بند کریں
جمعہ مارچ

مزید سماجی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نونہالوں سے مشقت لینے کی بجائے انہیں زیورتعلیم سے آراستہ کرنے کا خواب
اعلیٰ سیاسی، سماجی،شخصیات سے یہ جملے اکثر سننے میں آتے ہیں کہ بچے ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں،بچے پاک وطن کا روشن مستقبل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے مستقبل کے معمار ہیں اُنہوں نے ہی کل کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے،
مظہر حسین شیخ:
ماہ نومبر۔ تیسرے ہفتے کے آغاز سے قبل یعنی 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایاجاتا ہے،اس موقع پرسرکاری سطح پر بچوں کی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے،بچوں کی فلاح وبہبود کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔تقریبات میں اعلیٰ شخصیات کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے جو کبھی بھی وقت مقررہ پر نہیں پہنچے،سوائے حکیم محمد سعید کے،وہ وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھتے تھے،ہمدرد نونہال اسمبلی کے بچے جو آج پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اس بات کے گواہ ہیں کہ حکیم صاحب نے بچوں کو یہی سکھایا کہ وقت کی قدر کرو گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔
آج وہ ہم میں نہیں لیکن آج بھی ان کے سنہری اقوال پر عمل کیا جاتا ہے اورہر ماہ ہمدرد نونہال اسمبلی کا اجلاس اسی طرح ہوتا ہے جس میں بچے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں۔
اعلیٰ سیاسی، سماجی،شخصیات سے یہ جملے اکثر سننے میں آتے ہیں کہ بچے ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں،بچے پاک وطن کا روشن مستقبل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے مستقبل کے معمار ہیں اُنہوں نے ہی کل کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی معاشرے کے معیار کو جانچنے کے لیے وہ اپنے بچوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں اگر اس معیار پر پرکھا جائے تو پاکستان میں خاص طور پر بچوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ ہر لحاظ سے افسوس ناک ہے۔
جنہیں ہر قدم پر بھوک ، بیماری ، نااُمیدی اور لاچاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی بچوں کے عالمی دن کے موقع پر تقاریب کا اہتمام کیا گیا، ایک تقریب میں صوبائی وزیر پنجاب حمیدہ وحیدالدین نے کہاکہ حکومت بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کررہی ہے اور ان کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہی ہے اُنہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی اوربچوں کے حقوق کاقریبی تعلق ہے ایک تعلیم یافتہ اورمعاشی طور پربااختیار خاتون اپنے گھر، خاندان کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشرتی ومعاشی ترقی کے لئے بہتر طور پر کام کر سکتی ہے۔
اُنہوں نے کہاکہ متعلقہ اداروں کی مشاورت سے ریلیف فنڈ قائم کئے جائیں گے،انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لئے گھروں اور معاشرتی ماحول کوبہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سال بھی بچوں سے مشقت کا کام لینے کے خلاف دن منایا۔اور اُس دن ہمیشہ کی طرح این جی اوز، مزدور تنظیموں نے اس موقع پر تقاریر کیں۔ ریلیاں نکالی گئیں اور ہمارے سیاستدان اپنی عادت کے مطابق وعدے کرتے ہیں۔
اگر آج ہم بچوں سے جھوٹے وعدے کریں گے تو آپ خود ہی سوچ لیں کہ کل کو ان سے کیا اُمید رکھی جاسکتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت صرف پاکستان میں 250کروڑ بچے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں جبکہ اکثر والدین کو جو احساس محرومیوں کا شکار رہ چکے ہیں اپنا پیٹ کاٹ کے ڈبل نوکریاں کر کے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے دیکھا گیا ہے۔
عالمی مزدورں کی تنظیم ILO کے مطابق پوری دنیا میں 168 ملین بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں ان میں سے 85 ملین ایسے کاموں سے منسلک ہیں جن میں جان کا خطرہ ہے۔
پاکستان میں تقریبا 1.5 ملین مشقتی بچے ہیں جن میں سے کروڑوں بچوں کی عمر 10سال کے قرب یا اس سے کچھ زیادہ ہے،ہمارے ہمسائے ملک بھارت میں یہ تعداد 44 ملین سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
بچوں سے مشقت کے حوالے سے زراعت اور صنعتی شعبے سر فہرست ہیں۔ جہاں بچوں سے 10-12 گھنٹے تک کا م لیا جاتا ہے۔انہیں نہ صرف نہایت گندے ماحول میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے بلکہ ان پر بے پناہ تشدد بھی کیا جاتا ہے۔
ان بچوں کو بہت ہی کم اجرت دی جاتی ہے اور ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جہنیں اْن کے والدین غربت کے ہاتھوں تنگ آکر فروخت کر دیتے ہیں۔ بچوں کے خلاف جرائم میں بردہ فروشی کی لعنت بھی عام ہے۔ جس میں معصوم اور بے سہارا بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کر دیا جاتا ہے۔ملک میں موجود بہت سے تنظیمیں اور اداروں نے بچوں کے خلاف جرائم پر تحقیق کے نتیجے میں اس کی بڑی وجوہات میں تعلیم کی کمی، آبادی میں بے تحاشہ اضافہ، بے روزگاری اور غربت کو قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں ممالک کے درمیان جنگیں بچوں کے لیے بہت ہی مہلک ثابت ہوتی ہیں۔ کیونکہ جارحیت کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے جس وجہ سے بہت سے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم کیئر کے مطابق 50 ہزار بچے لبنان میں کام کر رہے ہیں اس طرح اردن میں تقریباً 6 لاکھ مہاجرین کی موجودگی سے وہاں پر بچوں سے مشقت لینے کا کام دوگناہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر آئی ایم ایف اور عالمی بینک دنیا میں غربت کے خاتمے کے بارے میں بلند و بالا دعوے تو کرتی ہے مگر عملی طور پر کچھ کرنے کی بجائے ترقی پذیر ممالک میں SUBSIDY یعنی اشیاء سرف کی قیمیں کم رکھنے کی غرض سے حکومت کی طرف سے دی جانے والی رعائیت کو ختم کرکے غربت میں اضافے کے اسباب پیدا کرتی ہے۔عالمی سطح پر تجارت کے سلسلے میں بچوں سے لی جانے والی مشقت کے خلاف پابندیاں لگانے کوکوئی تیار نہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جو کہ انسانی حقوق کے سلسلے میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن اپنے مفاد کے حصول کے لیے کسی بھی اصول کو قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔حال ہی میں گلو کار علی ظفر نے پچاس بچیوں کا پڑھانے لکھانے کی زمہ داری لی ہے۔اگر ہر صاحب حیثیت یہ زمہ داری لے لے تو معاشرے کا ہر فردکارآمد شہری بن سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-27

(0) ووٹ وصول ہوئے