس چلا گیا ہے۔ ان کو معاف کرنے کا اختیار اب تو پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق کے پاس بھی نہیں رہا۔ گوجرانوالہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ایم ایس کی پٹائی کرنے والا واقعہ تو آپ کو یاد ہو گا۔
وہ ایم ایس صاحب PMA کے ممبر تھے PMA نے اس ینگ ڈاکٹرکو سزا بھی دلوائی وہ تقریباً تین ماہ جیل میں رہا۔ اس کے بعد اس کے گھر والوں کی طرف سے معافی نامہ اور گوجرانوالہ میں نظر نہ آنے کے معاہدہ پر اسے جیل سے نکلوایا گیا۔ PMA لاہور کے صدر سرجن ڈاکٹر تنویر انور نے کہا اس واقعہ سے میڈکل پروفیشن اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی بدنامی ہو رہی ہے ان چندینگ ڈاکٹرز کی اصلاح کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
یہ ہمارا سرمایہ ہیں کل انہوں نے پروفیسر بننا ہے اور آنے والے ینگ ڈاکٹرز کی عملی تربیت کرنا ہے۔ ان کی بدتمیزیوں اور مار کٹائی سے تمام میڈیکل کالجز کے پرنسپلز آزادی سے اپنے فرائض انجام نہیں دے پا رہے۔ انہوں نے طاقت کے نشے میں میڈیکل کے شعبے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ چند ینگ ڈاکٹرز کے اس طرح کے رویے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ واضع رہے کہ PMAنے اپریل 2009ء میں چار ہزار ینگ ڈاکٹرز کو بطور MO اور 1200 سو ڈاکٹرز کو بطور رجسٹرار اور اسسٹنٹ پروفیسرریگولر کروایا۔
پھر 2012ء میں ایسوسی ایٹ پرفیسرز کروائے، PMA نے گورنمنٹ سے اپنے جائز مطالبات جہموری انداز میں منوانے کے لیے ہسپتال بند نہیں کیے تھے۔ احتجاج کیااور چند گھنٹوں کی ہڑتالیں کیں مگر اپنے ان اقدامات سے مریضوں کو پریشان نہیں کیا۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے بھی ہم اس طرح کے رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز اپنے پیشے کی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔
ینگ ڈاکٹرز سے پوچھا جائے کہ اپنا حق لینے کا یہ کونسا طریقہ ہے؟
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اکیڈمک کونسل کے ترجمان اور رجسٹرار کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عاطف کاظمی نے بتایا ”اکیڈمک کونسل کی میٹنگ میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے یہ پانچ سینئر پروفیسر ڈاکٹرز پر مشتمل انکوائری کمیٹی ہے۔ انکوائری کمیٹی 17 اور 18 اگست کو میٹنگ کرے گی اور حقائق کے مطابق اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
پروفیسر خالد مسعود گوندل، ڈاکٹر ریاض واڑیچ، پرفیسر ابرار اشرف، پروفیسر اکمل لئیق اور پروفیسر طلعت سیال کسی بھی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ اکیڈمک کونسل کی کوشش ہے کہ آئندہ اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوں۔ اس کا کوئی مستقل حل ہی نکالا جائے گا“۔
YDA پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر عامر بندشہ نے بتایا ”سینئر پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق کے ساتھ ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا ہے ، ان کو کمرے میں بند نہیں کیا گیا۔
یہ ہم پر محض الزام ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ابرار اشرف، پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، ڈاکٹر ریاض وڑائچ، پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق اور پروفیسر ڈاکٹر طلعت سیال اکیڈمک کونسل میں شامل ہیں ان سے ہمیں انصاف کی بالکل امید نہیں ہے۔ پروفیسرڈاکٹر اکمل لئیق توcomplaint ہیں ان کو اکیڈمک کونسل میں کیوں شامل کیا گیا ہے۔اکیڈمک کونسل ہمارے خلاف پنجاب بھر میں تحریک launch کر رہی ہے۔
اگر انہوں نے ایسا کیا تو پھر ہم بھی نہیں رکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ پروفیسر صاحبان جو وقت پر ہسپتال نہیں آتے اور مریضوں کا علاج نہیں کرتے ہمارا ان سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے نبھائیں۔ پروفیسرڈاکٹر ابرار اشرف اور پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل اساتذہ کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کر رہے ہیں۔ ہم نے پریس کانفرنس کی اور ہاتھ جوڑ کر غیر مشروط معافی بھی مانگی ہے۔
ہم پر مختلف قسم کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ہم اس معاملے میں بہت کلیر ہیں اگر پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کے فیصلے پر اکیڈمک کونسل کوئی ایسا فیصلہ کرتی ہے جو انصاف پر مبنی نہیں ہوگا تو ہم اس فیصلے پر عمل درآمد ہونے کو بائے فورس روکیں گے۔ اصل میں کچھ لوگ سینئرز اور جونیئرز میں تصادم کرانا چاہتے ہیں اور وہ اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ہم PGR کے حقوق کے لیے لڑیں گے۔ ایم ایس میوہسپتال ڈاکٹر امجد شہزاد سے پو چھیں ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ کمرے کو کوئی تالا نہیں لگا ہوا تھا۔ پروفیسر خالد مسعود گوندل اور PMA نے ہمارے خلاف تقریریں کی ہیں ہمیں غنڈے اور بدمعاش کہا گیا کیونکہ ہم ان کے مفادات کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ انصاف نہ ملنے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا جو پنجاب تک پھیل سکتا ہے۔
اگر اکیڈمک کونسل نیوٹرل ہو کر فیصلہ کرے گی تو ہمیں قابل قبول ہو گا“۔
ڈاکٹر گدائے حسین بچہ وارڈ یونٹ ون میوہسپتال میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ان کا کہناہے کہ شفیق استاد پروفیسر ڈاکٹر اکمل لئیق کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز ڈاکٹر انعام اللہ برکی اور ڈاکٹر عمیر رانا کی طرف سے ہونے والی زیادتی پر شدید مذمت کرنے پر مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
ہوسٹل میں میرے کمرے کے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال کے عہدیدار مجھے جان سے مارنے کے لیے چکر لگا رہے ہیں جن میں ڈاکٹر شعیب نیازی، ڈاکٹر عمیر رانا اور کچھ نامعلوم افراد ہیں۔ ہم نے وائس چانسلر فیصل مسعود کو درخواست بھی دی کہ ہمیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔ وہ ہمیں سینئر پروفیسرز کا ساتھ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں مگر وائس چانسلر فیصل مسعود نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔
اس کے بعد ہم نے تھانہ گوالمنڈی کے ایس ایچ کو درخواست دی۔ موبائل فون پر دھمکیوں کی ریکارڈنگ ایس ایچ او کودے دی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب YDA اپنے ان عہدیدران کوDisown کرے اور الیکشن کراکے ان غنڈہ عناصر سے YDA کو پاک کرے۔ “۔مصدقہ ذرائع کے مطابق میوہسپتال کی ایمرجنسی اور آئی وارڈ کے چھ فلیٹ پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میوہسپتال کا قبضہ ہے۔
AVS کے پرائیویٹ رومز میں اپنا آفس بنا رکھا ہے۔ تمام ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کو سیٹیں (یعنی ہاؤس جاب اور ٹریننگ کے لیے) دلوانے کے لیے فی ڈاکٹر 50, 50 ہزار روپے رشوت لے رہے ہیں۔ انتظامیہ ان کے انڈر پریشر ہو کر انکی ہر ناجائز بات کو مان رہی ہے۔ بات نہ مانے پر باہر سے لوگ لا کر پٹائی کرا دیتے ہیں۔ ان کا اثر توڑنے کے لیے حکومت کو ان کے متوازی گروپ کھڑا کرنا ہو گا تاکہ ان کا سد باب کیا جا سکے۔ اگر اب ان کو نہیں روکا گیا تو یہ حکومت کے حلق کا کانٹا بن جائیں گے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اپنی طاقت کے بل بوتے انتظامیہ سے اپنا حصہ(بھتہ) مانگتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-18

(0) ووٹ وصول ہوئے