بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پسند کی شادی کرنے والے جوڑے پر زمین تنگ
سماج میں بدنامی کا بدلہ لینے کیلئے اہلخانہ اکثر و بیشتر دونوں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی جان لینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ عمل لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ہوتا ہے
صابر بخاری:
وطن عزیز پاکستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو نشان عبرت بنانے کے واقعات اکثر وبیشتر دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ معاشرتی اور سماجی سطح پر پائے جانے والے گیپ کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیوں میں گھروں سے بھاگ کر شادی کے رحجان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سماج میں بدنامی کا بدلہ لینے کیلئے اہلخانہ اکثر و بیشتر دونوں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی جان لینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔
اکثر یہ عمل لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ معاشرے میں زیادہ طعنے اسی کو سننے پڑتے ہیں اور وہ معاشرے میں ایک جرم بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اگر والدین لڑکی اور لڑکے سے شادی سے قبل ان کی رائے لے لیں جس کی اسلام بھی اجازت دیتا ہے۔ تو پریمی جوڑوں کے قتل میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی۔ دوسرا معاشرے کو دکھانے کیلئے جھوٹی انا کی تسکین کیلئے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو ابدی نیند سلا دینا نہ تو قانون اور نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔
سماج میں لوگوں کے طعنوں کی فکر کرنے لگ جائیں تو یہ انسان کا جینا محال کر دیں گے۔ لوگ کسی حال میں خوش نہیں ہوسکتے۔ہمارے ہاں منفی باتوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور بلاوجہ تنقید ہمارا بہترین مشغلہ ہے۔ اس لئے والدین کولوگوں کی خواہش کے برعکس اپنے فیصلے صادر کرنے چاہیں، امیر اور غریب سمیت تمام طبقاتی تفرقات کو پس پشت ڈالتے ہوئے احکام اسلامی کے مطابق بچوں کی شادیاں ان کی رضامندی سے کریں تو خاندان سکھی رہیں گے۔
نہیں تو تھانے، عدالت کے چکر کاٹتے کاٹتے ایک تو بدنامی الگ ہوتی ہے اور دوسرا روپیہ پیسہ کا بھی بہت ضیاع ہوتا ہے اور جو لوگ جھوٹی انا کی تسکین کیلئے اپنے جگر گوشوں کو قتل کر دیتے ہیں ان کو ساری زندگی صرف پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ملتا۔ ان دنوں میانوالی کا رہائشی پسند کی شادی کرنے والا جوڑا لڑکی کے گھر والوں کے جارحانہ عزائم سے زیرعتاب ہے جنہوں نے محبت کی شادی کی پاداش میں پریمی جوڑے اور لڑکے کے گھر والوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔
میانوالی کے علاقہ کندیاں کے رہائشی اعجاز احمد کی بہن کی شادی سے قیصر حیات ملک سے ہوئی اوراس کی بہن رخسانہ کی منگنی اعجاز احمد سے طے پائی۔ اعجاز احمد کی بہن ڈیڑھ سال قبل گھریلو ناچاقی پر سسرال چھوڑ کر میکے چلی آئی جس کے بعد اس کے سسرال وٹہ سٹہ کے تحت طے پانے والے رشتہ سے انکاری ہو گئے اور انہوں نے اعجاز احمد کو رشتہ دینے کی بجائے لڑکی کی شادی کسی اور خاندان میں کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
مبینہ طور پر وہ لڑکا نشئی تھا اور رخسانہ اس سے شادی کی خواہاں نہیں تھی مگر اس کے والدین زبردستی اس کی شادی اس شخص سے کرنے پر بضد تھے۔ رخسانہ نے والدہ کی رضامندی سے اپنے منگیتر اعجاز احمد طاہر سے گزشتہ ماہ کی سولہ تاریخ کو میانوالی یونین کونسل میں نکاح کر لیا۔ جس کے بعد لڑکی نے مجسٹریٹ میانوالی کے پاس پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا کہ اس نے رضامندی سے اعجاز احمد سے شادی کی ہے۔
اسے کسی نے اغوا نہیں کیا وہ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔ اس کے بعد رخسانہ ایڈیشنل سیشن جج پپلاں میانوالی کی عدالت میں پیش ہوئی اور مقامی پولیس کیخلاف ہراساں کرنے کی درخواست دی۔ جس پر عدالت نے مقامی پولیس کو حکم دیا کہ وہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو ہراساں نہ کرے جس کے تمام کاغذات تھانہ سٹی میانوالی پہنچا دیئے گئے۔ اس کے باوجود پولیس نے 29.4.15 کو مقدمہ نمبر 211 درج کر لیا۔
جس کے بعد پولیس نے لڑکے کے گھر والوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔ رخسانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ جب تھانہ سٹی رابط کیا گیا تو ایس ایچ او وہاں موجود نہیں تھے محرر طاہر اقبال نے کیس کے بارے میں بتایا کہ جوڑا جب شامل تفتیش ہو گا تو کاروائی کا اگلہ مرحلہ شروع ہو گا۔عدالت کی طرف سے انکو باقاعدہ احکامات موصول نہیں ہوئے ۔
پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کوتحفظ فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں پولیس اپنا اہم کردار ادا کرے۔لاہور کے علاقہ تاج پورہ میں مبینہ طور پر شوہر نے بیوی کو جلا ڈالا ۔ جب تھانہ تاج پورہ کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بیوی شوہر سے جھگڑ کر میکے جا چکی تھی۔اس کی ایک ٹانگ دودھ گرنے سے خراب ہوئی تھی۔پوسٹمارٹم رپورٹ میں اس کی موت جلانے سے نہیں ہوئی۔
تاج پورہ دھرم پورہ اس طرف کے کافی علاقے پسماندہ ہیں۔جہاں پر خواتین کو تشدد بنانے کے واقعات عام ہیں۔کچی آبادی کی وجہ سے جرائم بھی زیادہ ہیں۔یہاں پولیس جرائم پیشہ افراد سے منتھلی لے کر جرائم کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ڈی ایس پی تاج پورہ میاں شفقت سے جب علاقے میں جرائم کے حوالے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا یہ کافی پسماندہ ،تعلیمی معیار بھی بہت کم ہے اکثر مزدور طبقہ یہاں رہتا ہے جو معمولی باتوں پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔
معاشی مسائل بھی ان علاقوں میں بہت زیادہ ہیں۔خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا معمول ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی پوسٹنگ سے جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔کئی مقدمات کے ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔خاتون کے جلنے کی بھی مکمل تفتیش ہوگی جس کے بعد اصل حقائق منظر عام پر لائیں گے۔ا
تاریخ اشاعت: 2015-05-14

(1) ووٹ وصول ہوئے