بند کریں
جمعرات مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

بنوں

ریلوے پٹڑیاں بچوں کے لئے خطر ناک گزرگاہیں
ریلوے لائن عبور کرنے کے لئے دائیں بائیں ضرور دیکھا جاتا ہے اس لئے کہ کوئی ٹرین تو نہیں آرہی؟ اگر ٹرین آنے کا وقت ہو تو سگنل سے معلوم ہو جاتا ہے اور دور سے آنے والی ٹرین جا بجا ہارن بجاتی رہتی ہے
مظہر حسین شیخ:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا۔ انسان اگر غور کرے تو اس کی تخلیق بذات خود کسی نعمت سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ”کہ ہم نے انسان کو اچھی صورت میں پیدا کیا“ یعنی تمام مخلوقات سے خوبصورت۔قدرت نے انسان کو اشرف المخلوقات فرمایا۔ جو عقل و شعور اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطاکی وہ کسی دوسری مخلوق کونہیں۔
انسان نے اپنی عقل و دانش کے تحت ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے جو اس کا اشرف المخلوقات بننا ثابت کرتے ہیں۔ آج دنیا جس ترقی اور عروج پر ہے وہ قدرت کی عطاء کردہ عقل و شعوری ہے جس کی بناء پر آج ہم کائنات کا ذرہ ذرہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی بری وجہ یہ ہے کہ قدرت چاہتی تھی کہ اس کی بنائی ہوئی کائنات کا ظہور اور پھر اس کے ظاہر کرنے کے لئے اللہ نے انسان کو علم کی دولت سے مالا مال کیا جو سائنس اور ارضیات وغیرہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
”اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے“ القرآن۔ آج انسان جن نعمتوں سے مالا مال ہے یقیناً وہ قدرت ہی کا کرشمہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کوآنکھیں عطا کیں، ہاتھ پاؤں عطا کئے۔ آنکھوں کا کام ہاتھوں سے نہیں لیا جاسکتا اورہاتھ پاؤں کا کام آنکھیں نہیں کر سکتیں۔ جسم کے تمام اعضاء دماغ کے مرہون منت ہیں دماغ اجازت دیتا ہے تو جسم کے اعضاء حرکت میں آتے ہیں۔
ان میں سب سب زیادہ طاقتور دماغ ہے اسی دماغ کی وجہ سے انسان ہواؤں میں اڑنے لگانت نئی ایجادات نے جنم لیا، ہوائی جہاز، کاریں ، ریل گاڑیاں ایجاد ہوئیں جبکہ جدید ایجادات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اورقیامت تک جاری رہے گا۔ہوائی جہاز کے لئے ائیر پورٹ بنائے گئے، کاروں اور موٹر سائیکلوں یا دوسری ٹرانسپورٹز کے لئے سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ ریل گاڑیوں کے لئے پٹریاں تیار ہوئیں یہ کبھی نہیں ہوا کہ ائیرپورٹ پر گاڑیاں سڑکوں پر ہوائی جہاز چلتے ہوں، ریلوے پٹریوں پر ریل گاڑیوں کے علاوہ دوسری ٹرانسپورٹز کا چلنا بھی ناممکن ہے۔

انسان نے اپنی فلاح ترقی سہولیات اور تفریحات کے لئے لاتعداد اقدامات کئے جس کے لئے تفریحی پارک سیرو و تفریح کے لئے بنائے گئے ہیں کھیلنے کے لئے گراؤنڈ زجبکہ پیدل چلنے والوں کے لئے فٹ پاتھ بنائے گئے ہیں تاکہ کسی کوبھی کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے،لیکن دیکھا یہی گیا ہے یہاں قانون کی پاسداری بہت کم لوگ کرتے ہیں، بعض چھوٹے بچوں کو بھی خطروں سے کھیلتے دیکھا گیا ہے۔
انہیں سمجھانے اوران کی مناسب تربیت کرنے کی زمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے بچوں کو ابتدائی عمر میں اچھے بُرے کی تمیزکروانا لازمی ہے۔ ان کے لئے کیا بہتر اور کیا برا ہے؟ابتدائی سالوں میں سمجھانا ضروری ہے تاکہ بڑے ہو کر معاشرے کے اچھے شہری کہلائیں۔بچے تو بچے ٹھہر ے بعض بڑے بھی قانون کی پابندی نہیں کرتے،موٹر سائیکل پر دو بچوں کی گجائش ہوتی ہے لیکن دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ موٹر سائیکل پر پانچ چھ بچے سوار ہوتے ہیں اگر خدا نخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجائے تو قصور وار حکومت کو ہی ٹھرایا جاتا ہے حالانکہ اس میں حکومت کاکوئی قصور نہیں، اس میں سراسر ہمار اپنا ہی قصور ہے دوسری طرف سکول وین پر بھی گنجائش سے زیادہ بچے بیٹھتے ہیں۔
یہی حال بسوں اوردوسری ٹرانسپورٹزکا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ ایسے ڈرائیوروں کا سختی سے نوٹس لے۔ تاکہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بچے بڑوں سے اثر لیتے ہیںآ ج کل کے بچے بہت سمجھ دار ہیں اور چھوٹی سی عمر میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ لیکن یہ کیا؟ یہ تو خطروں سے کھیل رہے ہیں۔ ریلوے لائن کو ان بچوں نے شاید پارک سمجھ رکھا ہے۔
کوئی ریلوے کی پٹری پر نہا رہا ہے کوئی بڑے مزے سے بیٹھا آرام کر رہا ہے۔والدین کی اولین زمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اورایسی جگہوں پر مت کھیلنے یا جانے دیں جہاں خطرہ ہو سب سے خطرناک ریلوے لائن ہے،یہاں ارد گرد کی آبادیوں کے بچے بلا خوف وخطر چلتے پھرتے اور کھیلتے نظر آتے ہیں خبردار! ریلوے لائن کے قریب جاناخطرے سے خالی نہیں گاڑی کی رفتار اس قدر تیز ہوتی ہے کہ گاڑی کے چند گز کے فاصلے پرکھڑے ہو کراس کے خوفناک پریشر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالی نے آنکھیں اس لئے عطا کی ہیں کہ ہر کام دیکھ کر کیا جائے اوراتنا طاقتور ذہن اس لئے عطا کیااورسوچنے سمجھنے صلاحیت دی تاکہ ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ لیکن بچے ان سے بے خبر اپنی دھن میں مست ہیں اور بڑے آرام سے ریلوے لائن کے برابر اور درمیان میں ٹہل رہے ہیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کھیل رہے ہوں کوئی بھی بچوں کوکھیل کود سے منع نہیں کرتا،لیکن اس کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب ضروری ہے،جس سکول میں زیر تعلیم ہیں یقیناً وہاں کھیلنے کے لئے گراونڈ ہوگی وہاں کھیل سکتے ہیں جہاں رہائش پذیر ہیں وہاں قریبی گراونڈ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
ریلوے لائن صرف اور صرف ریل گاڑی کے لئے ہے، جہاں پیدل چلنے اورریڈ سگنل پر لائن عبور کرنے سے ایک نہیں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں نا خوشگوار واقعات پیش آچکے ہیں۔کھیل کود میں حصہ لینا یا آپس میں مل بیٹھ کر کھیلنا، بچوں کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ کھیل کود سے بچوں کی جسمانی نشوونما ہوتی ہے لیکن کھیلتے وقت مناسب جگہ کا انتخاب کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ایسی جگہ مت کھیلیں جہاں نا خوشگوار واقعہ پیش آنے کا ذرا سا بھی خطرہ ہو۔ شہروں میں مین روڈ اور گلی محلے میں ایسی جگہ کرکٹ کھیلی جاتی ہے جہاں اردگرد کے مکانات میں لگے شیشے ٹوٹنے کا خطرہ رہتا ہے جبکہ مین روڈ اور فٹ پاتھ پر کھیلنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ کھلے میدانوں اور پارکوں میں کھیلنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ ہاں البتہ لڈو اور کیرم یہ گلی محلے میں اپنے ہم عمر دوستوں کے ہمراہ کھیلا جاسکتا ہے۔
شہروں اور دہی علاقوں میں ہر جگہ ریلوے لائنیں بچھی ہوئی ہیں جس پر ر یل گاڑی چلتی ہے شہری آبادی میں جب ٹرین نے گزرنا ہو تو پھاٹک بند کردیے جاتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں پھاٹک نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں عوام کو آگاہی مناسب انتظامات اور قوانین بنائے گئے ہیں۔ان قوانین پر پابندی نہ کرنے سے آئے روز ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ریلوے لائن عبور کرنے کے لئے دائیں بائیں ضرور دیکھا جاتا ہے اس لئے کہ کوئی ٹرین تو نہیں آرہی؟ اگر ٹرین آنے کا وقت ہو تو سگنل سے معلوم ہو جاتا ہے اور دور سے آنے والی ٹرین جا بجا ہارن بجاتی رہتی ہے۔
صبح کے وقت ان ریلوے لائنوں میں رش ہوتا ہے ایک تو سکول ٹائم جبکہ دوسری طرف محنت مزدوری کرنے والے الصبح اپنے کاموں پر جانے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ ان کے راستے میں ریلوے لائن ضرور آتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جلد بازی سے کام نہ لیا جائے اور قوانین کی پاسداری کی جائے۔ دائیں بائیں دیکھنے کے بعد جب مکمل اطمینان ہو جائے کہ دور دور تک ٹرین کا کوئی نام و نشان نہیں اس وقت لائن عبور کرنی چاہئے۔

ننھے منے دوستو! اللہ تعالی کی عطا کردہ ہے زندگی بہت خوبصورت ہے یہ بھی درست ہے کہ یہ صرف ایک بار ملتی ہے۔ ہر کوئی زندگی سے پیار کرتا ہے۔ اس کی حفاظت کرنااور اسے خوبصورت طریقہ سے گزارنا آپ کا کام ہے۔ حکومت نے اپنی طرف سے بہت سے اچھے اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی جگہ پر پھاٹک لگوانا حکومت کا کام ہے لیکن ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور انکو پورا کرنا حکومت کے ساتھ ساتھ ہمارا فرض بھی ہے۔ اس جگہ مت کھیلیں جہاں زندگی جانے کا خطرہ ہو۔ ذراسی لا پروائی اور جلد بازی کی وجہ سے کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان