بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سماجی مضامین

- مزید مضامین
ریٹائرڈ سرکاری ملازم کی بڑھاپے کی مشکلات
سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر یہ جملہ عام طور پر بولا جاتاہے کہ باعزت ریٹائرمنٹ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایماندار سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ نہ صرف اس کیلئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے بلکہ ملک و قوم کو بھی اس پر فخر ہوتا ہے
سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر یہ جملہ عام طور پر بولا جاتاہے کہ باعزت ریٹائرمنٹ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایماندار سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ نہ صرف اس کیلئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے بلکہ ملک و قوم کو بھی اس پر فخر ہوتا ہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کتنے ایسے افراد ہیں جنہوں نے مملکت پاکستان کیلئے ایمانداری سے کام کیا۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے جن افراد کو پاکستان میں ایمانداری سے کام کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے حقوق بھی مکمل نہیں دئے گئے۔ وہ لوگ بااصول ہوتے ہیں ان کے ماتحت تو درکنار ان کے افسران اور صاحب اقتدار لوگ ان سے غلط قسم کے کام کرنے کی توقع نہیں رکھتے۔ ان کی ریٹائرمنٹ پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے وفادار ہوتے ہیں لیکن ان سے غلط توقعات پوری نہ ہونے پر انہیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حتیٰ کہ ان کی ریٹائرمنٹ پر یہ جملے سننے پڑتے ہیں کہ آپ نے کیا خود کسی کا کام کیا تھا جوآپ کی ریٹائرمنٹ کے کاغذات جلد مکمل کئے جائیں۔ انہوں نے دوران سروس پاکستان کی وہ خدمات سر انجام دی ہوئی ہیں جس پر ہر ایماندار آدمی فخر محسوس کرتا ہے۔ انہیں سرکاری وسائل کے تمام اختیارات دئے گئے لیکن انہوں نے اس کا غلط استعمال نہیں کیا حالانکہ اگر ان کو استعمال کرتے تو ریٹامنٹ کے وقت ان کے پاس دولت کے انبار لگے ہوتے انہوں نے اپنے عزیزواقارب کو اپنے محکمہ میں بھرتی نہیں کیا۔
اپنی اولاد کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوائی ان کی ملازمت کیلئے اپنے اختیارات کو استعمال نہیں کیا۔ اپنی چادر کے مطابق اخراجات کئے اور یہ نہیں سوچا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیرون ملک جائیداد تو درکنار وسائل کے باوجود اپنی اولاد کو یورپ نہیں بھیجا حتیٰ کہ میرٹ پر آنے کے باوجود ان کی اولاد کے کوٹے میں دوسرے افراد یورپ میں تعلیمی وظیفہ لیکر تعلیم حاصل کر کے آ گئے اور بڑی بڑی ملازمتیں حاصل کر لیں۔
ان کو بڑی بڑی گرانٹیں خرچ کرنے کیلئے دی گئیں ان کو اصول کے مطابق خرچ کیا اور جو رقم بچ گئی سرکاری خزانے میں جمع کرادی۔ عام طور پر انہیں دقیانوسی کنجوس اور کسی کے کام نہ آنے کے خطابات سے نوازا گیا۔ ان کے گھر کے افراد خانہ بھی ان سے ناراض رہے۔ انہیں زندگی میں اپنے گھر والوں سے بھی کئی مرتبہ طعنے سننے پڑے کہ آپ سے فلاں شخص بہتر ہے۔ وہ اپنے بال بچوں کیلئے کتنا مخلص ہے۔
اپنے بچوں کو مہنگے اور بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوا رہا ہے لیکن ایماندار آدمی پر دوران ملازمت ایک ہی دھن سوار ہوتی ہے کہ پاکستان کو ترقی دینی ہے اس کی دولت کو غلط کاموں میں استعمال نہیں کرنا۔ اس نے اس اصول کے تحت دوران ملازمت کام کیا لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد پیدا ہونے والی مشکلات کا ادراک نہیں جبکہ اصولوں کی زندگی کے بارے میں عاصی کرنالی فرماتے ہیں۔

کہتے جسے اصول ہیں سب سے فضول ہے
جیسے بھی بات بن جائے وہی اصول ہے
دوسری طرف وہ شخص جس کے اختیارات ایماندار آدمی کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں وہ پاکستان میں ایسے وسائل پیدا کر لیتا ہے جس کے مطابق اس کی اولاد اعلیٰ تعلیم نہ صرف پاکستان میں حاصل کر لیتی ہے بلکہ بیرون ملک سے اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر کے پاکستان میں آنا اپنی توہین سمجھتے ہیں وہاں پر جائیداد بنا لیتے ہیں اور پاکستانی نڑاد کہلاتے ہیں ان کی پاکستان میں بھی بڑی قیمتی جائیداد ہوتی ہے۔
اس شخص کو ریٹائرمنٹ پر نہایت شاندار طریقے سے خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ تمام لوگوں کو اس کی بے پناہ خدمات یاد آجاتی ہیں کیونکہ اس نے دوران ملازمت نہ صرف برسراقتدار طبقے کی جائز و ناجائز مطالبات پورے کئے بلکہ اپنے ماتحتوں کو بھی غلط کاموں سے منع نہیں کیا۔اس کے ریٹائرمنٹ کے کاغذات مکمل ہو کر باعزت طریقے سے گھر پہنچا دئے جاتے ہیں۔
اس کو بڑھاپے کی فکر بھی دامن گیر نہیں ہوتی۔ اب اس ایماندار کا بڑھاپے کا نقشہ ذہن میں رکھیئے جس نے پاکستان کو ترقی دینے کیلئے ساری عمر اپنی توانائیاں خرچ کر دیں۔ وہ بڑھاپے میں فالج، لقوہ، شوگر، ہارٹ جیسی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ حکومت وقت نے آج تک اپنے ان وفادار ملازموں کیلئے کچھ نہیں کیا۔ تین سال سے میڈیکل الاوٴنس میں اضافہ نہیں ہوا۔
یہ ایماندار آدمی نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو چاہئے ان ایماندار سرکاری ملازمین کیلئے ایسا انتظام کر دے کہ وہ نہ صرف ان بیماریوں سے نبردآزما ہو سکیں بلکہ پاکستان کے ان محسنوں کو ان کی خدمات کا صلہ مل سکے ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پاکستان کا ہر سرکاری ملازم پاکستان کی ترقی کیلئے کام کرنا اپنا فرض سمجھے بلکہ دنیا میں بھی پاکستان کا نام روشن ہو گا کہ وہ اپنے ایماندار ملازمین کی قدر کرے۔ ہمیں امید ہے آنے والے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے میڈیکل الاوٴنس میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا اور ان کی دعاوٴں کے صدقے پاکستان دشمنوں سے محفوظ رہے گا۔
تاریخ اشاعت: 2017-03-02

(0) ووٹ وصول ہوئے