تازہ ترین : 1
Nai Nasal

نئی نسل

ہماری اقدار کی محافظ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے اپنی روایات‘ تہذیب وتمدن سے آشنا کرنا ضروری ہے

سید اطہر حسین:
قوموں کی شناخت ان کی اقدار ، تہذیب ، تمدن اور روایات سے ہوتی ہیں، جو اقوام اپنے تاریخی ورثے کے زیر سایہ اپنی نسل کو کر پروان چڑھاتی ہیں وہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہتی ہیں، کیونکہ ہر قوم کی بقا وسالمیت اسی میں ہے کہ وہ اپنی روایات واقدار اپنی نئی نسل کو درجہ بہ درجہ منتقل کرتی رہے، کیونکہ روایات تہذیب وتمدن ہی قوموں کی شناخت ہوتی ہیں اور نوجوان ملک وقوم کو بام عروج پر پہنچانے کے ساتھ تہذیب و تمدن کے بھی وارث و محافظ ہوتے ہیں، ہماری نسل نو اس وطن عزیز کا اہم حصہ ہے جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ باشعور بھی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بڑی محنت و لگن کے ساتھ تمام شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہے ، لیکن انہیں اپنی درخشاں تاریخ، ثقافت، زبان وتہذیب سے آگہی بھی ضروری ہونی چاہیے۔
ان کی اہمیت کیا ہے ۔ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے، جہاں وہ زندگی کا پہلا سبق سیکھتا ہے ، اخلاقی تربیت حاصل کرتا ہے، وہ جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے جس طرح کی پرورش پاتا ہے، اس ا ثر اس کی شخصیت اور سوچ پر بھی پڑتا ہے، وہ ابتدا میں اپنے والدین کی عادات واطوار ان کی حرکات وسکنات کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے والدین جیسا ماحول اسے مہیا کرتے ہیں وہ اس میں ڈھلنے کی کوشش کرتا ہے، اس ضمن میں والدین کی مثال ایک کمہار کی سی ہوتی ہے وہ جس سانچے میں بچے کو ڈھالیں گے وہ اسی سانچے میں ڈھل جائیں گے جب دور حاضر میں والدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ نسل نوان کی بات نہیں سنتی ، کہنا نہیں مانتی یا بد اخلاق ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ملنے والی تربیت میں کمی ہے، اگر نوجوان اخلاقی پستی کا شکار ہیں تو اس حوالے سے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچپن ہی میں اپنی اولاد کو ایسی تربیت دیں کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اطوار کے مالک ہوں، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ گھر کے تمام افراد کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔
کھانے پینے کے آداب بڑوں سے بات کرنے کا طریقہ پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں انہیں اچھی طرح سمجھانا چاہیے، اگر والدین اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے انجام دیتے ہیں، اپنی اولاد کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ نوجوان غیر مہذب یا کام یاب اور بااخلاق شہری بنانے میں معاون ثابت ہوگی والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ نسل نوکی اخلاقی تربیت کریں، انہیں صرف درسی تعلیم نہ دیں بلکہ اپنی تہذیب وتمدن اور روایات سے بھی آشنا کرائیں۔
اچھے استاد کی صحبت کسی بھی انسان کی زندگی بدل سکتی ہے، ایک استاد بچے کی کردار سازی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اساتذہ سے صرف درسی تعلیم ہی نہیں حاصل کی جاتی بلکہ وہ اخلاقی تربیت بھی کرتے ہیں، ان کی ہر بات کا طلبا پر گہرا اثر ہوتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ استاد کو اپنا کردار اپنی شخصیت ہمیشہ مثالی رکھنی چاہیے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل نہ استاد اپنی ذمہ داریاں بہتر طور سے ادا کررہے ہیں اور نہ ہی نوجوان ان کا ادب کرتے ہیں مگر اس میں صرف نوجوان کو مورد الزام ٹھہریانا قطعی درست نہیں ہے۔
آج کل بچے بھی یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے والدین کے پاس ان کے لئے مناسب وقت ہی نہیں ہے ظاہر ہے جب تک والدین اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دیں گے ان کے ساتھ وقت نہیں گزاریں گے انہیں تمیز وتہذیب نہیں سکھائے گے تب تک نسلِ نو اپنی تہذیب ، اقدار یا روایات کیسے سیکھے گی ۔ یہ وہ چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے نوجوان تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں جب گھر میں ساز گار ماحول نہیں ملتا تو وہ انٹرنیٹ، موبائل فون وغیرہ کی طرف مائل ہوجاتے ہیں تو والدین شکایت کرتے ہیں کہ نوجوان ان کی بات نہیں سنتے ۔
ہم اپنی اقدار وتہذیب کو اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کررہے ہیں ۔ نسل نو تک ہماری روایات اقدارو تہذیب منتقل نہیں ہورہی ہیں، اس ضمن میں نوجوانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کیلئے وقت نکالیں کچھ دیر گھر کے بزرگوں بڑوں کے ساتھ گزاریں ان کے تجربات کی روشنی میں زندگی گزارنے کے اطوار سیکھیں اپنے اندر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ بڑوں یا اساتذہ کی ڈانٹ کو غنیمت جانیں اور اپنی اصلاح کریں، ہماری ثقافت ہماری پہچان ہے اسے زندہ رکھنا ہر فرد بالخصوص نسلِ نو کی ذمہ داری ہے۔
وقت اشاعت : 2018-01-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں