تازہ ترین : 1
Safakana Qatal

سفاکانہ قتل۔۔۔چچازاد بھائیوں نے کزن کو نشہ آور چائے پلا کر بھٹہ میں زندہ جلا ڈالا

انتقام کی آگ انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔ اکثر ایسے واقعات بھی دیکھنے کو آتے ہیں کہ قاتل اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے قتل کرنے کے بعدلاش پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں اور قتل کے بعد بھنگڑے بھی ڈالتے ہیں

احمد رضا قا د ری:
چند ہی روز قبل ایک ایسا سفا کانہ قتل کا افسوس ناک واقعہ سامنے آیا کہ روح ہی کانپ گئی۔ انتقام کی آگ انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔ اکثر ایسے واقعات بھی دیکھنے کو آتے ہیں کہ قاتل اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے قتل کرنے کے بعد لاش پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں اور قتل کے بعد بھنگڑے بھی ڈالتے ہیں یا جلا دیتے ہیں۔
جرائم پیشہ افراد پانی سفاکی کا اس طرح سے مظاہرہ کرتے ہیں کہ انسانیت کانپ جاتی ہے نواحی علاقہ 175/15-L میں بھی ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ عبدالغفور اپنے چچا زاد بھائیوں کے ہمراہ بھٹے پر کام کرتا تھا چچا زاد بھائیوں کو شک ہوا کہ غفور کے شبیر کی بیوی کے ساتھ تعلق ہیں جس پر انہوں نے غفور کو ٹھکانے لگانے کا تہیہ کر لیا۔ غفور حسب معمول گھر سے تیار ہو کر بھٹہ پر پہنچا کسے معلوم تھا کہ آج اُسکا آخری دن ہے۔
غفور جب کام کاج کے بعد گھر جانے لگا تو اسے اُسکے چچا زاد بھائی چائے پلانے کے بہانے گھر لے گئے جہاں چائے میں نیند آور گولیاں کھلا کر اْسے بیہوش کر دیا گیا۔ بعد میں ان درندوں کو غفور کو بیہوشی کی حالت میں جلتے ہوئے بھٹے کی آگ میں پھینک دیا جس سے وہ لمحوں میں جل کر راکھ ہو گیا۔ جب غفور گھر نہ پہنچا تو گھر والوں کو تشویش ہوئی انہوں نے اسکی تلاش شروع کردی۔
قاتل شبیر اور زاہد بھی انکے ہمراہ تلاش کرنے لگے۔ قاتل بڑی ہوشیاری سے انہیں مختلف جگہوں پر رشتے داروں کے پاس لے جاتے رہے کہ کہیں ان پر شک نہ ہوجائے۔ مگر کہتے ہیں کہ قتل کبھی نہیں چھپتا اور اپنی نشانی چھوڑ جاتا ہے۔جب گھر والے تھک ہار گئے اور انکے ہاتھ کچھ نہ آیا تو کسی نے انہیں بتایا کہ شبیر اور زاہد سے بھی تفتیش کی جائے مگر غفور کا بوڑھا باپ یہ بات ماننے کو تیار ہی نہ تھا کہ اسکے بیٹے کی گمشدگی کا تعلق اسکے بھتیجوں کے ساتھ ہو۔
مگر آخر قتل کو سامنے آنا ہی تھا۔ شبیر اور زاہد نے ابتدائی تفتیش میں ہی اس بات کا اقرار کر لیا کہ انہوں نے غفور کو جلتے ہوئے بھٹے میں زندہ پھینک دیا تھا جس سے وہ جل کر راکھ ہوگیا۔ پھر کیا تھا گھر میں قیامت صغراں تھی۔ لوگ دیوانہ وار بھٹہ کی طرف بھاگے مگر وہاں کیا ملنا تھا ہر چیز راکھ میں تبدیل ہو کر بھٹی میں تیار ہونے والی اینٹو ں کے ساتھ جا چکی تھی۔
ماں ، باپ او ر بیوی پر غشی کی دورے پڑنے لگے۔ پولیس نے فوری طور پر شبیر اور زاہد کو گرفتار کر لیا بھٹے پر کام بند کرا کر اس پر پہرا لگا دیا گیا تاکہ کسی طریقے سے مقدمہ کی پیروی کیلئے کوئی شواہد مل سکے۔ شبیر اور زاہد کا یہ اقدام انتہائی سفاکانہ تھا۔ جیل میں کھڑے دونوں قاتلوں کو ذرا سا بھی ملال نہ تھا کہ انہوں نے کتنا بڑا جرم کر دیا ہے۔
اگر ملک میں بنائے جانے والے قوانین پر عمل درآمد کیا جائے تو کبھی بھی ایسے واقعات سامنے نہ آئیں۔ امیر کے سامنے قانون کوئی اہمیت نہیں رکھتا مگر غریب کو انصاف کے حصول کیلئے آج بھی اپنی بکریاں تک فروخت کرنا پڑتی ہیں۔ ملک میں آئین اور قانون کی بالا دستی قائم ہو اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا مکمل یقین ہو تو کبھی بھی کسی کو قانون شکنی کی جرات نہ ہوگی۔
ہم موٹر وے پر داخل ہوتے ہی کیوں ٹھیک ہوجاتے ہیں اپنی سپیڈ کم اور بیلٹ کیوں باندھ لیتے ہیں ؟ معلوم ہے کہ یہاں معافی نہ ہوگی۔ اگر شہر میں چور ی پر ایک شخص کا ہاتھ کا ٹ دیا جائے تو دوسرا چور پید انہ ہوگا۔ حکومت نے تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے مختلف اقدمات کیے جس میں تنخواہوں کا ڈبل کرنا بھی ہے مگر روایتی کلچر میں پھر بھی تبدیلی نہ آئی پولیس کے حوالے سے ایک کہاوت بڑی مشہور ہے کہ ہرن کی گمشدگی بارے جب ہاتھی کی تفتیش کی گئی تو وہ تھوڑی دیر بعد سر ہلا کر اپنے ہرن ہونے کا اقرار کرنے لگا اگر پولیس میں بہتر مانٹیرنگ سسٹم ہو ، دیانت داران افسران کو منتخب کیا جائے اور چیک اینڈ بیلنس ہو تو یقینا تبدیلی آئے گی۔
لوگ اپنی عدالت لگانے کی بجائے حصول انصاف کیلئے اداروں کے پاس جائیں گے معاشرہ میں جرم بڑھنے کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس روایتی کلچر سے انہیں انصاف نہیں ملے گا تو وہ خود عدالت لگا کر بڑا جرم کر بیٹھتے ہیں۔ اصلاحات کر مطلب ایسی اصلاح کرنا کہ تبدیلی آئے ہماری جیلیں جرائم پیشہ افراد کیلئے حوصلہ شکن کی بجائے حوصلہ بڑھا رہی ہیں۔
آج کی اس جدید ترین اور تیز ترین دور نے بھی ہماری جیلوں سے بھی جب موبائل فون برآمد ہو تو کیا یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ جیل میں بیٹھے خطرناک قیدی کیا کیا دھندے کرتے ہیں جن جرائم پیشہ افرا د کے پاس جیلوں میں موبائل کی سہولت ہو تو انہیں آزاد معاشرہ میں کیا کیا سہولتیں ہونگی۔ مجھے آج سابق DPO کامران خان کی بات یاد آرہی ہے کہ جب جھوٹے مقدمات کے خلاف سخت قانون کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا تو فرق نہیں پڑے گا۔
آج بھی جھوٹے مقدمہ کے اندراج پر دفعہ 82 کا قلندرا بنا کر بات ٹھپ کر دی جاتی ہے۔ پنجاب کے تھانوں میں جھوٹے مقدموں کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے ایک شریف آدمی کی جمع پونجی فروخت ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی جھوٹا مقدمہ درج کراتا تو اسکی اگر سزا 5 سال ہے تو وہ مقدمہ جھوٹا ثابت ہونے پر مقدمہ کرانے والے کو 1 تہائی حصہ کی قید بھگتنا پڑے تو تبدیلی آئیگی ورنہ چاہے جتنے مرضی لا منسٹر تبدیل کر لیں ، جتنی مرضی تبدیلیاں لے آئیں، جاگیر داروں کے ہاتھوں بے بس یہ لوگ ایسے ہی لوٹتے مرتے رہیں گے۔
گذشتہ حکومت کا 5 سال کا دورانیہ اور موجودہ اقتدار بھی مسلم لیگ (ن )کے پاس ہے۔ چلیں پہلے تو کسی حد تک بعض افراد یہ بات کہہ کر اپنا پہلو بچالیتے تھے کہ وفاق کام نہیں کرنے دیتا مگر اب کیا مجبوری ہے لوگوں کو انصاف کیوں نہیں مل رہا۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کسی دن اپنا حلیہ بدل کر صرف لائسنس کی گمشدگی کی رپٹ درج کرانے کیلئے ضلع خانیوال کے کسی بھی تھانے میں جائے تو پتہ چل جائے گا کہ کس طرح بال پوائنٹ اور لکھنے کیلئے کاغذوں کا دستہ محرر کیسے منگواتا ہے۔
خادم اعلی پنجاب میاں شہباز شریف یقینا عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں مگر جھوٹے مقدمات کے اندراج پر سخت قانون کے قیام کے بغیر ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ جلد از جلد ایسا قانون عمل میں لایا جائے جس سے کوئی بدمعاش کسی شریف آدمی کی پگڑی نہ اچھال سکے اور لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔
وقت اشاعت : 2014-11-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں