تازہ ترین : 1
Sarkari Hospitals K Afsoosnaak Halat

سرکاری ہسپتالوں کے افسوسناک حالات

حکومت پاکستان کی جانب سے صحت کی مد میں پچیس ارب ستر کروڑ روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں رکھے گئے ہیں جو سترہ جاری اسکیموں کیلئے ہونگے۔پنجاب حکومت نے صحت کیلئے تریپن ارب چوہتر کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ لاہور میں کڈنی سینٹر اور جگر کی پیوندکاری اور کینسر ہسپتال بنانے کے لیے بھی فنڈز مختص کیے ہیں۔سندھ حکومت نے تینتالیس ارب اٹھاون کروڑ روپے صحت کیلئے مختص کیے

طیبہ ضیاء چیمہ:
حکومت پاکستان کی جانب سے صحت کی مد میں پچیس ارب ستر کروڑ روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں رکھے گئے ہیں جو سترہ جاری اسکیموں کیلئے ہونگے۔پنجاب حکومت نے صحت کیلئے تریپن ارب چوہتر کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ لاہور میں کڈنی سینٹر اور جگر کی پیوندکاری اور کینسر ہسپتال بنانے کے لیے بھی فنڈز مختص کیے ہیں۔
سندھ حکومت نے تینتالیس ارب اٹھاون کروڑ روپے صحت کیلئے مختص کیے۔ اس سلسلے میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی ٹرانسپلانٹ میں مفت علاج کیلئے دو ارب روپے جبکہ انڈس اسپتال میں مفت علاج اور کینسر ٹریٹمنٹ کیلئے تیس کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ صوبے کے سو بنیادی صحت مراکز کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے بجٹ میں صحت کیلئے بائیس ارب روپے رکھے گئے جبکہ بلوچستان حکومت نے بجٹ میں چودہ ارب چودہ کروڑ روپے رکھے ہیں۔
تاہم صحت پر کثیر رقم مختص کیے جانے کے باوجود پاکستان کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار درست نہیں، سرکاری ہسپتالوں کی حالت اگرچہ اب پہلے سے کافی بہتر ہوئی ہے تاہم ابھی بھی بہتری کی بہت زیادہ گنجائش باقی ہے۔ سرکاری ہسپتال میں دروازے سے داخل ہوتے ہی انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی ہسپتال کے بجائے جیل میں پہنچ گیا ہے۔ ایمرجنسی وارڈ میں ایک بیڈ پر دو دو مریضوں کو لیٹا ہوا دیکھ کر مریضوں اور ان کے لواحقین کی بے بسی اور لاچارگی کا احساس دل کو زخمی کر دیتا ہے۔
وارڈز کے اندر جب کوئی ڈاکٹر سے بات کرنے کی جرات کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب مریض کی طبیعت مسلسل بگڑ رہی ہے تو ڈاکٹر موبائل فون پر گپ شپ اور ہنسی مذاق میں مصروف نظر آتے ہیں اور موبائل فون کے بند ہوتے ہی اپنے ساتھی ڈاکٹرز کے ساتھ گپ شپ لگانا اپنی ڈیوٹی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف مریض یا تو موت کے منہ میں چلا جاتا ہے یا موت کے بہت ہی قریب ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کی بے حسی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے کئی مریض تڑپ تڑپ کر جان دے دیتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے محکمہ صحت عامہ کو سختی سے ہدایات دے رکھی ہیں کہ ہسپتالوں میں صفائی اور مستحق مریضوں کے فری علاج معالجے کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن ڈاکٹروں کو یہ بات کون باور کرائے کہ وہ ایک مقدس پیشے سے وابستہ ہیں جو عبادت اور خدمت کے زمرے میں آتا ہے ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو بھی پرائیویٹ کلینک کا وقت دیتے ہیں ۔
تاکہ ان کی آمدنی میں روز افزوں اضافہ ہوتا چلا جائے جو ڈاکٹر معروف ہوتا ہے اس کی پرائیویٹ فیسوں میں ہر ماہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ہسپتالوں کا ایم ایس چاہے کتنا دردمند ، ہمدرد اور خوش اخلاق ہو مریض جب متعلقہ ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے تو اسے پریشانی اور مشکل پیش آتی ہے کیونکہ ڈاکٹر ہسپتالوں میں چند گھنٹے گزارنے کے لئے آتے ہیں انہیں پرائیو یٹ کلینک جانے کی فکر لاحق رہتی ہے۔
ہسپتالوں کی راہداری اور گزرگاہوں میں لاچار اور شدید تکلیف میں مبتلا مریضوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے لیکن ڈاکٹروں کا اپنا شیڈول ہوتا ہے وہ تو مرض کی نوعیت دیکھ کر مریض نہیں چیک کرتے بلکہ اپنی سہولت اور دلچسپی سے ہی کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی تعلق یا سفارش والا مریض آجائے تو وہ گھر سے بھی اسے چیک کرنے آجائیں گے لیکن اگر کوئی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوا سے دوسرے دن یا پرائیویٹ ہسپتال کا وقت دیتے ہیں جس طرح سیاستدانوں او ر بیوروکریسی میں ہمدرد ی ، خلوص اور احساس کی کمی ہو گئی ۔
ہے ڈاکٹر بھی اس میں سرفہرست ہیں ہمارے معاشرے میں اسلامی جذبہ خدمت ، اقداروروایات کی پاسداری ماند پڑ چکی ہے ہر فرد اپنے لئے سب کچھ کرتا ہے دوسرے بھائی کی بھلائی اور اس کی پریشانی کے سد باب سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہی قباحتیں ہمارے ذہنوں میں جاگزیں ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں انحطاط اور زوال بڑھ رہا ہے جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔
بعض معروف سرجن اور ڈاکٹر سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ہسپتال بنا کر کاروبار کر رہے ہیں انہیں غریب اور امیر کی کوئی تمیز نہیں رہی۔ مریض مر رہا ہو تو اس کا علاج شروع کرنے سے پہلے بھاری فیس کا مطالبہ کرتے ہیں اور انہیں ادویات کی ایک لمبی فہرست ہاتھ میں تھما دیتے ہیں کہ وہ مرض کو بھول کر پیسوں کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وطن عزیز میں شعبہ صحت کی بدحالی کے ذمہ دار صرف حکمران ہی نہیں اس تباہی میں بیوروکریسی، ہسپتالوں کی انتظامیہ، ڈاکٹرز و دیگر سٹاف نے بھی کردار ادا کیا۔
ہنگامی صورت حال میں کسی بھی ہسپتال کا سب سے اہم شعبہ ایمرجنسی ہوتا ہے جہاں ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف سمیت سہولیات کی مکمل فراہمی اولین ترجیح کا درجہ رکھتی ہے لیکن ہماری صورت حال کچھ یوں ہوتی ہے کہ ایمرجنسی کے بیڈز کی چادریں جلدی تبدیل نہیں کی جاتیں اور ان پر پڑے خون کے دھبے بتا رہے ہوتے ہیں کہ زخمی نے کس طرح ایڑیاں رگڑ رگڑ کر یہاں دم توڑا ہے۔
وقت اشاعت : 2017-01-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں